تازہ ترین

4 ماہ سے مذاکرات، منت سماجت سے معاملہ حل کرنےکی کوشش کی، نور الحق قادری

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر برائے مذہبی نور الحق قادری نے لاہور میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور پولیس کے مابین چھڑپوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق کہا ہے کہ گزشتہ 4 مہینے سے مذاکرات اور منت سماجت سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی، کوئی بھی جمہوری حکومت سانحہ یتیم خانہ چوک کی متحمل نہیں ہوسکتی،سانحہ یتیم خانہ چوک پر جتنا افسوس اپوزیشن اراکین اسمبلی کو ہے، اتنا ہی درد حکومتی بینچ پر موجود اراکین کو بھی ہے۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نور الحق قادری مذکورہ معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ نے مختصر انداز میں پالیسی بیان دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جمہوری حکومت سانحہ یتیم خانہ چوک کی متحمل نہیں ہوسکتی۔وفاقی وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ حکومت نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران اس معاملے کو مذاکرات اور منت سماجت کے ذریعے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے معاملے کو بہتری کے ساتھ سلجھانے کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوششیں کیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ معاہدے کی رو سے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لانے کے پابند ہیں۔نور الحق قادری نے کہا کہ آپ آجائیں اور اسپیکر قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی نامزد کرے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہو۔انہوںنے کہاکہ کمیٹی کے سامنے وہ اپنا مو¿قف پیش کریں اور وزارت خارجہ اور خارجی امور کے ماہرین اپنی رائے بھی دے دیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم علمائے کرام کا اخترام کرتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی کا تعین حکومت وقت اور پارلیمنٹ کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں کمیٹی کو قائل کرنے اور ڈرافٹ پیش کرنے کا کہا تھا۔نور الحق قادری نے کہا کہ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی حکومت کو من و عن قبول ہوگا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہمارے ان کے ساتھ معاملات یہاں تک پہنچے تھے کہ اس دوران ایک ویڈیو کے ذریعے 20 اپریل کی کال دے دی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس لیے حکومت کی ذمہ داری تھی کہ شاہراو¿ں کو کھلا رکھا جائے اور معمولات زندگی متاثر نہ ہو۔ انہوںنے کہاکہ ہماری پالیسی مذاکرات پر مبنی ہے، مفاہمت کے دو دور ہوچکے ہیں ،19 اپریل کو تیسرا دور نماز تروایح کے بعد ہوگا۔نور الحق قادری نے ا±مید ظاہر کی کہ کوشش کریں گے کہ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہش کے مطابق مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ناموس رسالت کو جتنا تحفظ وزیر اعظم عمران خان نے فراہم کیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوںنے کہاکہ اللہ نے یہ سعادت عمران خان کے حصے میں لکھی ہے۔قبل ازیں وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے،صبح تین بجے میٹنگ ختم ہوئی ہے اور کچھ دیر بعد دوبارہ شروع ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ ختم نبوت کے معاملے پر ہم لبیک سے پیچھے نہیں ہیں،وزیر مذہبی امور پالیسی بیان دیں گے۔وزیر داخلہ کے بیان پر جے یو آئی اور ن لیگ کے رکنوں نے شورشرابہ کیا ۔ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ میڈیا پر احتجاج کے معاملے پر بلیک آو¿ٹ ہے،پورا ملک افواہوں کی زد میں ہے،وزیر داخلہ ایوان کی توہین کرکے ایوان سے چلے گئے ہیں۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ حکومت کو سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کیا ہورہا ہے،وزیر داخلہ کے گھر کے سامنے کیا ہورہا ہے،کیا حکومت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے دور میں ڈنمارک میں توہین آمیز خاکے بنائے تو ہم نے یوم عشق رسول منایا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کا کام ہوتا ہے کہ وہ دلوں کو جوڑے،کس نے آپ کو اختیار دیا کہ معاہدہ کریں؟کیا وہ معاہدہ ایوان میں لایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اپنی زمہ داری میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے،ٹی وی پر بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں،حکومت کے ترجمانوں کی گز گز کی زبانیں ہیں،ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے،اس سے زیادہ فاشسٹ حکومت آئی ہی نہیں،وزیراعظم کو ایوان میں ہونا چاہیے تھا،وزیر اعظم پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے۔مولانا عبد الشکور نے کہاکہ کیا وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہوکر نہیں کہا تھا جلاو¿ جلاو¿،اسی کام کے بدلے میں ان کو وزارت دی گئی،پندرہ سو توہین کی ایف آئی آر درج ہیں، حکومت نے کچھ نہیں کیا، وزیر داخلہ ایوان کا سامنا نہیں کرسکتا،ہم تحریک لبیک کے ساتھ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت بتائے کہ فرانس کے ساتھ ہے یا عاشقان مصطفی کے ساتھ ہیں۔وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ اس بات میں دو رائے نہیں کہ سب کے جذبات عاشق رسول کے ہیں۔وزیر مملکت علی محمد خان نے تقریر کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ کیا ،پالیسی بیان دو کے اپوزیشن کے نعرے ،اسپیکر کی جانب سے اپوزیشن کو خاموش رہنے کی تنبیہ کی گئی ۔ اسد قیصر نے کہاکہ اگر خاموشی اختیار نہ کی گئی تو اجلاس ملتوی کردوں گا۔اپوزیشن کے شور کے باعث اسپیکر نے اجلاس جمعرات دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*