تازہ ترین

22 سال جدوجہد یا دربدر

رانا اکرم ربانی
پہلے وقتوں کی بات ہے میں اپنے Medical Follow up کیلئے امریکہ گیا۔ ہسپتال سے واپسی پر ایک دو دن کیلئے نیویارک اپنے ایک بہت ہی پیارے دوست عابد حسین (مرحوم) کے پاس رک گیا۔ دوپہر کو ہم لنچ کرنے شاہین ریسٹورنٹ جیکسن ہائٹ جارہے تھے۔ کار پارک کرنے کے بعد پیدل ہی سڑک کراس کرکے ابھی ہم ریسٹورنٹ میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ پیچھے سے آواز آئی ”رانا صاحب!“ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو نیویارک میں پاکستانیوں کے ہردلعزیز اور ہمارے پرانے دوست شفقت تنویر تھے۔ وہ پاکستان ایسوسی ایشن نیویارک کے صدر بھی تھے۔ انہوں نے سائیڈ پر گاڑی روکی، اترے اور بڑی گرمجوشی سے ملے اور بڑی اپنائیت سے شکوہ بھی کیا کہ آپ آتے ہیں ہمیں بتاتے بھی نہیں۔ دوستوں کا اصرار ہے کہ آپ کے ساتھ ایک شام منائی جائے۔ میں نے کہا کہ بڑاشارٹ وزٹ ہوتا ہے لیکن بشرط زندگی کبھی آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان فنڈ رائزنگ کیلئے آئے ہیں۔ آج کی شام ان کے نام ہے۔ آج بومبے پلیس (ایک اچھا انڈین ریسٹورنٹ تھا) میں آپ بھی تشریف لائیں۔ دوست اکٹھے ہوں گے سب سے ملاقات بھی ہوجائے گی۔ میں نے وعدہ کیا کہ ان شاءاللہ ضرور حاضر ہوجاﺅں گا۔ حسب وعدہ میں اور عابد حسین پہنچ گئے لیکن ذرا تاخیر سے، ہمارے پہنچنے سے پہلے عمران خان تشریف لے آئے تھے اور سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ حفیظ اللہ خان نیازی جو ان دنوں ان کا سایہ تھے اور ہمارے ایک دوست حفیظ خان (پنجاب یونیورسٹی یونین کے سابق صدر) وہ بھی ساتھ تھے۔میرے داخل ہوتے ہی ڈاکٹر رفیق صاحب مرحوم جو غالباً پہلے پاکستانی ڈاکٹر تھے جو امریکہ گئے تھے، ہر ضرورت مند پاکستانی کیلئے ان کے گھر کے دروازے ہی اور دل کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے تھے، جس کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی میں ان کا بہت عزت اور احترام تھا۔ پاکستان میں بھی اپنے آبائی علاقے (ان کا تعلق موجودہ کے پی کے سے تھا) میں میڈیکل کیمپ لگاتے تھے۔ میں بھی بطور وزیر صحت پنجاب وزٹ کرتا تھا۔ دوائیاں اور ڈاکٹر صاحبان کو بھی ساتھ لے جاتا تھا کیونکہ جب میں وزیر صحت پنجاب کا حلف لینے کے بعد نیویارک گیا تو انہوں نے مجھے دعوت پر بلایا تھا اور مجھے اس سے آگاہی فراہم کی تھی۔ میں نے آفتاب خان شیرپاﺅ جو اس وقت وزیراعلیٰ کے پی کے تھے کو بھی درخواست کی چنانچہ ہم سب ڈاکٹر صاحب کی خدمات کے پیش نظر ان کے حکم کے منتظر رہتے تھے۔ وہاں ان کے ساتھ امریکی ڈاکٹر بھی آتے تھے اور ہر مستحق کا علاج معالجہ ہوتا تھا۔
وہ مجھے دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ میں یہاں رانا اکرام ربانی کو دیکھ رہا ہوں، میں چاہوں گا کہ ہم ان کی باتیں سنیں۔ وہ ہمیشہ حقائق پر بات کرتے ہیں۔ خان صاحب کا کرکٹ کا بہت وسیع تجربہ ہے لیکن رانا صاحب پاکستان کی سیاسی تاریخ ہیں۔ میں نے اس پر احتجاج کیا کہ ڈاکٹر صاحب میں آپ کی عزت افزائی کرنے کا ممنون ہوں لیکن یہ کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں کہ آج خان صاحب کے علاوہ کوئی اور بات کرے لیکن تقریباً سارے مہمان کھڑے ہوگئے اور ڈاکٹر صاحب کے مطالبے کی حمایت کی۔ عمران خان نے بھی بادل نخواستہ کہا کہ رانا صاحب جب دوستوں کا اصرار ہے تو آپ ان سے بات کرلیں۔ چنانچہ میں سٹیج پر آگیا اور روسٹرم پر کھڑا ہوکر کہا کہ میں کیا بات کروں؟ آپ کے ذہنوں میں جو سوال وطن عزیز کے بارے میں ہیں میں اپنی سمجھ اور صلاحیت کے مطابق ان کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔
جنرل مشرف کا دور تھا، کچھ داخلی صورتحال کے بارے میں سوال، کچھ ممکنہ مستقبل کے بارے میںساﺅتھ ایشیا میرا مضمون رہا ہے۔ چنانچہ علاقائی اور بین الاقوامی خصوصاً مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کی۔ کوشش یہی رہی کہ کم سے کم وقت لوں تاکہ خان صاحب کو لوگ تفصیل سے سن سکیں۔ خان صاحب نے زیادہ بات معاشی صورتحال اور اس کے اثرات پر کی۔ پھر سوال جواب شروع ہوئے۔ پہلا ہی سوال جو ہوا، وہ میں سمجھتا ہوں کہ بہت غیرمناسب تھا کہ اگر خدانخواستہ آپ برسراقتدار آجاتے ہیں تو کیا ضمانت ہے کہ ہمارے راز اسرائیل کے پاس نہیں جائیں گے اور ہماری سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی؟
(اس وقت جمائمہ خان ان کے ساتھ رہ رہی تھی۔) خان صاحب آگ بگولہ ہو گئے (مجھے تعجب ہوا کہ یہ سوال تو متوقع تھا) اور سوال کرنے والے کی ایسی تیسی کر دی۔ ہال میں عجیب کشیدگی پیدا ہو گئی۔ بہرحال کچھ دیر کے بعد کھانے کا اعلان ہو گیا۔ لوگ کھانے کی طرف متوجہ ہوئے تو عمران خان، حفیظ اللہ خان اور حفیظ خان جانے لگے۔ میں نے حفیظ خان سے پوچھا (اس کے دیرینہ دوستانہ تعلقات تھے) کہ آپ لوگ کھانا نہیں کھائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم شوکت عزیز صاحب کے ہاں (جو بعد میں وزیراعظم پاکستان بن گئے) مدعو ہیں۔ مجھے شوکت عزیز صاحب اور آنے والے دنوں میں جو کچھ ہونے والا تھا اس کے بارے میں علم تھا۔ میں نے کہا کہ کوئی فائدہ نہیں۔ جو ڈھونڈنے جا رہے ہیں، وہ اس کے پاس ہے۔
وقت گزر گیا۔ ایک دن محترم مجیب الرحمن شامی نے حسب روایت رمضان المبارک میں افطاری کا اہتمام کیا۔ مہمانوں کی آمد سے پہلے میں نے یہ واقعہ حفیظ اللہ نیازی کی موجودگی میں سنایا اور درخواست کی کہ اگر میں کہیں غلطی سے کچھ آگے پیچھے کر جاﺅں تو درستی فرما دیجئے گا۔ ان کی خاموش مسکراہٹ میں واقعہ کی تصدیق تھی۔
یہ ان 22 سالوں کی جدوجہد کا ایک باب ہے جس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔ 22 مہینے میں ملک اور قوم کو درپیش مسائل اور مستقبل، نیز ان کے اثرات جانیے اور ان کے ممکنہ حل کی تیاری کیلئے بہت عرصہ ہوتا ہے، لیکن آج تک وزارتوں میں ردوبدل، بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کے سوا کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اللہ کرے عوام کی مشکلات، مہنگائی، بیروزگاری اور بدامنی میں کچھ کمی اور بہتری دیکھنے کو ملے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*