تازہ ترین

چلغوزہ قدرتی کیپسول جو کئی امراض میں مفید ہے

چلغوزوں کی طلب جس شدت سے سردیوں میں ہوتی ہے،کسی اور موسم میں نہیں ہوتی لیکن چلغوزوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمت نے اسے نچلے طبقے تو کیا متوسط طبقے کی دسترس سے بھی تقریباً دور کر دیا ہے۔بہرحال چلغوزے کے کئی فائدے اپنی جگہ ہیں۔یہ پائن کے بیج ہوتے ہیں لیکن پائن درخت کی تمام اقسام چلغوزے پیدا نہیں کرتیں،صرف 20 اقسام ایسی ہیں جن کے چلغوزے ذوق و شوق سے کھائے جاتے ہیں۔
چلغوزے کو تیار ہونے میں 18 مہینے لگتے ہیں اور کچھ اقسام میں تو تین سال بھی لگ جاتے ہیں۔ان کی کلیاں کھلنے سے دس دن پہلے انہیں اُتار لیا جاتا ہے۔چلغوزوں کا سائنسی نام Pinus Gerardiana ہے،اس کے درخت مشرقی افغانستان،پاکستان اور شمال مغربی بھارت میں پائے جاتے ہیں۔یہ درخت 1800 سے 3350 میٹر کی بلندی پر اُگتے ہیں۔توانائی کی تعمیر:چلغوزوں میں موجودمخصوص غذائی اجزاءجیسے کہ مونو سیچوریٹڈ فیٹس،آئرن اور پروٹین توانائی بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔
ان میں موجود میگنیشیم اور کچھ دیگر غذائی اجزاءتھکن سے بچانے اور جسم میں خلیوں کی مرمت کرنے میں مفید بتائے جاتے ہیں۔
چلغوزے کے فوائد:چلغوزے میں فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں،جو بھوک بڑھانے کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے کے لئے بھی مفید ہیں۔ان میں موجود میگنیشیم اور پروٹین دل کے امراض اور ذیابیطس سے بچنے میں مدد کرتے ہیں۔
جسم کو توانائی دینے کے علاوہ ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس حمل میں، قوت مدافعت بڑھانے،بینائی،بالوں اور جلد کی صحت کے لئے فائدہ مند ہیں۔
ذیابیطس میں فائدہ مند:روزانہ چلغوزے کھانے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کنٹرول کرنے میں مدد ہو سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق بینائی کم ہونے کی پیچیدگیوں اور اسٹروک سے بھی چلغوزے محفوظ رکھتے ہیں۔ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریض جو چلغوزے روزانہ کھاتے تھے ان میں گلوکوز کنٹرول کرنے کی سطح بہتر اور برے کولیسٹرول کی سطح کم دیکھی گئی۔
دل کے امراض میں کمی:چلغوزوں کو دل کے لئے بھی اچھا سمجھا جاتا ہے۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ چلغوزے کھانے سے دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہونے والی اچانک اموات کے خطرے میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس میں موجود مونو سیچوریٹڈ فیٹس،وٹامن ای،وٹامن K،میگنیشیم اور مینگنیز مل کر دل کے امراض کے خلاف مضبوط ڈھال بن جاتے ہیں۔ان میں موجود پائنولینک ایسڈ صحت مند کولیسٹرول کو سپورٹ کرتا ہے اور بُرے کولیسٹرول کا لیول کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔وٹامن کے زخم کے دوران خون جمنے میں اور وٹامن ای سرخ خلیے پیدا کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔اس سے ہائی بلڈ پریشر بھی کم رہتا ہے۔
دماغی صحت میں بہتری:چلغوزے میں وافر مقدار میں آئرن اور ایک منرل جو آکسیجن کو اسٹور کرنے اور ٹرانسپورٹ کرنے کیلئے درکار ہوتا ہے،پایا جاتا ہے۔ان دونوں سے دماغ کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔کچھ رپورٹس یہ بھی کہتی ہیں کہ چلغوزے کھانے سے اینزائیٹی،ڈپریشن اور اسٹریس کا علاج کرنے میں مدد ملتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق غذا میں موجود میگنیشیم دوران بلوغت ہونے والے ڈپریشن اور اینزائیٹی کی خرابیوں کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
چلغوزے کھانے سے موڈ بھی بہتر ہوتا ہے۔
کینسر میں مفید:چلغوزے میں موجود میگنیشیم اور دیگر منرلز کینسر کی بہت سی اقسام کا خطرہ کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق سیرم میگنیشیم کی کمی سے لبلبے کا کینسر ہونے کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
وزن میں کمی:چلغوزے میں دل کو صحت مند رکھنے والے فیٹی ایسڈ پیٹ کی چربی گھلانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق غذا میں سیچوریٹڈ فیٹس کو چلغوزوں سے بدل دیا جائے،اس سے وزن کم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔
بالوں اور جلد کی بہتر صحت:چلغوزوں میں موجود مختلف بنیادی غذائی اجزاءجیسے کہ وٹامنز،منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔وٹامن E اور اینٹی آکسیڈنٹس تو ویسے بھی اینٹی ایجنگ کے لئے مشہور ہیں۔
چلغوزوں میں موجود اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات اور آئل حساس جلد کے لئے بہت موزوں ہے،یہ جلد کی نشوونما کرتے ہیں اور کئی شکایات سے محفوظ رکھتے ہیں۔یہ جلد میں نمی برقرار رکھنے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ وٹامن E بالوں کی نشوونما کرتا ہے۔اس کا تیل بال گرنے سے روکنے کے لئے مفید ہے۔خشک چلغوزے میں 8،10 کیلوریز،0.08 گرام فائبر، 0.24 گرام کاربوہائیڈریٹ،0.42 گرام پروٹین اور 0.89 گرام فیٹ پایا جاتا ہے،دوسرے خشک میوہ جات کی بنسبت چلغوزے کے فوائد بہت جلد سامنے آتے ہیں۔
مغز چلغوزہ،جریان،یرقان اور گردے کے درد میں بھی مفید بتایا جاتا ہے،اس کا کھانا جسمانی گوشت کو مضبوط کرتا ہے۔چلغوزے بلغمی مزاج والوں کے لئے ایک اچھا ٹانک ہے۔چلغوزہ آنتوں کی دیواروں پر صفائی کاکام بھی کرتا ہے جس کی بدولت نظام ہاضمہ بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔چلغوزے میں پایا جانے والا Oleic ایسڈ خون میں کولیسٹرول کے لیول کو برقرار رکھتا ہے جس کی بناءپر کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔
چلغوزہ وٹامن K کا اہم ترین ذریعہ ہے۔وٹامن K خون کو جمنے نہیں دیتا اور نہ ہی یہ خون میں گھٹلیاں بننے دیتا ہے خون کی روانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہموار بھی رکھتا ہے۔چلغوزے میں پایا جانے والا وٹامن E اسکن کے لئے مفید ہے۔دھوپ کی شدت سے جھلس جانے والی جلد کے لئے بھی چلغوزہ کا استعمال موثر رہتا ہے۔چلغوزے سے تیل بھی نکالا جاتا ہے جو ذائقہ دار اور خوشبو دار ہوتا ہے۔اس تیل کا استعمال زمانہ قدیم سے ہربل ادویات میں مختلف بیماریوں سے بچا¶ کے لئے کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ یہ تیل کاسمیٹک سرجری اروما تھراپی،کوکنگ اور سلاد میں بھی استعمال کیا جاتاہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*