اسی دن کیلئے بولو۔۔۔۔

چوہدری عبدالغفور خان
ونسٹن چرچل کہتے ہیںکہ میںایک انٹرویو کیلئے BBCآفس گیا اور ٹیکسی ڈرائیور کو کہا کہ آپ یہاں چالیس منٹ میرا انتظار کریں جب تک میں واپس آجاﺅں گا۔ ڈرائیور نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا میں انتظار نہیں کر سکتا مجھے گھر پہنچنا ہے کہ میں نے ونسٹن چرچل کی تقریر سننی ہے۔ میں بہت خوش ہوا کہ لوگ میری گفتگو سننا چاہتے ہیں۔ میں نے بغیر اپنا تعارف کروائے 10پاﺅنڈ اسے دئیے جب وہ مجھ سے پاﺅنڈ لے رہا تھا کہنے لگا میں آپ کے آنے تک گھنٹوں آپکا انتظار کروں گاجہنم میں جائے چرچل۔چرچل کہتے ہیں کہ پیسے سے اصول خریدے جا سکتے ہیں کبھی قوم پیسے پر بکتی ہے کبھی عزت بکتی ہے۔ کبھی بھائی بکتے ہیں کبھی خاندان پیسے کی وجہ سے علیحدہ ہو جاتے ہیں، دوست علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ انسان انسانوں کو پیسے کیلئے قتل کر دیتے ہیں۔اب پاکستانی قوم کو ہر صورت بیدار اس لیے بھی ہونا پڑے گاکہ پاکستان اغیار کی سازشوں کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔ اگر اب بھی قوم نے پاکستان کے دوست اور دشمن کی پہچان نہ کی تو پھر خدانخواستہ ہم بالکل بربادی کے دہانے پر ہیں اور ایک بہت بڑے حادثے کا شکار نہ ہو جائیں۔ آج پاکستان سے وفا نبھانے اور پاکستانی قوم کو دنیا کی صفِ اوّل کی قوموں میں شامل کروانے کے دعویدار بے نقاب ہو کر شاید پاکستان کے دشمنوں کے آلہ ءکار بن چکے ہیں۔ میںا س بات پر فکر مند ہوں کہ کہیں پاکستان اس غلامی کی زنجیر سے تو بندھنے نہیںجا رہا جس سے آزاد کروانے کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے مقتل گاہوں کو سجایا تھا۔ آدم کی بیٹیوں نے اپنی عزتوں کو لٹوایا تھا شہیدوں نے گلستاں کو سجانے کیلئے اپنا لہو بہایا تھا۔ کیا یہ ہے وہ پاکستان؟ دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والا یہ پاکستان قائد ؒاور اقبالؒ کا پاکستان نہیں ہو سکتا۔ آج پاکستان کے جھوٹے خیر خواہ پاکستان کی اساس پر حملہ آور ہو نے کا عہد کر چکے ہیں۔ اعتزاز احسن کا یہ کہنا کہ مولانا ایک بڑی سازش کر رہا ہے ان کے رابطے غیر ملکی سفیروں سے اور خاص طور پر اسرائیلی سیاستدانوں سے ہو رہے ہیں۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے اور ان سازشوں سے پاکستان کو بچائے۔(آمین)
عجیب حالات پیدا کر دئیے ہیں پاکستان کے دوست نما دشمنوں نے۔ ملک و قوم کو گروی رکھ کر بھی پاکستان پر حکمرانی کرنے کا خواب انہیں بے چین رکھتا ہے۔ انھوں نے شاید پاکستان میں مختلف مافیاز کو مضبوط کر کے پاکستان پر مستقل حکمرانی کا خواب دیکھا تھا اور قوم کو بہت خوبصورت انداز میں بیوقوف بنا کر پاکستان کو Kingdomبنانا چاہتے تھے۔جو اللہ کو منظور نہیں تھا اور ان کے خواب چکنا چور ہو گئے مگر افسوس کچھ لوگ ابھی تک ان کے چُنگل سے آزاد نہیں ہونا چاہتے۔ شاید یہ بھول گئے ہیں کہ ایک وقت تھا جب:
اِ ک سویرا تھا جب ہنس کے اُٹھا کر تے تھے
اور آج کئی بار بنا مسکرائے ہی شام ہو جاتی ہے
میں اقتداراور دولت کے پجاریوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ:
پیسے سے سُکھ کبھی خریدا نہیں جا سکتا
اور دکھ کا کوئی خریدار نہیں ہوتا
اگر کبھی پاکستان اور پاکستان کے اداروں پر حملہ آور ہونے والے بے ضمیر سیاستدانوں کے ماضی کو دیکھتا ہوں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کا پاکستان پر کچھ لگا ہی نہیں۔بہت سوں کے بزرگ پاکستان بننے سے پہلے پاکستان تشریف لے آئے تھے اور کچھ کے بزرگ پاکستان اور قائد اعظم کے مخالف تھے جو آج پاکستان پر صرف اپنا حق حکمرانی سمجھتے ہوئے نہ اپنے گریباں میں جھانکتے ہیں اور نہ آج تک پاکستان کا خون چُوسنے کی ان کی پیاس بجھتی ہے۔ سازشوں کے ذریعے مسند خریدنے والے یہ سوچنے سے قاصر ہیں کہ اسی دولت اور اقتدار نے انھیں رسوا کیا ہے۔
پاکستان ایک خود مختار ایٹمی ملک ہے۔ دنیا کو بھی ہمیں آزاد قوم تسلیم کرنا ہوگاکیونکہ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے حکمران اب اقتدار میں نہیں رہے۔ شاید اب وہ صرف سازشیں ہی کر سکتے ہیں۔ اب قوم نے بھی ان کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے کہ یہ ہیں کون لوگ جو ہماری خوشیاں لوٹ کر ہمارے بچوں کے جسم سے صرف کپڑے نہیں ان کا خون بھی نچوڑ کر بالآخر پاکستان کی خوشحالی کے دشمنوں سے ساز باز کر چکے ہیں اور آج اسلام آباد اور راولپنڈی پر چڑھائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یعنی اب اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔میں بحیثیت سیاسی کارکن یہ دیکھ رہا ہوں کہ آج پاکستان کے موجودہ تمام سیاستدانوں پر کوئی نہ کوئی الزام ضرور ہے۔ قوم کے معماروں کو اپنی اپنی اصلاح ضرور کرنا پڑے گی۔ کسی کاروباری شخصیت کو بہر حال حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر خلیفہءوقت کے طور پر جناب حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنا کاروبار بند کر سکتے ہیں تو ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہمارے پاس قطعی آخری موقع ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی ذمہ داریوں کو پہچانے۔ اقتدار کے ایوانوں میں انتہائی ذمہ دار ی کی متقاضی سیٹوں پر نااہل لوگوں کا ہونا بھی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اب صاحبانِ اقتدار کو اپنے کپتان اور پاکستان کی عزت کیلئے انتہائی ذمہ داری، دیانتداری اور ہوش مندی کے ساتھ کام کرنا ہے کیوںکہ آقا کریم خاتم النیبن ﷺ کے ایجنڈے پر بننے والی یہ اسلامی مملکت اس موجودہ چیخ و پکا ر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اب وقت آگیا ہے.
کہ اداروں پر انگلیاں اُٹھا کر اغیار کے ایجنڈے کی تکمیل کرنے والے قومی مجرموں کو ہر صورت بربادیءگلستاں سے روکا جائے اور بلاتفریق ہر سیاستدان اپنے ضمیر کی عدالت میں جائے جہاں غلط فیصلے نہیں ہوتے اور یہ ضرور سوچے کہ پاکستان نے مجھے کیا دیا اور میں نے پاکستان کو کیا دیا۔
پاکستانی قوم PDMسے سوال کر رہی ہے کہ:
کی کری جارہیا ایں کی کری جا رہیاایں
کھیس اُتیّ پاکے تھلیوں درّی کھچی جا رہیاایں
آج اپنوں کے لگائے ہوئے زخموں سے چور پاکستان یہ کہہ رہا ہے کہ:
اسی دن کیلئے بولو کیا تم کو ہم نے چاہا تھا
کہ میں بر باد ہوں اور تم تماشہ دیکھتے جاﺅ
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*