تازہ ترین

اہل کشمیر حق خودارادی مانگتے ہیں

جمیل اطہر قاضی
مظلوم کشمیریوں کی آہ وبکاہر گزرتے دن کے ساتھ رنگ لا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر جبری قابض بھارت اپنے جھوٹے دعوﺅں پر اقوام عالم میں بے نقاب ہو رہا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے اور اقوام عالم کی رائے میں مثبت تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔یہ او آئی سی کی حالیہ قرار داد کے بعد مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مسلم ممالک میں بیداری کی نئی لہردوڑنے کا نتیجہ ہے کہ آذربائیجان نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے 90 لاکھ کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے نتیجے میں بھارت سرکار کو امن پسند بھارتی عوام اور دانش وروں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ یہ بات بھی باعث اطمینان ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کی سوچ میں مثبت تبدیلی سامنے آئی ہے اور برطانیہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں،مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر پابندیاں ختم کی جائیں، مقبوضہ کشمیر کالاک ڈاﺅن عوام کے تحفظ کے لئے نہیں، جبری تسلط کی بد ترین مثال ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔
مقبوضہ کشمیر کی حالت زار پر برطانیہ کاخاموشی توڑناخوش آئند اور اقوام متحدہ کے ضمیر پر دستک ہے۔ بے حس عالمی ادارے کو چاہیے کہ خواب غفلت سے فوری بیدار ہواور محض اپنی ہی منظور کردہ قرار دادوں پر بیانات کی حد تک مہر تصدیق ثبت کرنے کے بجائے عصر حاضر کے بدترین جارح بھارت کا ہاتھ روکے۔ اقوام متحدہ کا منشور اور ضابطہ اخلاق اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں ظلم ہو وہاں جارح کا ہاتھ روکنے، بنیادی انسانی حقوق کی پاس داری یقینی بنانے اور مظلوموں کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ اپنے زیر انتظام فوجی دستے بھیج سکتا ہے اور نہ صرف ماضی میں ایسا ہوا ہے بلکہ پاکستان دنیا کے متعدد مقامات پر اقوام متحدہ کے زیر انتظام فوجی خدمات سر انجام دے چکا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ بھارتی جبر کے شکار 90لاکھ کشمیریوں کو نجات دلانے کے لئے بھارت کے خلاف فیصلہ کن اقدام نہیں اٹھا رہا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کی حالیہ قرار داد کی منظوری چین، ترکی،ایران، ملائیشیا، انڈو نیشیا اور اب آذر بائیجان کے واضح اعلان کے بعد برطانیہ کے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموشی توڑ دینے کے بعد بھی اگر اقوام متحدہ کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہے ۔
کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی ادارے کا ضمیر سو چکا اور اس کا وجود سوالیہ نشان بن چکا ہے، یہ بے حسی مسلمانوں کے ساتھ عالمی ادارے کی دوغلی پالیسی اختیار کرنے کا واضح ثبوت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے مسلمہ ضابطہ اخلاق کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم روکنے کے لئے اپنے زیر انتظام فوجی کارروائی عمل میں لائے اور جارح بھارت کا ہاتھ روک کر نوے لاکھ مظلوم کشمیریوں کو موقع فراہم کر ے کہ وہ اپنا حق خودارادیت استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کر سکیں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا اہم فریق اور کشمیریوں کا وکیل ہونے کے ناطے عالمی فورموں پر سفارتی انداز میں مسلسل کوشاں چلا آ رہا ہے۔ ماضی میں مسئلہ کشمیر پر تین جنگیں ہو چکیں۔ بھارتی جارحیت ایک اور جنگ کا راستہ ہموار کر رہی ہے کہ بھارت ہر روز ایل او سی پر فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔
پاکستان امن کا خوگر ہوتے ہوئے اگر صبر اور تحمل کا مظاہرہ نہ کر رہا ہو تو اب تک خطہ بدترین جنگ کی لپیٹ میں جا چکا ہوتا اور جنوبی ایشیا میں بسنے والے دوارب سے زائد انسان خاک وخون کی لپیٹ میں آ چکے ہوتے۔
اقوام متحدہ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور مسئلہ کشمیر پر آمنے سامنے کھڑی ہیں اگر مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کی میز پر نکل سکتا ہے تو اقوام متحدہ فوراً یہ راستہ اپنی زیر نگرانی اختیارکرے۔
عالمی ادارے کی کوششوں سے اگر بھارت جارحانہ اقدام سے باز آ جائے اورکشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خودارادیت دے دے تو خوش آئند، بصورت دیگر یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے بھارت کا ہاتھ فوجی اندازمیں روکے۔ ماضی قریب میں جموں وکشمیر چڑی سیکٹر پر اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد عام تاثر یہی تھا کہ عالمی ادارہ بھارت کے خلاف سخت ایکشن لے گا مگر اس پر بھی خاموشی کی روش نے ثابت کردیا کہ اقوام متحدہ وقت کے ظالموں کے ہاتھ روکنے سے قاصر ہے یا خواب غفلت میں اتنا محو ہو چکا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھول چکا۔
بھارت نے گذشتہ روز پھر امن پر وار کرتے ہوئے ایل او سی پر فائرنگ کی جو جنگ بندی کے اعتبار سے ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بھارتی ایما پر وزیر ستان میں ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں پاکستان کے چارفوجی جوان شہید ہو گئے، جواب میں دو انسانیت دشمن بھی واصل جہنم ہوئے۔
ایسے اقدامات کا تسلسل خطے میںامن کیلئے کھلا چیلنج ہے جو جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ سنگین حالات متقاضی ہیں کہ اقوام متحدہ برطانیہ کی طرح بھارتی مظالم پر خاموشی توڑدے اور بھارت کا ہاتھ روکنے میں مزید تاخیر سے کام نہ لے۔ پاکستان کو چاہیے کہ مسئلہ کشمیر پرسفارتی کوششوں میں مزید تیزی لائے اوراس مسئلے پر اپنے حمایتی ممالک کی معاونت سے اقوام متحدہ پر دباﺅ بڑھائے کہ وہ جارح بھارت کو مجبور کرے کہ وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کے لئے حق خود ارادیت دے کر عالمی برادری سے اپنا وعدہ پورا کرنے میں تاخیر نہ کرے تاکہ جنوبی ایشیا کاامن محفوظ ہو سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*