تازہ ترین

کورونا وائرس کا خاتمہ نیم سے ممکن

ڈاکٹر عبدالتوحید خان
قدیم زمانے سے مختلف جڑی بوٹیوں کو بطور دوا کھایا جا رہا ہے۔یہ ادویہ جینیاتی عناصر متحرک کرکے علاج معالجے میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔ان عناصر کو متحرک کرنے کا کام جڑی بوٹیوں میں موجود ایک کیمیائی مادے ”Phytochemical“ کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اگرچہ مختلف امراض کے علاج معالجے میں جڑی بوٹیوں کو صدیوں سے کھایا جا رہا ہے،مگر موجودہ دور میں یہ رجحان مزید بڑھ گیا ہے،کیونکہ اول تو جڑی بوٹیوں سے علاج کے پہلوئی اثرات نہیں ہوتے یا پھر بہت کم اور ہلکی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
دوم یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید ایلوپیتھک طریقہ علاج کی ادویہ خاصی مہنگی ہیں۔بہرحال جڑی بوٹیوں سے علاج مستند،سستا اور ہر قسم کے مضر اثرات سے پاک ہوتا ہے۔
دور جدید میں امراض قلب کے علاج میں کھائی جانے والی ایک مخصوص دوا”Digitalis“ ایک پودے ”Foxglove“ سے کشید کی جاتی ہے،تو کونین کا ماخذ”Cinchona“ نامی درخت کی چھال ہے۔اسی طرح ایسپرین ایک پودے”Meadowsweet“ سے حاصل کی جاتی ہے۔
اس وقت چینی ماہرین صحت کورونا وائرس کے علاج کے لئے جہاں جدید ادویہ تجویز کر رہے ہیں،وہیں قدیم روایتی طریقہ علاج سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔چین کے 26 صوبوں میں سرکاری طور پر یہ امر لازمی قرار دے دیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے علاج کے لئے جدید ادویہ کے ساتھ روایتی اور قدیم ادویہ بھی کھائی جائیں۔جس طرح چین میں کورونا وائرس کے علاج کے لئے روایتی طریقہ علاج پر توجہ دی جا رہی ہے تو اس ضمن میں نیم کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔
(نیز چین نے حال ہی میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لئے آزمایشی طور پر ویکسین بھی بنا لی ہے،جسے مفید و مو?ثر پایا گیا ہے۔یہ ویکسین چین کی سینو فارما نامی کمپنی نے بنائی ہے)۔ایک تو نیم مانع جراثیم ہے،دوسرا عالمی ادارہ صحت نے ایڈز اور سرطان کے علاج میں نیم کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔نیم سے حاصل کردہ ”Acetone Water Neem Extract“ کے استعمال سے ایڈز کے مریضوں میں”CD4“ نامی مدافعتی خلیات کی تعداد میں کسی بھی قسم کے مضر اثرات ظاہر ہوئے بغیر اضافہ ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ ایڈز کے مریضوں میں خون کے سفید خلیات کی ایک قسم لمفا سائٹس کی(جو CD4 کہلاتے ہیں)کمی واقع ہونے کے باعث مختلف عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔برصغیر میں ہزارہا سال سے نیم کے درخت کے مختلف حصوں مثلاً پتوں،ٹہنیوں،نبولیوں اور چھال وغیرہ کو کئی بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔اب تو امریکا میں بھی نیم کی افادیت تسلیم کر لی گئی ہے۔
نیم میں کئی ایسے مفید اجزاءپائے جاتے ہیں،جو جلدی خارش،ملیریا،ذیابیطس،مانع پھپوندی (Antifungal)،مانع وائرس، سوزش،پیچش،دست اور بخار وغیرہ کے علاج میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ نیم جراثیم کش ہے۔نیم کے تیل میں 135 کیمیائی اجزاءپائے جاتے ہیں،جن میں شامل Quercetin اور Beta-Sitosterol جراثیم اور پھپوند کے علاج کے لئے مفید ہیں۔نیم کی چھال سے کشید کردہ محلول میں پرولین بھی پایا جاتا ہے،جو جوڑوں کے درد کے لئے اکسیر ہے۔
اس کے علاوہ نیم کے تیل کو کئی دماغی امراض بشمول الزائمر (نسیان،یعنی بھول کا مرض) کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
نیم کی چھال سے کشید کیا ہوا گرم پانی خاص طور پر خواتین کے لئے ایک طاقتور ٹانک ہے،جب کہ اسے آنتوں کے کیڑوں کے علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ محلول زخموں اور امراض جلد کے علاج کے لئے بھی موثر ہے۔
اسی طرح نیم کے خشک پھول،جو نبولی کہلاتے ہیں،ذیابیطس کے علاج میں استعمال کیے جاتے ہیں۔نبولیوں کا تیل جذام،آتشک،السر(معدے کا زخم)اور ہر قسم کے درد کے علاج کے لئے مفید ہے۔ عرب ممالک میں بخار کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لئے نیم کے تیل کا استعمال عام ہے۔نیم کی چھال سے کشید کیا گیا تیل دافع سوزش ہی نہیں ہے،بلکہ اس میں زخم مندمل کرنے کی بھی صلاحیت پائی جاتی ہے۔
نیم کی 1250 ایم جی/ کے جی خوراک کھانے سے گلوکوز 15 فیصد،یوریا 13 فیصد،کریٹنین 23 فیصد اور چکنائی 15 فیصد کم ہو جاتی ہے۔واضح رہے کہ چکنائی،ٹرائی گلیسرائڈ اور کولیسٹرول کی مقدار میں کمی بلڈ پریشر،امراض قلب،فالج اور ذیابیطس،جب کہ یوریا اور کریٹنین کی کمی امراض گردہ میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
نمبولائڈ(Nimbolide) جو نیم سے حاصل کردہ جزو ہے،جگر کے لئے بہت مفید ہے اور اس کی تاثیر امراض جگر میں کھائی جانے والی ایک مخصوص دوا کے مساوی ہے۔
اسی طرح نیم دانتوں کے امراض کے علاج کے لئے بھی مفید ہے۔وہ تمام ٹوتھ پیسٹ جن میں نیم کے اجزائ شامل ہوتے ہیں،منہ میں پائے جانے والے جراثیم کا خاتمہ کرتے اور دانتوں پر جما ہوا میل(پلاک) بننے کے امکانات کم کر دیتے ہیں۔ نیز نیم کی مسواک تو زمانہ قدیم ہی سے استعمال ہو رہی ہے،جو دانتوں کی بیماریوں اور منہ کی بو زائل کرنے کے لئے اکسیر ہے۔

نیم کے بعض اجزائ جراثیم کے خلاف کام کرتے ہیں۔ممکنہ طور پر نیم مختلف خامروں(Oxidative Enzymes) کو متحرک کرتا اور جراثیم کی خلیاتی دیوار توڑ دیتا ہے۔واضح رہے کہ ضدحیوی ادویہ(Antibiotics) بھی جراثیم کی خلیاتی دیوار توڑ کر ان کے خاتمے کا باعث بنتی ہیں۔کسی بھی فرد میں بیماری کا ایک ممکنہ سبب آزاد اصلیے (Free Radicals) بھی ہوتے ہیں۔آزاد اصلیے اوکسیجن کے متحرک یا ایکٹیو عناصر کو کہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آزاد اصلیوں کی کمی سے بیماری میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔نیم کے پھول اور چھال سے کشید شدہ محلول کے استعمال سے یہ آزاد اصلیے کم ہو کر بیماری رفع کر دیتے ہیں۔نیم خسرہ (چکن پاکس) کے وائرس ”Coxsackie Virus“ کے خلاف بھی کام کرتا ہے۔ خسرہ کا وائرس خلیات میں داخل ہو کر اس میں پائے جانے والے نیوکلیئک ایسڈ کی مدد سے مزید وائرسوں کی افزائش کرتا ہے اور نیم کا استعمال اس وائرس کو ابتدا ہی میں خلیات میں داخل ہونے سے روک دیتا ہے۔
یہی نہیں،بلکہ پولیو، خسرے اور ڈینگی جیسے وبائی امراض کے خلاف بھی نیم کا استعمال مو?ثر ہے۔کورونا کا سبب بھی ایک وائرس ہے اور چونکہ نیم کئی وائرل بیماریوں کے علاج میں مفید ثابت ہوا ہے تو کورونا وائرس کے علاج میں بھی نیم کے سفوف کا استعمال یقینی طور پر فائدہ مند ثابت ہو گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*