جلسہ روک نہیں سکتے تو کوشش کیوں کرتے ہیں؟؟؟؟

محمد اکرم چودھری
افواہوں کے بازار میں گذشتہ روز پاکستان کے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے انتقال کی افواہ نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ ہم کس قدر بے حس اور غیر ذمہ دار ہیں۔ موت اٹل حقیقت ہے جس کی خبر نہیں بنتی وہ بھی دنیا سے جاتا ہے اور جس کی خبر بنتی ہے دنیا سے اس نے بھی جانا ہے لیکن ہمیں اس معاملے نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ایسی ہی غلطی صدر پاکستان عارف علوی نے بھی کر دی۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے میر ظفر اللہ خان جمالی کے انتقال اور تعزیت کا اظہار بھی کر دیا لیکن کچھ ہی دیر بعد انہیں یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ صدر پاکستان کی میڈیا ٹیم نے نہایت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے مرتبے پر بیٹھے شخص کے کان اور آنکھیں کچھ اور لوگ ہوتے ہیں اور اگر وہ اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو پھر ہمیشہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صدر پاکستان کی میڈیا ٹیم کو کم از کم تین مرتبہ چیک ضرور کرنا چاہیے تھا۔ سابق وزیراعظم کے حوالے سے اتنی غیر ذمہ داری نے شکوک وشبہات پیدا کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر دھڑا دھڑ بغیر تصدیق کے شیئر ہوتی رہی بہرحال ان کے بیٹوں نے تردید جاری کرتے ہوئے جمالی صاحب کی صحت یابی کے لئے دعا کی درخواست بھی کی۔ اللہ تعالیٰ میر ظفر اللہ خان جمالی کو مکمل صحت و تندرستی عطائ? فرمائے وہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک روشن چہرہ ہیں۔ محب وطن، بہادر اور غیرت مند بلوچ ہیں۔ صاف ستھرے اور غیر روایتی سیاست دان ہیں۔ برسوں اسمبلی میں کھڑے ہو کر بلوچستان کا مقدمہ لڑتے رہے ہیں۔ ملک میں ایسے وضعدار سیاست دان کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ اللہ ہمیں ان سے سیکھتے رہنے کا موقع عطاء فرمائے۔پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے ملتان میں ہونے والے جلسے سے حکومت کو صرف اور صرف لعن طعن کے کچھ نہیں ملا۔ حکومت آخری وقت تک جلسہ روکنے کے لیے کام کرتی رہی بالخصوص آخری چند دنوں میں شدت کے ساتھ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے کارکنوں کی گرفتاریاں ہوتی رہیں۔ جلسے میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ تھے اور ملک میں ہزاروں کو لاکھوں میں بدلنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ یہ سب لوگ اور کچھ نہیں تو کم از حکومت کی ناکام پالیسیوں ہے خلاف بہرحال نکلے ہیں۔ حکومت پی ڈی ایم جلسے کے حوالے سے آخری وقت تک غیر یقینی کیفیت سے دوچار رہی۔ مسلسل کئی روز تک حزب اختلاف کی جماعتوں کو روکتے رہنے کے بعد آخری لمحات میں جلسے کی اجازت دے کر ایک اور یو ٹرن لیا۔ یہ حکومت کی بیڈ گورننس کی سب سے بڑی اور تازہ ترین مثال ہے۔ ایسے فیصلوں کی وجہ سے ہی پاکستان تحریکِ پر عوام کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔ ایسے فیصلوں کی وجہ سے عوامی سطح پر بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ حکومت کو یا تو پی ڈی ایم کو روکنا نہیں چاہیے تھا بلکہ انہیں سہولیات فراہم کرنی چاہییں تھی اور اگر روکنے کا فیصلہ کر لیا تھا تو پھر جلسہ ہونا نہیں چاہیے تھا۔ حکومت نے وہاں بجلی بند کر کے کیا پیغام دیا ہے۔ کیا ایسے بچگانہ فیصلوں ہے بعد اپوزیشن سے بات چیت کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے اکابرین کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ وہ غیر مقبول فیصلوں کی طرف کیوں بڑھ رہے ہیں۔ حکومت اپنے ترجمانوں کے ذریعے حزب اختلاف کو برا بھلا کہنے میں مصروف رہی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملتان میں جلسہ ہو گیا، حکومت کو پسپائی بھی اختیار کرنا پڑی بلکہ بھاگنا پڑا اور اپوزیشن کو یہ یقین تھا کہ حکومت بھاگ جائے گی اور حکومت اپوزیشن کی توقعات کے مطابق بیک فٹ پر گئی۔ اپوزیشن کو ان جلسے جلوسوں سے بہت توقعات ہیں کیا اس تحریک سے حکومت کو نقصان پہنچتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ جہاں تک جلسوں میں شرکاءکی تعداد کے اعتبار سے نتائج اخذ کرنے یا اسے کامیابی یا ناکامی سے جوڑنے کی بات ہے تو پھر اس بنیاد پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو وزیراعظم ہونا چاہیے کیونکہ دیر میں جماعت اسلامی کے جلسے میں پی ڈی ایم کے جلسے سے زیادہ لوگ جمع تھے۔ دیر میں صرف ایک جماعت کا اجتماع تھا جب کہ ملتان میں گیارہ سیاسی جماعتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ اگر جلسوں سے نتائج سامنے آتے تو سراج الحق کو انتخابات میں کبھی ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
اپوزیشن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان کو بددیانت اور کرپٹ ثابت نہیں کر سکی۔ عوام کو آج بھی یقین ہے کہ عمران خان ایماندار ہیں اور وہ ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، حکومت میں آنے کے باوجود ان کے ہاتھ صاف ہیں یہی انکا بڑا کریڈٹ ہے جبکہ دوسری طرف وہ اپوزیشن ہے جسے اکیلے عمران خان نے کرپٹ، بددیانت اور نااہل ثابت کیا ہے۔ کچھ سزا یافتہ ہو چکے ہیں، کچھ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور کچھ کو عوام نے مسترد کر دیا ہے یہی عمران خان خان کی کامیابی ہے۔ اس تحریک سے حکومت کو نقصان ہوتا ہے یا فائدہ یہ تو الگ بحث ہے لیکن پی ڈی ایم کی سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت نے عوامی مسائل پر سنجیدگی سے کام ضرور شروع کر دیا ہے اور اب عوامی مسائل کو اہمیت دی جا رہی ہے گوکہ یہ کام پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا اگر پاکستان تحریک انصاف عوامی مسائل کو اپنے منشور کی طرح ترجیحات میں رکھتی تو یقینی طور پر عوامی جذبات اس کے حق میں ہوتے اور آج اس اپوزیشن کے پاس سیاست کرنے کے لیے بھی کچھ نہ ہوتا۔مولانا فضل الرحمن کی بے چینی بڑھ رہی ہے وہ ڈنڈا اٹھانے کی بات کر رہے ہیں حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ڈنڈا اٹھاتے بھی ہیں اور بھاگنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں وہ مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ سے زیادہ ایک ناکام نجومی بنتے جا رہے ہیں کیونکہ ان کی دی ہوئی تاریخوں پر کچھ نہیں ہو رہا اور حکومت چلتی جا رہی ہے۔ مولانا تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں اور ہر نئی تاریخ سے ان کی پریشانی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
ملتان جلسے کی خاص بات آصفہ بھٹو زرداری کی سیاسی میدان میں آمد تھی۔ وہ بینظیر بھٹو کی بیٹی ہیں اور اگر ملک میں موروثی سیاست کو ہی آگے بڑھنا ہے تو پھر اس موروثی سیاست میں وہ ایک اچھا اضافہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کا انداز گفتگو، چلنے پھرنے کا انداز، سوچ میں وسعت اور پختگی، خیالات میں ترقی سیاسی میدان میں آگے لے جا سکتی ہے۔ ان کی کامیابی کا انحصار بہتر فیصلوں سے مشروط ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کی وجہ سے عوامی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاست کے ذریعے کرپشن کو ناپسندیدہ سمجھتی ہیں، نالائق اور نااہل افراد کو نظام کے لیے زہر قاتل سمجھتی ہیں۔ یہ دو خوبیاں سب سے اہم ہیں۔ انہیں ڈرائیونگ سیٹ کب ملتی ہے اور اس وقت تک وہ کیسے آگے بڑھتی ہیں یہ نہایت اہم ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی میں اگر انہیں اپنی والدہ کی طرح اختیار ملتا ہے تو وہ ایک صوبے تک محدود پاکستان پیپلز پارٹی کو دوبارہ ملک کے تمام صوبوں میں سیٹیں جیتنے والی پارٹی بنا سکتی ہیں۔ تاہم اس کا دارومدار انہیں فیصلوں کا اختیار ملنے پر ہے۔ وہ ملکی سیاست میں ایک خوشگوار اضافہ ہیں۔ بہتر مشوروں اور بروقت فیصلوں سے وہ پی پی پی کا مقبول چہرہ اور حقیقی کراو?ڈ پلر بن سکتی ہیں۔
وفاقی وزیر جماد اظہر نے آٹے کی قیمتوں پر سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے مہنگے آٹے کی وجہ سندھ حکومت کے غلط فیصلوں کو قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر کا یہ طرز عمل درست نہیں ہے اگر وہ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔ وہ پورے ملک کے وزیر ہیں صرف پاکستان تحریک انصاف یا پنجاب کے وزیر نہیں ہیں۔ اس طرح بیان بازی سے خبریں تو چل سکتی اشتعال تو دلایا جا سکتا ہے لیکن مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کا مسئلہ بیانات کی کمی تو ہرگز نہیں ہے عوام کا مسئلہ تو سستا آٹا ہے۔ جہاں تک بیانات کا تعلق ہے عام آدمی کو پیپلز پارٹی کے بیانات پر بھی کوئی اعتبار نہیں ہے اور وہ پی ٹی آئی کے وزراء کے بیانات کو بھی سنجیدہ نہیں لیتے۔ اس لیے بیانات کی سیاست سے باہر نکل کر عوامی مسائل کو حل کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ گفتگو کی طاقت اور مخالفین کو اچھی دلیل سے قائل کرنا اور عوام کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہی جمہوریت کا حسن ہے۔
حماد اظہر آگے بڑھیں غلطیوں کا ازالہ کریں اور ملک بھر میں اشیاءخوردونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کو کم کرنے میں کردار ادا کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*