وزیراعظم عمران خان، کراچی میں، ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت کے خواہاں ہیں،اسد عمر

کراچی(این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ اپوزیشن پشاور میں جلسہ کرکے عوام کی صحت اور روزگار خطرے میں ڈالنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کرےگی،کراچی میں ترقیاتی جاری ہیں اور اگلے سال کے وسط تک گرین لائن چلا دی جائے گی،سندھ حکومت سے جزیروں پر بات چیت چل رہی ہے، وفاقی حکومت جزیرے جیب میں ڈال کر نہیں بھاگے گی ،ترقی سندھ کیلئے ہی ہوگی ،شہر کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے،پاکستان میں بچوں کے ریپ کے کیسز میں سزائے موت سے کم کوئی سزا نہیں ملے گی۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کراچی میں ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت کے خواہاں ہیں، وفاق سندھ حکومت کے ساتھ ہر معاملے میں تعاون کررہا ہے، احساس پروگرام کے تحت 65 ارب روپے سندھ کے عوام کو دیئے گئے، سندھ حکومت نے کراچی کےلئے 700 ارب کے منصوبے رکھے ہیں تو خرچ کئے جائیں، سندھ حکومت سے جزیروں پر بات چیت چل رہی ہے، وفاقی حکومت جزیرے جیب میں ڈال کر نہیں بھاگے گی ،ترقی سندھ کیلئے ہی ہوگی۔اسد عمر نے کہا کہ اس دفعہ باتیں نہیں کراچی میں کام ہوتا نظر آئےگا ، شہر کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، کراچی کو آج تک جدید ٹرانسپورٹ نظام نہیں مل سکا ، ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر کیا جارہا ہے، گرین لائن کا منصوبہ 2021موسم گرما میں مکمل ہوجائے گا، کراچی میں برساتی پانی کو سمندر میں لے جانے کی پلاننگ کی جا رہی ہے ، نالوں پر غیر قانونی تجاوزات کو ہٹایا جارہا ہے۔اسد عمر نے گورنر سندھ عمران اسمعیل کے ساتھ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی پیکج کا کراچی کے لیے اعلان کیا گیا تھا تو لوگوں کی اس میں بھی دلچسپی ہے کہ اس میں کیا پیشرفت ہوئی، وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آنے والے ہفتے میں وہ تمام منصوبوں کا جائزہ لیں گے تو ہم کراچی پیکج بھی ان کے سامنے رکھیں گے۔ انہوںنے کہاکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ بہتر بنانے کے لیے کام ہو رہا ہے اور اگلے سال کے وسط تک گرین لائن یہاں چلتی ہوئی نظر آئے گی۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ کراچی میں کو 5 منصوبے وفاق کی ذمے داری تھی ان میں کے فور شامل ہے، 2 ریلوے کے منصوبے ہیں اور گرین لائن سمیت چاروں منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے جبکہ گرین لائن پر عملدرآمد آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچواں کام نالوں کی صفائی اور ان کی ازسرنو تعمیر ہے تاکہ صرف ایک مرتبہ صفائی کی بات نہ ہو بلکہ مستقل بنیادوں پر ایسا حل نکالا جائے کہ کراچی جو بار بار بارشوں میں ڈوبتا ہے وہ ہمیں نہ نظر آئے۔انہوںنے کہاکہ اس کا جو پہلا حصہ ہے اس کے تحت سندھ حکومت نے وہاں سے تجاوزات کو ہٹانا ہے اور وہاں موجود لوگوں کےلئے متبادل انتظام کرنا ہے، اس پر گزشتہ ایک ہفتے کے دوران محمودآباد میں کام شروع ہوا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ جتنی جلدی سندھ حکومت اپنا کام مکمل کر لے گی تو پیچھے وفاق کے کام کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے اور کراچی میں تباہی مچانے والے اس پانی کو سمندر تک پہنچانے کے سلسلے میں منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں کام ہو رہا ہے اور اگلے ہفتے جب وزیراعظم کا تفصیلی جائزہ مکمل ہو جائے گا تو ہم کراچی کے عوام کو آگاہ کریں گے کہ اب تک ہم نے کتنی پیشرفت کی ہے اور ہم اپنے وعدوں کو بروقت پورا کریں گے۔انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں سندھ حکومت کی رقم میں کٹوتی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں، جتنا بھی قابل تقسیم ریونیو ہے وہ براہ راست بھی مداخلت کے بغیر کسی مجموعی فنڈز میں جاتا ہے اور سندھ کی حکومت کے پاس اپنی ریونیو اتھارٹی بھی ہے، وہاں سے بھی پیسہ آتا ہے۔انہوںنے کہاکہ سندھ حکومت نے ابھی ہمیں بتایا کہ 700 ارب روپے کے کراچی کے لیے منصوبے بجٹ میں رکھے ہیں تو وہ 700ارب روپے خرچ کیوں نہیں کرتے، ہمیں خوشی ہوگی۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ 2021 موسم گرما میں مکمل ہو جائے گا لیکن ریلیف فوری امداد کے لیے ہوتا ہے جیسے کورونا کے لیے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکج جو کہ 200ارب روپے کا تھا، احساس پروگرام کے ذریعے غریب ترین پاکستانیوں تک پہنچایا گیا، اس کا 34فیصد پیسہ تقریباً 65 ارب روپے سندھ کے عوام کو ملا۔انہوںنے کہاکہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں پورا منصوبہ بنانا ہے اور جولائی سے ستمبر کے درمیان یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ جزیروں پر بات چیت چل رہی ہے اور سندھ حکومت کے ساتھ اس کی بات چیت جاری ہے، وفاق نے جزیرہ جیب میں لے کر بھاگ تو نہیں جانا، جو بھی ترقی ہو گی سندھ کے لیے ہو گی، کراچی کے لوگوں کو روزگار اور سندھ کو ریونیو ملے گا۔اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسمعیل نے کہا کہ یہ جزیرہ سندھ کے لیے گیم چینجر ہو گا، اس کا سارا ریونیو حکومت سندھ کو ملے گا اور وفاق ایک پیسہ بھی یہاں سے لے کر نہیں جائے گا، یہ 800 ایکڑ کا جزیرہ ہے اور سری لنکا اس سے بہت چھوٹا جزیرہ ہے اور اس کا 10 فیصد بھی نہیں ہے تو وہاں 14ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم توقع کررہے ہیں کہ اتنے بڑے جزیرے پر 50ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی، ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، یہاں بین الاقوامی معیار کی مچھلی مارکیٹ بنائی جا رہی ہے جس سے ہمارے مچھیروں کو سہولت ملے گی اور سستے داموں بکنے والی مچھلی مہنگی بکے گی۔انہوںنے کہاکہ یہ ہر حال میں ہمارے سندھ کےلئے خوشحالی خوشخبری ہے تو جو بھی سندھ حکومت کے اس حوالے سے اعتراضات ہیں ہم انہیں دور کریں گے لیکن اس کو مثبت انداز میں دیکھا جائے کیونکہ یہ جزیرہ سندھ کی معاشی صورتحال کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو گا۔محمودآباد میں تجاوزات پر آپریشن کے دوران مزاحمت کے سوال پر اسد عمر نے کہا کہ اگر سندھ کی زمین پر ناجائز قبضہ ہوا ہے تو یہ وفاق کی کیسی ذمے داری بن گئی، زمین آپ کی، قبضہ آپ نے کروایا اور آپ کہتے ہیں کہ وفاق اس کو آ کر واگزار کرائے، تو جزیروں میں اتنا شور کیوں مچ رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ 100فیصد ذمے داری سندھ حکومت کی ہے تاہم اس کے باوجود وفاق نے اربوں روپے اس کام کےلئے مختص کیے ہیں، وفاق کا پیسہ حاضر ہے اور اسے اٹھانا سندھ حکومت کا کام ہے۔ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہا کہ کشمور میں بچی سے زیادتی دل کو لرزا دینے والا واقعہ تھا، اس بچی کو سندھ حکومت فوری طور پر کراچی لائی اور پولیس نے بہترین کارروائی کی۔اس موقع پر انہوں نے اے ایس آئی کی بیٹی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنے میں آسان لگتا ہے تاہم اگر کسی کو کہا جائے کہ اپنی بیٹی دینا، ڈاکوو¿ں کو دے کر آنی ہے تاکہ وہاں سے ہم غریب کی بچی کو چھڑا لیں، اے ایس آئی نے جس طرح اپنی فیملی کو داو¿ پر لگا کر اس بچی کو چھڑایا ہے وہ قابل ستائش ہے جبکہ ہم اے ایس آئی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینے کی سفارش بھی کررہے ہیں۔عمران اسماعیل نے کہا کہ اس قسم کے گھناو¿نے واقعات کی روک تھام کے لیے بل پر بات ہو رہی ہے، شیریں مزاری اس کو حتمی شکل دے رہی ہیں، انشااللہ پاکستان میں بچوں کے ریپ کے کیسز میں سزائے موت سے کم کوئی سزا نہیں ملے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*