جڑواں جزیرے !

شوکت علی شاہ
شاید کیا کسی نے ہے بخل زمیں پہ طنز
گہرے سمندروں سے جزیرے نکال کر
جزیروں کے تصور نے انسان کو ہمیشہ (Fascnate) کیا ہے۔ پرانے قصے کہانیاں۔ کسی طرح سمندری طوفانوں میں ہچکولے کھاتا ہوا جہاز ایک چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا ہے۔ بدقسمت لوگ غرق آب ہو جاتے ہیں۔ کسی طرح ایک جوان جہاز کے تختے پر بیٹھ کر کئی دن کے ہولناک سفر کے بعد ایک گمنام جزیزے میں جا پہنچتا ہے۔ ایک ایسا خطہ زمین جس پر سبزہ و گل کثرت سے ہیں‘ پھولوں اور پھلدار درختوں کی بہتات ہے‘ لیکن کوئی ذی روح نہیں ہے۔ وہ اضطرار اور اضطراب کی کیفیت میں پکارتا ہے۔ کوئی ہے؟ اچانک درختوںمیں سرسراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ ایک حسینہ جس نے اپنا چمپئی جسم کیلے کے پتوں سے ڈھانپا ہوتا ہے۔سامنے آتی ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی کسی ایسے ہی حادثے کا شکار ہوکر جزیرے میں پہنچی تھی۔ اسی طرح محبت کی لازوال داستان کا آغاز ہوتا ہے۔جن لوگوں نے سند باد جہازی کے قصے پڑھے ہیں‘ انہیں بھی علم ہے کہ وہ گمنام جزیروں میں پہنچ کر کن مشکلات سے دوچار ہوا تھا۔ ایک بوڑھے‘ مریل‘ جاں بلب شخص سے پالا پڑ گیا۔ وہ بلا کی تیز دھوپ میں گل سڑ رہا تھا۔ بوڑھے کی درخواست پر وہ اسے کندھوں پر بٹھا کر گھنی چھاﺅں میں لے آیا۔ جب اتارنا چاہا تو بوڑھے نے یکسر انکار کر دیا۔ میکانکی انداز میں اس کی چمرخ ٹانگوں کا شکنجا اس کے گلے کے گرد کستا چلا گیا۔ کئی دن کی جانگسل تکلیف کے بعد اس نے بالآخر نجات پائی۔ ”پیر تسمہ پا“ کا محاورہ اسی واقعے کے بعد وضع کیا گیا۔جزیرے صرف سمندر میں ہی نہیں‘ ملکوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ انڈونیشیا کو تو جزیروں کا ملک کہا جاتا ہے۔ کئی ہزار جزیرے‘ اسی طرح ناروے جزیروں کی دولت سے مالا مال ہے۔ چوڑائی بہت کم‘ لمبائی زیادہ‘ اوسلو سے ٹرومو دو ہزار کلومیٹرکے فاصلے پر ہے۔ درمیان میں ان گنت جزیرے ہیں۔ ٹرومسو کو Gateway of Arctic کہا جاتا ہے۔ آگے برف کا سمندر ہے۔ ”مڈ نائٹ سن“ دیکھنے کیلئے۔ 12 بجے رات سورج غروب نہیں ہوتا۔ اس کی ٹکیہ بس گھوم جاتی ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی جزیرے ہیں۔ جن کو برطانوی جہازراں کیپٹ کک نے 1780ئ میں دریافت کیا۔ آسٹریلیا کو جزیرہ کہنا جغرافیے کا سب سے بڑا مذاق ہے۔ یہ برصغیر ہند و پاکستان و بنگلہ دیش سے بھی دوگنا بڑا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے امریکہ سائز کا ہے۔اسکی آبادی تین کروڑ سے بھی کم ہے۔ کراچی شہر جتنی‘ جس کے پہلو میں بنڈلی اور بڈو جزیرے میں۔ جنہیں بسانے کا ”اچھوتا“ خیال حکومت کو آیا ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومت میں الفاظ کی جنگ چھڑ گئی ہے جو عنقریب عدلیہ کے ایوانوں تک پہنچ جائے گی۔سینکڑوں برس سے بے آباد ان جزیروں کا رقبہ دس ہزار ایکڑ ہے۔ اگر دلدلی علاقہ نکال دیںتو سات ہزار ایکڑ بنتا ہے۔ مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس آباد کرنے سے 60 ارب ڈالر کی آمدن ہوگی۔ بیرونی سرمایہ کار شہد کی مکھیوں کی طرح ان کے ارگرد بھنبھنائیں گے۔ یہ دبئی کو شرمائے گا۔ ہانگ کانگ اور سنگاپور ان کے آگے ہاتھ جوڑتے نظر آئیں گے۔ کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ اسے خوش فہمی کی انتہا ہی کہا جا سکتا ہے۔ ابراہیم لنکن نے کہا تھا ”سب لوگوں کو ہمہ وقت بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔“ ہم وہ ہیں جنہوں نے اس مقولے کو غلط ثابت کر دکھایا ہے۔ گزشتہ 72 برس سے ہر حکومت لوگوں کو اس قسم کے سبز باغ دکھاتی چلی آئی ہے۔ جو آباد شہر میں ان کا تو ہم نے حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ تعفن سے دماغ پھٹنے لگتے ہیں۔ سڑکیں گڑھوں سے بھری پڑی ہیں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے غضب کی گرمی میں جسموں سے چربی تک کو پگھلا دیا ہے۔ بھتہ خور اور ”ٹارگٹ کلر“ دندنا رہے ہیں۔ بیروزگاری‘ بھنگڑا ڈال رہی ہے۔ حکومت سلگتے ہوئے مسائل پر توجہ دے نہیں رہی۔ ان کو حل کرنے کی نہ تو اس میں سکت ہے نہ (Will) صرف سنہری خوابوں کے جال بن رہی ہے۔ یہ عجیب ملک ہے جس میں سونے کی کانیں ہیں ‘ لیکن وہ تو نکل نہیں رہا۔ عوام کا مقدرسو گیا ہے۔ بجائے کچھ یافت کے الٹا بین الاقوامی ٹربیونل سے جرمانہ کروا بیٹھے ہیں۔ کوئلہ ہے جس سے ہم صرف اپنا منہ کالا کر رہے ہیں۔ پانی ہے‘ لیکن ڈیم نہیں بن پا رہے۔ سارا پانی سمندر میں گر رہا ہے۔ ہر کہ درکان نمک رفت‘ نمک شد! ان حالات میں جزیرے آباد کرنے کا خیال عوام کو چکمہ دینے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی سیاحوں کو مائل کرنے کیلئے کچھ لوازمات ضروری ہوتے ہیں۔ جو یہاں ممکن نہیں ہیں۔
ہمارا مذہب اور معاشرہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ نہ یہاں شراب خانے بن سکتے ہیں۔ نہ کیسینوز کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ڈسکوز‘ اور اس سے جڑی ہوئی رنگ رلیوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ نہیں ہو سکتا (اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔) تو پھر سیاح یہاں کیا لینے آئیں گے؟ ان Quixotic Projects کی بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ شمالی علاقہ جات پر توجہ دے۔ انفراسفرکچر ٹھیک کرے۔ سکیورٹی مثالی ہو۔ آپ کے پاس دنیا کے بلند ترین پہاڑ ہیں‘ چوٹیاں جن کی ثریا سے ہیں سرگرم سخن! طویل ترین گلیشئر ہیں ‘ جھیلیں اور آبشاریں ہیں۔ دنیا کی تمام جھیلیں مل کر بھی جھیل سیف الملوک کے جن کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ ایک ملکوتی حسن جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ 60 ارب چھوڑ سینکڑوں ارب ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ حکومت کوئی پراجیکٹ شروع کرتی ہے‘ دوسری آکر اسے روک دیتی ہے یا ختم کر دیتی ہے۔ وزیرآباد کا ہسپتال چودھری پرویزالٰہی نے شروع کیا۔ اسی طرح پنڈی کا ہسپتال اور کالج شیخ رشید کی کاوش کا نتیجہ تھا۔ ان پر 80 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا۔ شہبازشریف نے اقتدار میں آکر کام روک دیا۔ دس برس تک منصوبے مکمل نہ ہو سکے اور ان کی لاگت کئی گنا بڑھ گئی۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ First Thingsfirst حکومت قیمتوں کو کنٹرول کرے اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔ عوام کی خوشحالی میں ہی اس کی اپنی بقائ کا راز مضمر ہے۔ لوگوں نے اسی بات کا مینڈیٹ دیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*