اپوزیشن کی کوشش ہے کہ حکومت کام نہ کر سکے ،حفیظ شیخ/ شبلی فراز

اسلام آباد (آئی این پی) مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہاہے کہ ملکی معیشت بہتر جانب گامزن ہے اور بیرون ملک آمدن میں اضافہ ہوا ہے، جب ہماری حکومت آئی تو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20ارب ڈالر تھا جس کو کم کر کے 3 ارب ڈالر تک صرف دو سال میں لایا گیا ہے اور اس وقت کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ سرپلس ہو چکا ہے، ابھی 791 بلین ڈالر کا سرپلس ہے،وزیراعظم آفس ،ایوان صدراور دفاعی بجٹ میں کمی کی گئی ہے، کامیاب جوان پروگرام میں 100 ارب روپے تک قرضے دیئے جائیں گے، پبلک سیکٹر میں نئے پروگرامز شروع کئے جا رہے ہیں ، حکومت 22 لاکھ ٹن گندم منگوائی ہے اور کم قیمت پر عوام کو فراہم کی جا رہی ہے، ملک میں فی الوقت کسی بھی قسم کی گندم یا آٹے کی کوئی کمی نہیں، 22لاکھ ٹن گندم کے ذخائر ملک میں موجود ہیں اور مزید 19 لاکھ ٹن گندم جلد ملک پہنچ جائے گی۔ ،یوٹیلیٹی سٹورز میں 50 بلین کا پیکج دیا گیا ہے، عوام سستا آٹا اور چینی یوٹیلیٹی سٹورز سے خرید سکتے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل کمی آرہی ہے، اپوزیشن کی کوشش ہے کہ حکومت کام نہ کر سکے اور اپوزیشن بہتر ہوتی ہوئی ملکی معیشت کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہی ہے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی ماضی میں کی گئی لوٹ مار کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو جی بی کے انتخابی عمل سے کوئی شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رابطہ کریں، بلاول زرداری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اگر پاکستان میں سیاست کرنی ہے تو بالغ النظری سے کام لیں، اسلام آباد کی طرف ضرور آئیں لیکن پہلے تمام قانونی تقاضوں کو بھی ضرور پورا کریں، عوام کو گمراہ نہ کریں۔منگل کو مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت آئی تو معیشت کی بحرانی کیفیت تھی جس کا ثبوت آئی ایم ایف کے پاس جاتا تھا، بحرانی کیفیت میں ہی ملک آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباءسے ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہوا تھا اور ٹیکسز میں 17 فیصد اضافہ وصولیاں ہوئی تھیں، پرائمری بیلنس کو سرپلس کیا گیا تھا، ایکسپورٹ بڑھی تھی اور کاروباری حضرات کے تاریخی پیکجز دیئے گئے جس کی کوونا وائرس سے معیشت کو دھچکا لگا، لیکن دنیا آج کہتی ہے کہ کورونا سے پاکستان بہت بہترین طریقے سے باہر نکلا ہے، حکومت نے ایک ہزار 240 ارب روپے کا اکنامک پیکیج دیا، جس کا مقصد کاروباری حضرات کی بہتری اور روزگاری کےلئے مواقع فراہم کرنا تھا، ساتھ ساتھ گندم کا بھی پیکیج دیا گیا ایک کروڑ50لاکھ کیش تقسیم کئے گئے،کورونا کے پہلے مرحلے سے ہم بہت بہتر طریقے سے نکلے ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ اب ملکی معیشت بہتر جانب گامزن ہے اور بیرون ملک آمدن میں اضافہ ہوا ہے، جب ہماری حکومت آئی تو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20ارب ڈالر تھا جس کو کم کر کے 3 ارب ڈالر تک صرف دو سال میں لایا گیا ہے اور اس وقت کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ سرپلس ہو چکا ہے، ابھی 791 بلین ڈالر کا سرپلس ہے، اس سے ایک بہت بڑے ایشو کو کنٹرول کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی اخراجات میں بہتری آئی ہے اور اب ہماری آمدنی، اخراجات سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑ رہی ہے، ملک کو بہت قرضوں کی وجہ سے بہت سے خطرات لاحق تھے، عمران خان کی حکومت نے پانچ ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں واپس کےلئے بھی دیئے، جبکہ 30 جون 2020 کے بعد کوئی نیا قرضہ نہیں لیا گیا ہے، 9ماہ میں پاکستان کے قرضے میں ٹکے کا بھی اضافہ نہیں ہوا ہے جو حکومت کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج معیشت میں پک اپ ہے مینوفیکچرنگ کی گروتھ میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے، سیمنٹ10 سے 20 ملین ٹن بک رہا ہے، آٹو موبائل اور ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے، ٹیکسٹائل میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہمارا روپیہ بھی مستحکم ہے، اس کی قیمت بڑھ رہی ہے، سٹیٹ بینک میں 13 بلین ڈالر آبزرور ہیں۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ سالانہ 2021 میں پہلے ماہ میں ایف بی آر نے ایک ہزار 340 ارب روپے جمع کئے جو ٹارگٹ سے زیادہ ہیں اور پچھلے سال کی نسبت 4,5فیصد زیادہ ہے، پچھلے چار ماہ میں ری فنڈز میں 128 ارب واپس کئے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 100 فیصد زیادہ ہیں اور یو اے میں تاریخ 238 ارب روپے واپس کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی اخراجات میں زبردست کمی کی گئی ہے جو صرف عوام کےلئے کی جا رہی ہے، سٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا ہے، بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، وزیراعظم آفس ،ایوان صدراور دفاعی بجٹ میں کمی کی گئی ہے، پیسے کی قدر بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا سب سے اہم ترین مقصد ہے کہ کیسے روزگار پیدا کئے جائیں، اس کےلئے حکومت نے کنسٹرکشن شعبے کو پیکیج دیا ، کامیاب جوان پروگرام میں 100 ارب روپے تک قرضے دیئے جائیں گے، پبلک سیکٹر میں نئے پروگرامز شروع کئے جا رہے ہیں، پسماندہ علاقوں کو آگے لایا جا رہا ہے، کاروباری حضرات کو بجلی، گیس اور قرضہ سستی قیمتوں میں دیا جا رہا ہے، ان سب کا مقصد نوجوانوں کو روزگار دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی روزگار کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 733 ملین ڈالر آئے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت دس فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے پروجیکٹس کو مزید تیز کیا جائے جبکہ ہمارے ملک میں 100 سمال اینڈ میڈیم کمپنیز کے منافع میں 36فیصد اضافہ ہوا ہے اور بینکنگ سیکٹر میں 56 فیصد ہوا ہے اور ساتھ ہماری سٹاک مارکیٹ دنیا کےلئے توجہ بن گئی ہے، اشیاءمیں سب سے تیز رفتار ویلیو پاکستان اسٹاک ایکسچینج ہے اور یہ ساری اچھی باتیں ہیں کہ دنیا کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ملک میں 20لاکھ ٹن گندم کم پیدا ہوئی لیکن حکومت نے 22 لاکھ ٹن گندم منگوائی ہے اور کم قیمت پر عوام کو فراہم کی جا رہی ہے، ملک میں فی الوقت کسی بھی قسم کی گندم یا آٹے کی کوئی کمی نہیں، یوٹیلیٹی سٹورز میں 50 بلین کا پیکج دیا گیا ہے، عوام سستا آٹا اور چینی یوٹیلیٹی سٹورز سے خرید سکتے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل کمی آرہی ہے اور مزید کوشش کی جا رہی ہے، ملک میں روز40 ہزار ٹن گندم ریلیز کی جا رہی ہے، حکومت بھی مارکیٹ میں گندم کی کمی برداشت کرنا نہیں چاہتی ہے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ قبائلی اضلاع کےلئے 152 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے نہیں جا رہا ہے، گیس میں 92فیصد صارفین کے ایک فیصد حکومت اپنے سے جمع کررہی ہے اور یہ تمام کام کرنے کا مقصد عوام کو سبسڈی فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ عوام کی زندگیوں میں آسانی اور مہنگائی کا خاتمہ وزیراعظم کی ترجیح ہے، ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے،42 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر ملک میں موجود ہیں اور مزید 19 لاکھ ٹن گندم جلد ملک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی فصل آنے تک ملک میں گندم کا سرپلس سٹاک موجود ہو گا، پنجاب میں یوٹیلیٹی سٹورز میں چینی 68روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی کوشش ہے کہ حکومت کام نہ کر سکے اور اپوزیشن بہتر ہوتی ہوئی ملکی معیشت کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہی ہے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی ماضی میں کی گئی لوٹ مار کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو جی بی کے الیکشن کے انتخابی عمل سے کوئی شکایت ہے تو الیکشن کمیشن سے رابطہ کریں، بلاول زرداری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اگر پاکستان میں سیاست کرنی ہے تو بالغ نظری سے کام لیں، اسلام آباد کی طرف ضرور آئیں لیکن پہلے تمام قانونی تقاضوں کو بھی ضرور پورا کریں، وسے ہی عوام کو گمراہ نہ کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*