پہلی مرتبہ ملک میں ایکسچینج ریٹ کی دو طرفہ نقل وحرکت ہو رہی ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی(کامرس ڈیسک) اوورسیز انوسٹرز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبران معروف غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے ملک کے موجودہ آﺅٹ لک کا جائزہ پیش کیا ۔ انہوں نے بتایاکہ جون 2019کے بعد سے پاکستان نے مارکیٹ پرمبنی ایکسچینج ریٹ نظام اپنایا ہے اور پہلی مرتبہ ملک میں ایکسچینج ریٹ کی دو طرفہ نقل وحرکت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور بہتر اقدامات کے ذریعے سرمائے کی آمد ہوئی ہے۔ 2016کے بعد پہلی مرتبہ کرنت اکاﺅنٹ بیلنس میں اضافے کے ساتھ مالیاتی خسارہ سال 2020میں مارچ سے جولائی کے درمیان جی ڈی پی کے 3.8فیصد تک محدود ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان نے بیرونی اور مالیاتی عدم توازن کو دور کرنے کیلئے جب معاشی اصلاحات کے پروگرام کو کامیابی کے ساتھ شروع کیا تو اسٹیٹ بینک کواستحکام کےلئے سخت اقدامات کے طورپرپہچانا جارہا تھااور کووِڈ 19شروع ہونے کے بعد حکومت اور مرکزی بینک نے کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر بروقت معاشی اقدامات کئے جن کے نتیجے میں آج ملکی معاشی نمو پر توجہ دی جارہی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایاکہ کووِڈ 19کے دوران اسٹیٹ بینک نے کاروباری افراد اور اداروں کو سپورٹ فراہم کرنے کیلئے ملکی معیشت میں اسٹیٹ بینک نے 1.73کھرب یا جی ڈی پی کا 4.1فیصد جاری کیا اور ملکی معاشی استحکام کیلئے مختلف اقدامات کئے جن میںشرح سود کو حیرت انگیز طورپر 13.25سے کم کرکے 7فیصد کرنا، قرضوں کا التوائ، روزگار کی معاونت اور روزگار اسکیموں سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے مزیدکہاکہ تبدیل ہوتے ہوئے معاشی حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک بروقت اقدامات کرررہا ہے۔ اس موقع پر اوآئی سی سی آئی کے صدر ہارون رشید نے او آئی سی سی آئی کے ممبران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمایاں اقتصادی شراکت داری پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایاکہ او آئی سی سی آئی کے ممبران ملک کے سب سے بڑے معاشی اسٹیک ہولڈرزہیں اور انہوں نے گزشتہ 8سالوں میں 16ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ہے اور ملک میں موجودہ مشکل معاشی ماحول کے باوجودغیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ اس موقع پر او آئی سی سی آئی نے گورنر اسٹیٹ بینک کو او آئی سی سی آئی کے ممبران کے اہم تحفظات سے آگاہ کیا جن میں غیر ملکی کی ادائیگیوںکی منظوری میں تاخیر اورغیر ضروری دستایزات کی ضرورت شامل ہیں ۔ او آئی سی سی آئی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کی روشنی میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے کاروبار میں آسانی کیلئے گورنر اسٹیٹ بینک سے سپورٹ فراہم کرنے کی خواہش کا اظہارکیا۔ ڈاکٹر رضا باقر نے ملکی خزانے میں اوآئی سی سی آئی کے ممبران کی شراکت کو سراہا اور برآمدات میں اضافے اورمتبادل درآمدی ذرائع اختیار کرنے کی ترغیب دی اور کہاکہ ملک کو غربت سے نکالنے کیلئے یہ اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک ادائیگیوں کے عمل کو ڈیجیٹلائزیشن طرف لانے کیلئے جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی ہے جس سے بڑے مسائل منظم اور بہتر طریقے سے حل ہوں گے اور کاروباری افراد کو سہولت حاصل ہوگی۔ ڈاکٹر رضا باقر نے بتایاکہ کمپنیاں اسٹیٹ بینک کو پیش کردہ اپنے معاملات کے بارے میں آن لائن لک اپ پورٹل کے ذریعے شفافیت کے ساتھ چیک کرسکتی ہیں۔ انہوں نے او آئی سی سی آئی ممبران کے ساتھ مستقل مذاکرات کی ضرورت پر اتفاق کیا اور اور آئی سی سی آئی ممبران کو اپنے مسائل کے بروقت حل کیلئے باقاعدہ طورپر اسٹیٹ بینک کی قیادت سے ملنے کی دعوت دی۔ آخر میں او آئی سی سی آئی کے صدر ہارون رشید نے معیشت میں مستقل بہتری کیلئے اسٹیٹ بینک کی کوششوں کو سراہااور پاکستان میں کاروبار میں آسانی کیلئے جامع سفارشات پیش کیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*