کو رونا وا ئر س سے بچا ﺅ کیلئے ما سک کا استعما ل ضر ور ی

نیشنل کما نڈ اینڈ آپر یشن سنٹر (این سی او سی)نے شہر یو ں کیلئے ما سک کے استعما ل کی پا بند ی لا زمی قر ار د دی ہے اور ما سک نہ پہننے والے شہر یوں پر 100 رو پے جر ما نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کر اچی میں ما سک نہ پہننے والو ں پر 500 رو پے جر ما نہ کیا جا ئے گا این سی او سی اور حکومتی فیصلے کے با و جو د کر اچی ،اسلا م آبا د ،لا ہو ر اور پشاور سمیت دیگر شہروں میں اس او پیز پر عمل نہ ہونے کے بر ابر ہے اس طرح با ز ا رو ں اور دیگر مقا ما ت پر ایس او پیز کو با لا ئے طا ق رکھا جا رہا ہے شہر یو ں کو بڑی تعد اد بغیر ما سک کے گھو م پھر رہی ہے اور سما جی فا صلہ بھی نہ ہونے کے بر ابر ہے ایس او پیز کی خلا ف ور زی پر کر اچی میں کچھ دکا نو ں کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
مو ذی مر ض کو رونا وائر س کی دوسر ی لہر کے پیش نظر صو رتحال ایک با ر پھر خر اب ہونے کا خد شہ ہے جس کی بڑی وجہ ایس او پیز پر عمل در آمد نہیں کر نا ہے پا کستان نے پہلے کو رونا وا ئر س کا بھر پو ر مقا بلہ کر تے ہوئے اسے کا فی حد تک بہت کم کیا جس میں حکومت پا کستان ،صو بائی حکو متو ں ،فور سز او ر فر نٹ لا ئن پر لڑ نے والے میڈ یکل سے متعلق افر اد کا سب سے اہم کر دا ر رہا ان سب نے مل کر احسن اقد ا ما ت کئے جس کے نتیجے میں کو رونا وا ئر س پر کا فی حد تک قا بو پا لیا گیا اس وجہ سے نہ صر ف ملک بھر میں کیسز کی تعد اد اور ہلا کتیں بھی بہت ہی کم ہوئیں حا لا نکہ دنیا بھر میں کو رونا وا ئر س سے بہت زیا دہ تعد اد میں ہلا کتیں ہو ئیں جو اب دوسر ی لہر آنے کے بعدحا لا ت خر اب ہونا ایک با ر پھر شر و ع ہو گئے ہیں جو بلا شبہ تشویش نا ک با ت ہے اس کے پیش نظر نیشنل کما نڈ اینڈ آپر یشن سنٹر (این سی او سی)نے ما سک کے استعما ل کی پا بند ی کو لا زم قر ار دیا ہے کیو نکہ ملک میں کو رونا وا ئر س کے کم ہونے کے بعد شہر یو ں نے ایس او پیز کی خلا ف ور زیا ں شر وع کر دیں انہو ں نے ما سک کو پہننا تر ک کر دیا اور اس کے سا تھ ساتھ فا صلے نہ رکھنے اور اجتما عا ت کی صور ت میں جمع ہونا شر وع کر دیا جس کے باعث اب ملک میں کور ونا وا ئر س کی دوسری لہر آنے کا خد شہ پید ا ہو گیا ہے جو ظا ہر ہے ایک خطر نا ک صو ر ت اختیا ر کر سکتا ہے۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ نیشنل کما نڈ اینڈ آپر یشن سنٹر (این سی او سی)کے مذکو رہ احکا ما ت پر بھرپو ر طر یقے سے عمل در آمد کیا جا ئے تا کہ دو با رہ کو رونا وبا ءتیز ی سے نہ پھیل سکے اور اس سے پھر ہلا کتیں نہ ہوں اس کے لیے عو ام کو بڑ ی محنت کرنی چا ہیئے ان کو ما سک کے استعما ل کو یقینی بنا تے ہوئے اس سلسلے میں ایس او پیز پر بھر پو ر طر یقے سے عمل در آمد کرنا چا ہیئے جب تک ایسا نہیں ہو تا اس وبا ءکے دو با رہ پھیلنے کا خطر ہ ہے اس لیے اس کو رو کنے کیلئے اقد ا ما ت کرنے چا ہئیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں متعلقہ محکمو ں کو بھی اپنا کر دا ر ادا کرنا چا ہیئے ان کو عو ام کو ایس او پیز پر عمل کرنے کے لیے پا بند کرنا چا ہیئے اور اگر عو ام اس کی خلا ف ور زی کر تی ہے تو اسے بھا ری جر مانہ کر نا چا ہیئے تا کہ وہ ایس او پیز پر عمل در آمد کرے۔
امید ہے کہ عو ام اور دیگر ادا رے ایک با ر پھر پہلے کی طر ح حکومت اور متعلقہ ادا رو ں سے کو رونا وا ئر س کی دو با رہ آنے والی لہر کا مقا بلہ کر تے ہوئے ایک با ر پھر سر خر و ہو ں گے جو یقینا ان کے بہتر ین مفا د میں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*