وقت کی آندھی

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
میں دہلی قطب مینار کے سائے میں ماضی کی عظیم الشان مسجد قوت الاسلام کے صحن کے ایک کونے میں برصغیر پاک و ہند کے دو طاقتور ترین مسلم حکمرانوں کے مقابر کے سامنے کھڑا دونوں کے مقابر کی شکستی خستہ حالی کو عبرت کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا چند سال پہلے جب میں شہنشاہ اجمیر خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے مزار پر انوار پر حاضری دینے بھارت گیا تو دہلی میں قیام کے دوران دہلی کے آٹھ صدیوں سے حقیقی سلطان بابا فرید گنج شکر کے رہبر اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سلطان الہند کے دلبر قطب الاقطب خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے سلطنت مہروی میں خواجہ قطب صاحب کو سلام کر نے گیا تو آپ کی سلطنت میں قطب مینار اور مسجد قوت الاسلام کے صحن میں مسلم سلاطین کے ان دو طاقتور ترین حکمرانوں کے مقابر کے سامنے کھڑا تھا ایک سلطان علا ﺅ الدین خلجی دوسرے شمس الدین التمش ‘ سلطان علاﺅ الدین خلجی مسلم سلاطین کا وہ خود سر مغرور طاقتور خوش قسمت جنگجو حکمران تھا کہ جس نے چوبیس سال کامیابی و کامرانی سے برصغیر پاک و ہند پر حکمرانی کی۔
کامیابی نے ساری زندگی علاﺅ الدین کے قدموں کو چوما۔علاﺅ الدین نے اپنے دور حکومت میں 84 مشکل ترین جنگوں میں حصہ لیا بہت سارے ایسے قلعوں کا محاصرہ کیا جو ناقبل تسخیر سمجھے جاتے تھے لیکن اِس نے ہر جنگ معرکے میں فتح حاصل کی ہندوستان بھر کے ہندو راجاﺅں کے خزانوں کو لوٹ کر اپنے خزانے میں جمع کیا یہاں تک کو ہ نور بھی پہلی بار اِس کے قلعے میں آیا خزانوں کے انبار لگ گئے کہ تالاب خالی کر کے ا±س کو سونے کے زیورات سے بھر دیا اتنا بڑا خزانہ کہ سکندر ثانی کا لقب اختیار کرکے دنیا کی فتح کا خواب دیکھنے لگا حکومت کا استحکام اتنا زیادہ کہ جب کوئی اور کام نہ رہا تو اکبر اعظم کی طرح اپنا مذہب بنانے کا خواب دیکھنے لگا لیکن یہ تو ا±س کے نیک وزیر نے اِن دونوں کاموں سے منع کیا ورنہ طاقت عروج اور مالی استحکام کی وجہ سے خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگا۔
عیاش اِس قدر کے جس راجے کی خوبرو بیوی پسند آتی لشکر لے کر ا±س پر چڑھ دوڑتا۔فتح کر کے ا±س کو اپنے حرم میں شامل کر لیتا طاقت دولت مقدر کا سکندر جو چاہا کیا ظلم و بربریت کے ریکارڈ توڑ ڈالے لیکن جب خدا کی لاٹھی حرکت میں آئی تو ایک ہیجڑے کو اپنا نائب بنایا ا±س نے ا±س کو زہر دے کر مار دیا ا±س کے تخت پر بیٹھ کر سارے خاندان اولاد کو قتل کر دیا دوسری طرف ساتھ وہ والا مقبرہ شمس الدین التمش کا جو نیک دل مہربان درویش صفت بادشاہ ہندوستان میں پہلے مسلم حکمران قطب الدین ایبک کا غلا م اپنی محنت قابلیت سے بلند مقام پر پہنچا یہاں تک کہ قطب الدین ایبک کی وفات کے بعد ہندوستان کے تخت پر بیٹھا لیکن یہ ایک نیک خدا ترس حکمران تھا جو بھیس بدل کر غریبوں مسکینوں کی مدد کر تا ان کے گھر وں میں جا کر راشن ڈالتا۔زیادہ وقت حمید الدین ناگوری اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی صحبت میں گزارتا یہاں تک کہ خواجہ قطب کے ہاتھوں مرید ہو کر راہ سلوک کا بھی مسافر بنا۔برصغیر پاک و ہند کا پہلا مسلمان حکمران جس نے عمری طرز کے سکے رائج کیے عظیم الشان سلطنت کا حکمران ہونے کے باوجود غرور نام کو نہ تھا نہایت مہر بان خدا ترس اور سخاوت کا پیکر تھا راتوں کو جاگ کر عبادت کر تا تھا بزرگوں عالموں درویشوں کی صحبت میں وقت گزارتا تھا نیکی کا یہ عالم کہ خواب میں فخر دو عالم سرور کائنات ? نے خواب میںآکر حوض تعمیر کر نے کا حکم دیا تو پھر عوام کے لیے عظیم الشان حوض شمسی تعمیر کیا تا کہ عوام کی پانی کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے غریبوں ضرورت مندوں کو دربار میں حاضر ہو نے کی عام اجازت تھی کہ بلا روک ٹوک کسی بھی وقت دربار میں حاضر ہو سکتے ہیں۔
نیکی پارسائی درویشی عبادت گزاری کا یہ عالم تھا کہ جب خواجہ غریب نواز کے جلیل القدر خلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا وصال ہوا تو انہوں نے وصیت کی تھی کہ میری نماز جنازہ وہ شخص پڑھائے گا جس نے کبھی عصر کی سنتیں قضا نہ کی ہوں نماز ہمیشہ باجماعت تکبیر اولی کے ساتھ پڑھی ہو اور ساری زندگی حرام کی طرف قدم نہ اٹھا یا ہو سارے مجمع میں اِن شرطوں پر صرف بادشاہ التمش ہی پورا اترا جس نے آگے بڑھ کر یہ کہ کر نماز جنازہ پڑھا کہ مرشد جاتے جاتے میری نیکی کا پر دہ چاک کر گئے۔میرے سامنے دو مقابر تھے ایک علاﺅ الدین خلجی کا جو طاقت مقدر اور دولت فتوحات کا بادشاہ تھا جبکہ دوسری طرف سلطان شمس الدین التمش جو نیک درویش سخاوت کا علمبردار تھا التمش کا مقبرہ وقت کی آندھیوں میں بھی کھڑا تھا جس پر قرآنی آیا ت اور سنگ مرمر کابنا قبر کا تعویز ا±س کی شان و شوکت کو آج بھی اظہار کر رہا تھا مقبرے کی دیواروں پر خوش خطی میں قرآنی آیات روح پرور نظارہ پیش کر تی ہیں میرے سامنے ایک ہندو گائیڈ اپنے طالب علموں کو دونوں بادشاہوں کی خوبیاں بیان کر رہا تھا تو کہہ رہا تھا التمش عوام دوست نیک بادشاہ تھا جبکہ علاﺅا لدین عیاش ظالم بادشاہ تھا صدیوں پر صدیاں چڑھ گئیں لیکن دونوں کے اوصاف آج بھی لوگوں کو یاد آتے ہیں التمش کا مقبرہ آج بھی اچھائی نیکی کا علمبردار ہے جبکہ علا ﺅ الدین کا مقبرہ ایک کھنڈر بن چکا ہے جس کی قبر کو بھی لوگ اکھاڑ کر لے گئے ہیں دیواریں گردش ایام اور وقت کی آندھیوں سے ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جس طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ بو ڑھے کے دانت گرتے ہیں اِسی طرح علاﺅ الدین کے مقبرے کے پتھر بھی ملبے کا ڈھیر بنتے جارہے ہیں۔
علاﺅ الدین نے مرنے کے بعد ایصال ثواب کے لیے سینکڑوں طلبا کا اسلامی مدرسہ قائم کیا تھا تاکہ وہ اس کی روح کو ثواب پہنچانے کے لیے دن رات قرآن خوانی کر یں لیکن وہ مدرسہ بھی ملبے کا ڈھیر بن گیا تاریخ کا سیلاب اور وقت کی آندھی مظبوط طاقت ور مقبرے کو کھنڈر میں تبدیل کر چکی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ مقبرہ کھنڈر اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہا ہے سالوں کی چند کروٹوں کے بعد اِس ملبے کا بھی نشان نہیں بچے گا تاریخ صرف نیک عوام دوست حکمرانوں کو یاد رکھتی ہے دنیاوی زندگی میں ناقابل تسخیر رہنے والے سلطان کی قبروں کے آج نشان تک نہیں ہیں آجکل وطن عزیز میں مہنگائی غربت ناانصافی لوٹ مار کی آندھی چل رہی ہے۔
موجودہ حکمران دن رات خوشامدی مشیروں کے حلقے میںباتوں تقریروں دعوﺅں کے گیت آلاپ رہے ہیں اگر آج کے حکمرانوں نے ظلم غربت مہنگائی کی آندھی کو نہ روکا تو پھر تاریخ اور مورخ اِن کا نام گمنام حکمرانوں میں شامل کر دے گا تاریخ صرف ان لوگوں کو اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے جو باتیں تقریریں دعوے نہیں بلکہ عمل کر تے ہیں عوام کو سکھ پہنچانے کی کو ششیں کر تے ہیں اگر حکمرانوں نے خود کو نہ سدھارا تو یہ تاریخ کے سنہری صفحوں پر نہیں بلکہ تاریخ کے کوڑے دان میں گمنامی میں پڑے ہوں گے جن کی کوئی پھر گرد بھی صاف نہیں کرتا۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*