گندم کی کوئی قلت نہیں۔۔۔۔!!!

گزشتہ روز وفاقی وزراءسید فخر امام،شبلی فراز اور حماد اظہر نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ملک مےں گندم کی کوئی قلت نہیں ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے مشکل آرہی ہے، کچھ لوگوں نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی حکومت سندھ نے گزشتہ برس گندم کی خریداری نہیں کی ۔ایک لاکھ ٹن چینی پنجاب مےں سپلائی کی جارہی ہے جبکہ مزید 50 ہزار ٹن چینی چند روز مےںپورٹ پر پہنچ جا ئے گی۔اس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مہنگائی مےں کمی کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، ریاست مدینہ کا ماڈل ہمارے لیئے نمونہ ہے۔
وفاقی وزراءسید فخر امام،شبلی فراز اور حماد اظہر کا مذکورہ مشترکہ بیان کچھ حقیقت سے ہٹ کر لگتا ہے جس مےں انہوں نے گندم اور چینی کی بات کی ہے ۔ کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک مےں آٹے اور چینی بہت مہنگی ہےں۔چینی تو بہت یہ مہنگی فروخت ہو رہی ہے جبکہ آٹے کی قیمتیں بھی زیادہ ہےں اس کے باوجود مذکورہ بیان دینا ایک عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر لگتا ہے۔ جب بقول وفاقی وزراءکے ملک مےں گندم کی کوئی قلت نہیں تو پر آٹا کیوں مہنگا ہے؟اگر اس مےں ذخیرہ اندوزوں کا کردار ہے تو ان کو کون پکڑے گا ؟ کیا وہ اتنے طاقتور ہےں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے سامنے بے بس ہےں۔ جہاں تک چینی کی بات ہے تو اس بارے بھی مذکورہ وزراءصورتحال واضع کر رہے ہےں کہ ایک لاکھ ٹن چینی پنجاب مےں سپلائی کی جارہی ہے جبکہ 50 ہزار ٹن مزید چند روز مےں پورٹ پر پہنچ جائے گی۔بظاہر مذکورہ اعداد و شمار کا عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا اس وقت مارکیٹ مےں چینی 100 روپے سے زائد کلو فروخت ہورہی ہے جو 55 روپے کلو تھی اس طرح اس کی قیمتوں مےں 100 فیصد اضافہ کیا گیا ۔ اس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنا یا گیا جس نے اپنی رپورٹ مےں اس سکینڈل مےں ملوث لوگوں کے نام
بتا ئے اور اس رپورٹ کو حکومت نے پبلک بھی کیا جو اس حکومت کا ایک اچھا کارنامہ بھی ہے اس مےں وزراءاور اہم شخصیت جہانگیر ترین کا نام بھی آیا جس کا وزیر اعظم عمران خان نے جر اتمندانہ طور پر خود انکشاف کیا حالانکہ جہانگیر ترین ان کے بہت ہی قابل اعتماد ساتھی رہے ہےںجن کا پاکستان تحریک انصاف بنانے مےں بڑا اہم کردار ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حقیقت عوام کے سامنے رکھی۔ لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اب تک چینی کی قیمتوں مےں کمی نہ آسکی معلوم نہیں کہ اب حکومت کو کس کا انتظار ہے ؟ جو آکر یہ گھمبیر مسئلہ حل کریگا ۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے چینی اور آٹے کی قیمتوں مےں معمولی کمی کرنے کی خبریں بھی آرہی ہےں اگر ایسا ہے تو یہ عوام کے ساتھ بہت زیادتی کے مترادف اقدام ہو گا ۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے گا کہ شاید پھر وفاقی وزراءکا مذکورہ بیان عوامیقین دہانی یا دلاسہ دینے کیلئے دیا جارہا ہے۔
اس لیئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو اس سلسلے مےں فوری طور پر اپنی پوزیشن واضع کرتے ہوئے آٹے کی قیمتوں مےں کمی لانے کے لیئے اقدامات کرنے چاہئیں جو کہ نہایت ہی ناگزیر ہےں کیونکہ اس وقت عوام شدید معاشی بحران کا شکار ہے، اور حکومت کو عوام کو اس بحران سے فوری طور پر نکالنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں جو کہ نہ صرف عوام بلکہ حکومت کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*