فرانس کےساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے پرغور کر رہے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی

speaker national assembly asad qaisar

پشاور(آئی این پی )اسپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کہاہے کہ اسلام کے نام پرحکومت کیخلاف نشترچلانے والوں کواسلام کی نہیں اپنی کرسی کافکرہے،فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے پرغور کر رہے ہیں۔ اسلام اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کی شان اقدس میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کاحقیقی تصورپیش کیا، پانچویں جماعت سے لیکرنویں جماعت تک تعلیمی نصاب میں حضرت محمد کی سیرت شامل کی جائیگی،موجودہ دورحکو مت میں وہ تمام اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جوماضی میں نام نہاددینی جماعتوں کے دوراقتدارمیں نہیں اٹھائے گئے، سود کیخلاف قانون پاس کرنااورمساجدمیں سولرسسٹم لگانابھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کی مرہون منت ہے،موجودہ حکومت پاکستان کی تاریخ کاواحدحکومت ہے جوپسماندہ طبقے کواوپرلانے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔پاکستان میں امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے،سی پیک کوافغانستان تک توسیع دینا چاہتے ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو یونین کونسل بٹاکاراضلع صوابی میں گورنمنٹ پرائمری سکول اور پیہورہاملیٹ روڈکے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اسد قیصر نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی تاریخ کابھی وہ واحدلیڈرہے جنہوں نے اقوام متحدہ میں حضرت محمد کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کیخلاف آوازاٹھائی اورکہاکہ آزادی اظہاررائے کے نام پرمسلمانوں کے جذبات مجروح کرکے ہمارے دلوں کورنجیدہ نہ کیاجائے، حضرت محمد کیساتھ محبت کرناہمارے ایمان کاجزہے۔انہوں نے کہاکہ سرورقونین حضرت محمد کے ایک بال بدلے دنیاجہان کی مال ودولت کوبھی خس سمجھتے ہیں، حضرت محمد کی شان میں گستاخی کسی صورت بھی برداشت نہیں۔سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرنے کہاکہ اسلام کے نام پرحکومت کیخلاف نشترچلانے والوں کواسلام کی نہیں اپنی کرسی کافکرہے،اسلام کوالحمداللہ کوئی خطرہ نہیں مگریہ نام نہازلیڈراپنی کرسی کے غم میں ضرورایسے ہتھکنڈوے استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب تک مجھ میں جان ہے دین کوخطرہ تودورکی بات ایک لفظ بھی کوئی تبدیل نہیں کرسکتا،ہم اسلام کے سپاہی ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان کیساتھ نئے سرے سے تعلقات کاآغازکردیاہے، جس میں رشکئی اکنامک زون کلیدی کردارادا کریگا، وزیراعظم عمران خان 21نومبرکو رشکئی اکنامک زون کا افتتاح کریں گے۔ رشکئی اکنامک زون سے مقامی افراد کو روزگار کے بہترین اور زیادہ مواقع میسرآئیں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں،پاکستان میں امن افغانستان میں امن سے مشروط ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان کیساتھ تجارت کے ذریعے ہم وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں،وسطی ایشیا تک رسائی کیلئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ چائناپاکستان اقتصادی راہداری کوافغانستان تک توسیع دی جائے جس سے افغانستان میں عوام کو نہ صرف روزگارکے وافر مواقع فراہم ہوں گے بلکہ دہشت گردی کاخاتمہ بھی ممکن ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*