نبی کی شان میں توہین کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا،عمران خان

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ نبی کی شان میں توہین کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا،عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت ہے، پاکستان اور بوسنیا کے کے درمیان تجارت کا حجم 4.5 ملین یورو ہے،مزید بڑھائیں گے جبکہ بوسنیا کے صدرشفیق جعفر ووچ نے مطالبہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کیا جائے ، پاکستان اور بوسنیا دوست ممالک ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے،دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، دوسروں کے مذہبی جذبات کا بھی خیال کیا جانا چاہئے، آزادی اظہار رائے کی حدود و قیود ہونی چاہئیں۔بدھ کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بوسنیا، ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفرووچ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔اس موقع پردونوں ممالک کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی اور دونوں ممالک کے شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے بوسنیا، ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفرووچ کا پاکستان کے دورہ پر آمد پر بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ 90کی دہائی میں بوسنیا کے شہریوں کی مشکل کی گھڑی میں پاکستان کے عوام نے بھرپور مدد کی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان ان معاہدوں سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 4.5 ملین یورو ہے، ہم اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں اور ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں اور تجارت سمیت ہر شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان بوسنیاکے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بوسنیا، ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چئیرمین شفیق جعفرووچ اور بوسنیا کی حکومت کے کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت پر شکرگزار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت ہے، آزادی اظہار رائے کو کسی بھی مذہب ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہم نے فرانس میں گستاخانہ مواد کے معاملے پر بھی بات کی ہے۔ آزادی اظہار کی آزادی اظہاررائے کی آڑ میں مسلمانوں کی توہین نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کوئی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ رسولپاک کی ذات کی حرمت مسلمانوں کے لیے بہت اہم معاملہ ہے ، اس بات کو یورپی اور مغربی ممالک کو سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گستاخانہ مواد کی تشہیرکی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا، ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفرووچ کی جانب سے دورہ بوسنیا کی دعوت دینے پر ان کا شکر گزار ہوں۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے بوسنیا، ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفرووچ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر دورہ پاکستان پر بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان اور بوسنیا دوست ممالک ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد بوسنیا ہرزیگووینا کی امداد پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے کے بعد پاکستان میں سکولوں کی تعمیر اور دیگر منصوبوں حوالے سے جو کچھ کر سکتے تھے ہم نے کیا۔ انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک نے مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع موجود ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان 4.5ملین یورو کی تجارت کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ امن مشن کے تحت پاکستانی دستوں نے بوسنیا میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پر امن حل انسانی حقوق کنونشن کے تحت حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اہم مسئلہ ہے، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلے کا حل ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم فرانس اور آسٹریا میں دہشت گردی کے حملوں کی مذمت کرتے ہیں اس معاملے پرواضح موقف ہے کہ برائی سے کوئی اچھائی نہیں نکل سکتی ہم پوری دنیا میں اسلاموفوبیا کی مذمت کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جانے کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کے مذہبی جذبات کا بھی خیال کیا جانا چاہئے، آزادی اظہار رائے کی حدود و قیود ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا کا معاشرہ متنوع اورمتحد ہے،پاکستان نے کورونا وبا کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کوروناوبا کی روک تھام کےلئے مدد کی پیش کش کی ہے جس پران کے شکر گزار ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو بوسنیا کے دورے کی دعوت دی ہے ، امید ہے جلد وہ ہمارے ملک کا دورہ کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*