حکومت کو سو ل سر و نٹس کی مشکلا ت کا اند از ہ ہے

و زیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کا گذ شتہ
رو ز ویڈ یو لنک اجلا س سے خطا ب کر تے ہوئے یہ
وا ضح کیا کہ حکومت کو سو ل سر و نٹس کی مشکلا ت کا اند ا زہ ہے اس طرح ان مشکلا ت کو احتجا ج اور دھر نے دیکر حل نہیں کیا جا سکتا ملا ز مین کو عو امی فلا ح و بہبو د کو مقدم رکھتے ہو ئے سر کا ری امو ر کو احسن طر یقے سے بلا تعطل جا ری رکھنا ہو گا حکومت سو ل سر و نٹس کی مشکلا ت کو دو ر کرنے اور سو ل سر و س کو مز ید مو ثر بنا نے کیلئے تما م ممکنہ اقد اما ت اٹھا رہی ہے سو ل سیکر ٹر یٹ کے تما م کیڈز کے آفسر و ں کے مسائل کو تر جیحی بنیا دو ں پر حل کیا جا ئے گا ملا زمین کے انشو رنس کا ر ڈ کے اجر اءکیلئے اقد اما ت کئے جا رہے ہیں۔
وز یر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کا مذکو رہ بیان اس با ت کی غما ز ی کر تا ہے کہ وہ سو ل سر ونٹس کے مسائل حل کیلئے کو شا ں ہیں اور ان کو حل کرنا چا ہتے ہیں یہ ان کی مز دو ر دوستی کا ثبو ت ہے انہوں نے سو ل
سر و نٹس کی مشکلا ت کا اند ا ز ہ لگاکر اس عزم کا اظہا ر کیا ہے کہ وہ ملا زمین کی فلا ح و بہبو د چا ہتے ہیں جن کے لیے انہو ں نے متعلقہ حکام کو با قا عد ہ ہد ا یا ت بھی جا ری کر دی ہیں یہ با ت بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ مشکلا ت کو احتجا ج اور دھر نے دیکر حل نہیں کیا جا سکتا لیکن یہا ں
با ت زیر غو ر ہے کہ حکومت اس وقت تک مسائل حل کرنے کی جا نب کوئی تو جہ نہیں دیتی جب تک احتجا ج کا را ستہ نہ اپنا یا جائے اس لیے حکومت کو چا ہیئے کہ وہ
ملا زمین کے مسائل کو سنجید ہ لیتے ہوئے ان کو مستقل
بنیا دو ں پر حل کرے جب حکومت اس سلسلے میں سست رو ی کامظا ہر ہ کر تی ہے تو ملا زمین کو مجبو راً ہڑ تا ل اور
دھر نے کا سہا را لینا پڑ تا ہے اس لیے یہا ں حکومت کو اس سلسلے میں پہل کر نی چا ہیئے جہا ں تک سول سیکر ٹر یٹ کے تما م کیڈ ر کے آفیسر وں کے مسائل کے حل کرنے کی با ت ہے تو اس سلسلے میں ایک اہم با ت کا ذکر یہا ں کرنا ضروری ہے کہ حکومت کو تما م ملا زمین کے سا تھ مسا وی سلو ک کر نا چا ہیئے کیو نکہ یہ معا ملا ت با لکل مختلف ہیں کہ حکومت سو ل سیکر ٹر یٹ کے ملا زمین کو دیگر سر کا ری
ملا زمین پر زیا دہ تر جیح دیتی ہے ا ن کی تنخو اہیں اور مر اعا ت دیگر سر کا ری ملا زمین سے ز یا دہ ہو تی ہیں جو کہ یقینا
قا بل مذمت ہے حکومت کو تما م ملا زمین کے سا تھ
یکسا ں سلو ک کر نا چا ہیئے ان میں گٹیگر ی بنا نے کی ضرورت نہیں ہو نی چا ہیئے حکومت کے اس اقد ام سے دیگر سر کا ری ملا زمین میں احسا س محر ومی پید ا ہو تا ہے
جو کہ اچھی با ت نہیں ہے یہا ں سر کا ری ملا زمین کو بھی اپنے فر ائض منصبی احسن طر یقے سے ادا کرنے کی
اشد ضرور ت ہے کیونکہ افسو س کی با ت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ ملا زمین یو نین با زی کر تے ہیں اس طرح وہ اپنے سر کا ری امو ر کی جا نب بھر پو ر تو جہ نہیں دے سکتے جو کہ بد دیا نتی کے زمر ے میں آتا ہے۔
حکومت کو سر کا ری ملا زمین کو ریلیف دینے کے لیے ان کو مر اعا ت دینے کے سا تھ سا تھ صو بے میں بڑ ھتی ہوئی مہنگائی کی رو ک تھا م کے لیے اقد اما ت کرنے چاہئیں کیو نکہ اس سے سر کا ری ملا زمین بہت زیا دہ متا ثر ہو رہے ہیں ا س سا ل بجٹ میں بھی سر کا ری ملا زمین کی تنخو ا ہو ں اور پنشن میں بھی کوئی کسی قسم کا اضا فہ نہیں کیا گیا جس کے مقا بلے میں مہنگائی میں بہت
زیا دہ اضا فہ نہ صر ف ہو ا ہے بلکہ تیز ی سے مز ید بھی
ہو ر ہا ہے۔
بلوچستان کے سرکا ری ملا زمین کوامید ہے کہ وز یر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان جو ان کے مسائل سے نہ صر ف آگا ہ ہیں بلکہ ان کو حل کرنے کی بھی بھر پو ر صلا حیت رکھتے ہیں مسائل حل کرکے ان کو بھر پو ر ریلیف دینے کے اقداما ت کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*