پشا ور میں دہشت گردی

گذ شتہ رو ز خیبر پختو نخوا کے صو بائی دا ر الحکومت پشا ور میں ایک مد رسے میں ہونیو الے دھما کے میں 8 افر اد جا ں بحق اور متعد د زخمی ہو گئے دھما کے کے وقت مدر سے میں قر آن پا ک کی کلا س جا ری تھی حکام کے مطا بق ایک بیگ میں 5 سے 6 کلو دھما کہ خیز مو اد رکھا گیا تھا تعلیم و تد ر یس حا صل کرنے والے طلبہ پر حملہ کرنے والو ں کا انسا نیت سے کوئی تعلق نہیں صد ر مملکت ڈاکٹر عا ر ف علو ی ،و ز یر اعظم عمر ان خان،وز ر اءاور دیگر سیا سی و سما جی شخصیا ت نے وا قعے کی پر زو ر مذمت کی ۔
پشا ور کے ایک مد ر سے میں معصو م بچو ں کو د ہشت گر د ی کا نشا نہ بنا نا قا بل مذمت اقد ام ہے ا س کی جتنی بھی مذمت کی جا ئے کم ہے کیو نکہ یہ دہشت گر د وں کی ایک بہت بڑی گھنا ﺅنی حر کت ہے اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ د ہشت گر د وں کا کوئی مذہب نہیںہو تا ہے اور نہ ہی ان کا انسا نیت سے کوئی تعلق وہ ایسے گھنا ﺅ نے انسا یت سو ز کا م کر تے ہیں ان کو ایسا کرتے ہوئے یہ با کل نظر نہیں آتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟شا ید وہ یہ نہیں
جا نتے کہ ایسے کا مو ں کا انجا م بڑ ا ہی گھنا ﺅ نا ہو تا ہے لیکن ا ن سما ج دشمن عنا صر کو اس کی کوئی پر و اہ نہیں اور وہ معصو م لو گو ں کا خو ن کر تے ہیں یہ صر ف اپنے ذ اتی فوا ئد اور مفا دا ت کیلئے وہ ایسا کر تے ہیں۔
بتا یا جا تا ہے کہ جس وقت مد ر سے میں بم دھما کہ ہو ا تو اس وقت قر آن پا ک کی کلا س جا ری تھی اس دو ران ان معصو م بچوں کو بر بر یت کا نشا نہ بنا یا گیا وہ معصوم بچے توشہا دت کا عظیم رتبہ پا گئے لیکن ان گھنا ﺅ نی عمل کرنے والو ں کو انجا م عبر تنا ک ہوگا۔
ملک میں د ہشت گر د ی کی مذکو رہ لہر آنا قا بل تشو یش ہے کیو نکہ دو ر و ز قبل ہی صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں بھی بم دھماکہ ہو ا تھا اس میں بھی ہلا کتیں اور بعض افر اد زخمی ہو ئے تھے اس لیے اس کی رو ک تھا م کے لیے سیکیو ر ٹی کے انتظا ما ت مز ید سخت کرنے ہونگے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہما ری سیکیو رٹی فو ر سز اپنے فر ائض احسن طر یقے سے سر انجا م دے رہی ہیں انہو ں نے ملک سے د ہشت گر دی کے خا تمے کے لیے احسن اقد اما ت کئے ہیں جن میں انہو ں نے اپنی قیمتی جا نو ں کا نذ رانہ بھی پیش کیا ہے اور اس طرح ان کے حوصلے بلند ہیں وہ ملک سے د ہشت گر د ی کو جڑ سے اکھا ڑ پھینکنے کے لیے پر عزم ہیں وہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا کوئی کمپر و ما ئز نہیں کر یں گے وہ اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اس طرح د ہشت گر دو ں کویہ با ت ذ ہن نشین کر لینی چا ہییے کہ وہ ان کا خا تمہ نا گز یر ہے جس طرح سیکیو رٹی فو ر سز نے د ہشت گر دو ں کا بڑے پیما نے کا خا تمہ کیا ہے اب ان کے لیے اب ان بچے کچھے د ہشت گر د و ں کو ختم کرنا کوئی مشکل کا م نہیں ہے اس لیے د ہشت گر دو ں کو بھی اس با ت کو ذ ہن میں رکھتے ہوئے اس نا رو ا کا م کو خیر با د کرناچا ہیئے اگر وہ ایسا نہیں کر تے تو ان کا انجا م بھی ختم کئے گئے دہشت گر دو ں کی طرح ہو گا اور اس طرح ملک کو ایک با ر پھر د ہشت گر دی جیسے نا سو ر سے پا ک کر کے امن کاگہو را ہ بنا دیا جا ئے گا اس کے لیے عو ام کو بھی سیکیو رٹی فورسز کے
سا تھ بھر پو ر تعا ون کرنا ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*