پا کستا ن میں کو رونا وا ئر س کے دو با رہ پھیلا ﺅ کی صو رتحا ل تشو یشنا ک نہیں،صد ر مملکت

کوئٹہ(خ ن) صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاو¿ کی صورتحال تشویش ناک نہیں تاہم حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے. فرانس سمیت بہت سے ممالک میں صورتحال ایک بار پھر تشویشناک ہورہی ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ گورنرہاوس میں گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وفاقی وزیر منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام، صوبائی وزرائ میر سلیم خان کھوسو، نورمحمد دمڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر، سیکرٹری زراعت قمبر دشتی بھی موجود تھے. گورنر بلوچستان نے صدر کو بتایا کہ صوبے بھر میں ایس او پیز کے تحت صوبے بھر کی تمام پبلک یونیورسٹیوں میں درس وتدریس کا عمل شروع کر دیا گیا ہے. چیف سیکرٹری بلوچستان نے صدر مملکت عارف علوی کو بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت کورونا وائرس کا تناسب 1 اشاریہ چار سے اشاریہ پانچ فیصد تک ہے. صوبے میں اسوقت کورونا وائرس میں پندرہ اضلاع انگیج ہیں اور پازیٹو کیسز کی موجودہ تعداد 213 ہے. صدر مملکت عارف علوی نے بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحیثںت ذمہ دار قوم کے ہمیں احتیاطی تدابیر کا دامن تھام کر رکھنا ہے اور کورونا وائرس کی روک تھام اپنا اجتماعی اور انفرادی کردار ادا کرنا ہے۔در یں اثنا ءصدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں زرعی ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جسے بہتر حکمت عملی سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے. صوبے میں کراپس ایڈنٹی فکیشن کیلئے سپارکو سے قریبی رابطہ کاری قائم کرکے جدید تکنیک سے فائدہ اٹھایا جائے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنرہاوس میں زرعی ترقی و توسیع سے متعلق منعقدہ اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا. اجلاس میں گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی، وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام، صوبائی وزراءمیر سلیم خان کھوسو، نور محمد دومڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر، سیکرٹری زراعت قمبر دشتی اور پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر شاہنواز علی بھی موجود تھے. صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کے  زرعی مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے. ان مقاصد کے حصول کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے  جبکہ وفاقی حکومت کے بلین ٹریز پروجیکٹ کو ایگریکلچر اسٹریٹیجی سے لنک کرکے زرعی ترقی کی بہتری کیلئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے. صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت، مالداری اور فشریز میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ان شعبوں کی ترقی کیلئے درست سمت میں اقدامات کی ضرورت ہے. دستیاب آبی وسائل کا درست اور محتاط استعمال پائیدار زرعی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے. انہوں نے کہا کہ اس وقت چین سمیت پوری دنیا میں حلال گوشت کی مانگ ہے بلوچستان کی بھیڑ بکریوں میں منہ اور کھر کی بیماریوں پر قابو پاکر ایک بہت بڑا زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے. انہوں نے کہا کہ صوبے میں پیدا ہونے والی مختلف فصلوں سے متعلق  بروقت معلومات کے حصول کے لیے سپارکو سے تیکنکی معاونت حاصل کی جائے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے زرعی معلومات کے لیے بنائی گئی. آئی ٹی ایپلیکیشن سے معاون ثابت ہو سکتی ہے. صدر مملکت نے کہا کہ زرعی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ہنرمند افرادی قوت ضروری ہے اس مقصد کیلئے نیشنل اسکلڈ یونیورسٹی سے خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں. صدر مملکت نے کہا کہ زراعت کے علاوہ صوبے میں پی ایس ڈی پی کے ترقیاتی عمل کا جائزہ سیٹلائیٹ ایمیجری سے باآسانی لیا جاسکتا ہے  صدر عارف علوی نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت اور فشریز کی ترقی کے لیے مشاورت و معاونت کے مقاصد کیلئے وفاقی وزارت فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سے قریبی رابطہ کاری قائم کی جائے. صدر مملکت نے بلوچستان کا موسم اور سرزمین زیتون کی کاشت کیلئے بہت موزوں ہے زرعی شعبے میں زیتون کی فصل میں زمینداروں کی معاونت کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں. اجلاس میں وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام نے صدر مملکت کو بلوچستان میں پیدا ہونے والی مختلف فصلوں اور موقعوں کی فراہمی پر تفصیلی بریفنگ دی. اجلاس میں گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی نے بتایا کہ بلوچستان میں لائیو اسٹاک اور زراعت کی ترقی کے بےپناہ مواقع موجود ہیں جن کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے. ان دونوں شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے چین نے بھی غیرمعمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اس سلسلے میں چین نے بیلہ میں دو ہزار ایکٹر پر تجرباتی پلانٹ قائم کرنے کیلئے حکومت بلوچستان سے مفاہمتی یاداشت دستخط کی ہے. اس معاہدے کے تحت دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر سال پی ایچ ڈی کی پانچ اسکالر شپ بھی فراہم کی جائیں گی. یہ منصوبہ کوویڈ-نائنٹین کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا. صورتحال معمول پر آتے ہی اس میں پیش رفت شروع ہو جائے گی. اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر نے بلوچستان میں زرعی شعبے اور دستیاب آبی وسائل سے متعلق بریفنگ دی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*