غر یب عو ام مہنگا علا ج بر دا شت نہیں کر سکتے

وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نے گذشتہ رو ز بلوچستان انسٹی ٹیو ٹ آف نیفر الو جی کی کا ر کر د گی کے جا ئز ہ اجلا س سے خطا ب کر تے ہوئے کہا ہے کہ صو بے کے غر یب عو ام مہنگا علا ج بر داشت نہیں کر سکتے نجی اور سر کا ری ہسپتا لوں میں صحیح تشخیص کے فقد ان کے باعث عو ام کو طو یل علا ج اور اخر اجا ت بر داشت کرنے پڑ تے ہیں صحت کے ادا روں میں تحقیق ریسرچ کے ذ ر یعے تشخیص کے عمل کو کا مل بنا نے کی ضرورت ہے۔
صو بے میں غر یب عو ام کے مہنگا علا ج بر دا شت نہ کرنے کی وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کی مذکو رہ با ت بلا شبہ عو ام کی آوا ز ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ صو بائی دا ر الحکومت سمیت صو بے بھر میں عو ام صحت کی سہو لتوں سے یکسر محر وم ہیں ان کا سر کا ری ہسپتا لوں میں علا ج صحیح طر یقے سے نہیں کیا جاتا جہا ں سب سے بڑ ااور اہم مسئلہ ادو یا ت کی عد م فر اہمی ہے اس کے سا تھ سا تھ مہنگے ٹیسٹ بھی ہیں جو ان کو با ہر سے کر وانے پڑ تے ہیں کیو نکہ سرکا ری ہسپتا لو ں میں ان کی سہو لت یا تو مو جو د نہیں یا پھر مشینر ی ہونے کے با وجو د ان کو چلانے والے ٹیکنشن دستیا ب نہیں ہیں لیبا ر ٹر یو ں کا یہ عا لم ہے کہ چند مخصو ص ٹیسٹ مخصو ص وقت پر ہی کئے جا تے ہیں ٹا ئم ختم ہونے کے بعد وہ ٹیسٹ غر یب عو ام کو با ہر سے کر وانے پڑ تے ہیں کیو نکہ وہ مجبو ر ہیں انہو ں نے تو بہر حا ل علا ج کر وانا ہے اس کے لیے ا ن کو جو کچھ بھی کر نا پڑ ے وہ کریں گے۔
دوسر ی جا نب سر کا ری ہسپتا لو ں میں صفائی اور دیگر سہو لتو ں کا بھی فقد ان ہے وا رڈوں کی خستہ حا لت،با تھ رو مز کی بری حالت اور نا قص صفائی کے سا تھ سا تھ بیڈز بھی ٹو ٹ پھو ٹ کا شکا ر ہیں صوبائی دا ر الحکومت کوئٹہ کے شعبہ حا دثا ت جو انتہائی اہم مقام ہے کی مر مت کاکا م ادھو را چھو ڑ دیا گیا ہے جس کے باعث رو زا نہ کی بنیا د پر بے شما ر آنے والے مر یضوں کو شد ید مشکلا ت کا سا منا کرنا پڑ تا ہے کیو نکہ جیسا کہ او پر در ج کیا جا چکا ہے کہ یہ بہت اہم جگہ ہے یہاں 24 گھنٹے نہ صر ف کوئٹہ بلکہ شہر سے با ہر کے لو گو ں کی بڑی تعد اد آتی ہے یہا ں بھی ان کو ادو یا ت کی فر اہمی اور ٹیسٹوں سے محروم رکھا جا تا ہے حالا نکہ یہا ں آنے والے اکثر مر یض سیر یس ہو تے ہیں ان کو فو ری طبی امد اد کی ضرورت ہو تی ہے لیکن یہاں سہو لتوں کی عدم دستیا بی کے باعث ان کو بھی بہت دشو ا ری ہو تی ہے کیو نکہ ان کے لو ا حقین کوبھی با ز ار سے دو ائیں خر ید نے کا کہا جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستا ن جا م کما ل خان نے جن کے پا س محکمہ صحت کا قلمد ان بھی ہے اپنے مذکو رہ بیان میںعو ام دوستی کا مظا ہر ہ کیا ہے انہو ں نے یہ وا ضح کر دیا ہے کہ پر ائیو یٹ کلینکس اور ہسپتا ل ایسے ادا رے ہیں جہا ں غریب آدمی کاعلا ج نا ممکن ہے ۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان کواپنی عو ام دوستی اور ان کی مجبو ر یو ں کا احساس کر تے ہوئے سرکا ری ہسپتا لو ں میں غر یب عوا م کو سہو لتیں فر اہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو احکا ما ت جا ری کریں کیو نکہ عو ام نے ان سے اس سلسلے میں بڑی امید ں وا بستہ کر رکھی ہیں امید ہے کہ وہ ان پرپو ر ا اتریںگے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*