گند م اور چینی کی منا سب قیمت پردستیا بی

وزیر اعظم عمر ان خان نے ایک با ر پھر اپنے عزم کا اظہا ر کر تے ہوئے متعلقہ حکام کو گند م کی ضرور یا ت کو مد نظر رکھتے ہو ئے و افر دستیا بی کو یقینی بنا نے کے سا تھ سا تھ گند م کی در آمد میں پیش رفت پر انہیں مسلسل آگا ہ رکھنے کی ہد ایت کر تے ہوئے کہا ہے کہ گند م اور چینی عو ام کی بنیا د ی ضرورت ہیں ان کی دستیا بی اور منا سب قیمت کو یقینی بنایا جائے یہ ہدا یا ت انہو ں نے اسلا م آبا د میں ہونے والے جائز ہ اجلا س سے خطا ب کر تے ہوئے دیں۔
ملک میں گند م اور چینی کی منا سب قیمتو ں پر دستیا بی ایک بہت بڑ ا مسئلہ ہے یہ صو رتحال کنٹر ول نہ ہونے کی وجہ سے رو ز بر و ز مز ید بے قا بو ہو رہی ہے جو کہ ایک بڑی پر یشا نی کی با ت ہے ملک میں چینی کی صو رتحال یہ ہے کہ یہ 55 رو پے فی کلو سے بڑ ھتے بڑ ھتے اس وقت 100 رو پے کے قر یب پہنچ گئی ہے لیکن حکومت اب تک اس سلسلے میں محض دعو ﺅ ں اور اعلا نا ت کے سو اکچھ نہیں کر رہی ہے حا لا نکہ چینی کے بحران اور اس کی بڑ ھتی ہو ئی قیمتو ں کو کنٹر ول کرنے کے لیے ایک کمیشن بنا یا گیا جس میں اس کے ذمہ دا رو ں کا تعین کیا گیا جن میں حکومت میں شا مل لو گ بھی ہیں ان میں وزیر اعظم عمر ان خان کے انتہائی قر یبی سا تھی جہا نگیر خان کا نا م بھی آیا لیکن یہا ں پر وزیر اعظم عمر ان خان نے ان تما م چیز و ں کو با لائے طاق رکھتے ہو ئے اس رپو رٹ کو نہ صر ف عام کیا بلکہ اس میں ملو ث لو گو ں جن میں جہا نگر تر ین کا نا م بھی شا مل تھا بتا نے میں کوئی ہچکچا ہٹ محسو س نہیں کی حا لا نکہ جہا نگیر تر ین ان کے بڑ ے اہم سا تھی ہیں بلکہ ان کا پا کستا ن تحر یک انصا ف کو بنا نے سپو رٹ کرنے اور پھر اس کی حکومت بنا نے میں بڑ ا اہم کر دا رہے لیکن اس کے با وجو د وزیر اعظم عمر ان خان نے جر ا ت مندی کا مظا ہر ہ کر تے ہوئے ان کا نا م بھی لیا یہ ان کا بلا شبہ قا بل تعر یف اقد ام ہے لیکن افسو س کی با ت یہ ہے کہ کمیشن کی رپو رٹ کے آنے کے با وجو د چینی کی قیمتو ں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہو ئی بلکہ اس میں مز ید اضا فہ ہورہا ہے جو اب 100 رو پے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جہا ںتک آٹے کا قلت کا تعلق ہے تو یہ بھی ہررو ز ایک نئے ریٹ کے سا تھ فر و خت ہورہا ہے جو کہ حکومت کے لیے ایک بہت بڑ ے لمحہ فکر یہ سے کم نہیں ہے یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر وزیر اعظم عمر ان خان کچھ کچھ دنو ں کے بعد اس سلسلے میں ایک بیان دے دیتے ہیں اور پھر خا مو شی چھا جا تی ہے اس کا یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ شا ہد متعلقہ حکام ان کے احکام نہیں ما نتے یا پھر حکومت کو اپنے احکاما ت منو انا نہیں آتے ۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو صر ف بیا نا ت اور دعو ے کرنے کی بجا ئے عملی طو ر پر اقد اما ت کرنے چاہئیں کیو نکہ آٹا اور چینی بنیا دی استعما ل کی چیز یں ہیں یہ ہر غر یب اور امیر آ دمی کی ضرورت ہے ان کی قیمتو ں میں اضا فے سے وہ بڑی پر یشا نی سے دو چا ر ہے ان کی قیمتو ں میں فو ری طو ر پر کمی کر کے عو ام کو ریلیف دیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*