گدڑِ شاہی

طارق امین
گ±و کہ لفظ “گِدڑ” اور “گیدڑ” مفہوم کے لحاظ سے ایک ہی معنی رکھتے ہیں لیکن راقم کی ناقص رائے میں جب کسی خاص پیرائے میں ان دو میں سے کسی ایک لفظ کو بطور استعارہ استعمال کرنا مقصود ہو تو پھر اس بیانیہ کو مزید دلکش اور واضح کرنے میں لفظ “گِدڑ” کا استعمال جسقدر مددگار ثابت ہو سکتا ہے شائد لفظ “گیدڑ” اسکے ساتھ وہ انصاف نہ کر سکے جو لفظ “گدڑ” کر سکتا ہے لہذا اس تمہید کی روشنی میں ا±مید تو یہی کی جاتی ہے کہ ا?ج کے کالم کیلئے راقم کی طرف سے تجویز کردہ عنوان کے ساتھ بھی یہی منطق سو فیصد سچ ثابت ہو گی۔اپنے کالم کی ابتداء میں راقم دو اقوال منقول کرنا چاہے گا۔ پہلا قول اٹھارویں صدی میں انقلاب فرانس کے مشہور جرنیل نپولین بونا پارٹ سے منسوب ہے جس میں وہ کہتا ہے ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دونگا”۔
دوسرا قول ایک تخیلاتی کردار Mr Bean کے نام سے ماخوز ایک برطانوی مزاحیہ ڈرامہ سیریز جو 1990 سے لیکر 1995 تک چلی اسکے بنیادی کردار جو ایکٹر روون نے ادا کیا اس سے منسوب ہے جس میں وہ کہتا ہے ” اگر عورتوں کو لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے مرد ب±رے ہیں تو ا±نہیں چاہیئے کہ بطور ماں اپنے بیٹوں کی اچھی تربیت کیا کریں !!”
اہل دانش کا قول ہے کہ جگ بیتی کی بجائے ہڈ بیتی کی مثال زیادہ معتبر گردانی جاتی ہے۔ یہ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے راقم چھٹی یا ساتویں کلاس کا طالبعلم تھا۔ جون جولائی کا گرمیوں میں سکول سے چھٹیوں کا موسم تھا۔ اس زمانے میں سکول کے اساتذہ چھٹیوں کے دنوں کیلئے سکول کے معمول کے ایام سے بھی زیادہ ہوم ورک دیتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے عین شِکر دوپہر کا ٹائم تھا اور میں ہوم ورک میں مصروف تھا کہ مجھے کچھ سٹیشنری کی ضرورت پڑ گئی والدہ محترمہ جنکا نام سردار زہرہ تھا ا±ن سے کچھ پیسے لیکر سٹیشنری کی د±کان پر چلا گیا اور ضرورت کی چیز خرید کر دکاندار کو ایک روپیہ دیا جس نے غالبا کچھ ا?نے کاٹ کر باقی ریزگاری واپس کر دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستانی کرنسی پیسوں، آنوں اور روپیوں پر محیط ہوتی تھی۔ بکرے کا گوشت دو سے ڈھائی روپے سیر، گندم چودہ پندرہ روپے من، سونا سو ڈیڑھ سو روپے تولہ اور ایک کلرک کی اسی برابر سو ڈیڑھ سو روپے اور فوج کے ایک سیکنڈ لفٹیننٹ کی اٹھ سو نو سو روپے تنخواہ ہوتی تھی اور جب وہ کپتان بنتا تھا تو سکوٹریاموٹر سائیکل لینا اسکا خواب ہوتا تھا۔ خیر جب گھر پہنچا تو حسب معمول والدہ صاحبہ کو حساب دینا تھا ا±نھوں نے جب ریزگاری چیک کی تو اس میں ایک دو آنے کا فرق تھا جو د±کاندار نے غلطی سے زائد دے دیے تھے۔ والدہ صاحبہ نے جب اس بابت استسفسار کیا تو کوئی تسلی بخش جواب نہ پا کر والدہ صاحبہ نے سخت لہجہ میں پوچھا کہ صرف اتنا جواب دو جب د±کاندار نے زائد پیسے واپس کیے تو تمہیں اسکا علم ہو گیا تھا یا نہیں۔ جھوٹ بول نہیں سکتا تھا، اثبات میں سر ہلا دیا۔ لمحے کی تاخیر کے بغیر والدہ صاحبہ کا ارشاد ہوا ا±نہی پیروں پر واپس چل کر جاﺅ اور پہلے دکاندار سے اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہوئے معافی مانگنا اور پھر پیسے واپس کرنا۔ والدہ صاحبہ سے عرض کی پچھلے پہر ذرا گرمی کم ہو لے پیسے واپس کر آونگا والدہ صاحبہ نے اسکے ساتھ ہی ایک طمانچہ رسید کیا اور بولیں جتنی دیر کرو گے، اتنا گناہوں میں اضافہ لکھا جائیگا۔ دوسرا قصہ کچھ یوں ہے یہ 1966 کی بات ہے میری بڑی بھابی رخشندہ خان جنہیں میں نے ہمیشہ ماں کا درجہ دیا ہے اور بھائی کی وفات کے بعد تو میری بیگم بھی اب انکو زیادہ احترام دینا شروع ہو گئی ہے لندن سے آئی ہوئی تھیں وہ مجھے اور میرے بھتیجے منصور کو لیکر ہماری خالہ کے ہاں راولپنڈی لیکر گیئں۔ ہم دوپہر کے کھانے کیلئے ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے کہ میرے ایک کزن نے اپنی ماں سے اپنے دوسرے بھائی کے متعلق شکایت لگانا شروع کی کس طرح اسکے بھائی نے اسے گالی بولی ہے۔ میں ساتھ بیٹھا ہوا تھا مجھ سے رہا نہ گیا میں نے بھی تصدیق کیلیئے لقمہ دے دیا۔ میری ماں جیسی بھابی نے نہ آﺅ دیکھا نہ تاﺅا±لٹے ہاتھ کی ایک جڑ دی۔ ٹیبل پر ایک دم سناٹا چھا گیا۔ وہ ٹیبل سے اٹھیں میرا ہاتھ پکڑا اور ساتھ والے کمرے میں لے گئیں اور بولیں تمہیں پتا ہے کہ کسی اور کے معاملے میں ٹانگ اڑانا کتنا غیر اخلاقی فعل ہے۔ نیم بھرائی آواز میں بولی جب تمہیں بیٹوں کی طرح پیار کرتی ہوں تو ماں کی طرح یہ فرض بھی بنتا ہے کہ تمہاری تربیت پر بھی نظر رکھوں۔ تمہیں چانٹا مارنے کا د±کھ تو ہے لیکن تمہیں سمجھانے کے بعد یقین ہو چلا کہ اسکو تم ساری زندگی یاد رکھو گے اور آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں دہراﺅگے۔
قارئین دونوں قول درج کرنے اور اپنی ہڈ بیتی کے تذکرے کا مقصد آپ سمجھ گئے ہونگے۔ آج میری جنم دھرتی میرے وطن عزیز میں جو کچھ ہو رہا ہے میں صرف اس وحشت کی بات نہیں کر رہا جو پچھلے دنوں موٹر وے پر ہوئی ہے میں ان درندوں کی ان سفاکانہ حرکتوں کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا جو چھ چھ اور ا?ٹھ آٹھ سال کے معصوم بچوں کے ساتھ ہر روز میڈیا کی زینت بنتی ہیں میں بات کر رہا ہوں اس “گدڑ شاہی” کی جسکا آجکل ہر طرف دور دورہ ہے جہاں کسی کی اب عزت محفوظ نہیں۔ آخر ایسا کیوں؟ شائد اسکی وجہ یہ تو نہیں کہ اب سردار زہرہ اور رخشندہ خان جیسی مائیں کم ہو گئی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*