ہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصل

پروفیسر خالد محمود ہاشمی
ابھی تک دعوﺅں کے درختوں پر پھل نہیںآیا۔ کرپشن سے پاک محنت مشقت کب عام ہو گی؟ ترقی پائپ لائن میں ہے اور پائپ لائنوں میں جابجا کچرا پھنساہے۔ پاکستان میں مجرمانہ ذہنیت ، درندگی ، اخلاقی ، سماجی ، قانونی اور عدالتی نظاموں میںاصلاح کی ضرورت ہے۔ عوام میںعدم تحفظ کا احساس اور تحفظ فراہم کرنے والے اداروں پر ان کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ گینگ ریپ کیوں نہیں رکتے؟ مختاراں مائی ابھی تک یادہے جو 2002ئ میںاجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی تھی۔ تازہ قبروں سے عورتوں کی لاشیں ہوس کے پجاری استعمال کرتے رہے۔ درندوں سے درندوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔ 5 سال میں18 ہزار بچے بچیاں ، عورتیں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ کیا تعلیمی ادارے گھروں اور محلوں کا ماحول نئی نسل کی انسان سازی کر رہے ہیں؟ سیاست بے توقیر ہونے کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں۔ اقتدار کی غلام گردشوںمیں نوحہ زن عوام کی آہ و بکا کیوں کوئی اثر نہیں رکھتی۔ فرسودہ سماجی رویے ، تفتیش کا ناقص ڈھانچہ اور ٹوٹا پھوٹا نظام عدل کب بدلے گا؟ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں جنسی تشددکا زیادہ شکار ہیں جنسی تشدد کے 62 فیصد واقعات کا تعلق دیہی جبکہ 38 فیصدکا شہری علاقوںسے ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی سزا پھانسی ہونی چاہئے۔ تبدیلی کی بجائے تبادلے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہر صاحبِ اختیار سے یہ کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ اس نے اپنی کرسی پر بیٹھ کر کیا تبدیلی پیدا کی، کیا ہر کسی کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں؟ کیا کچھ نہیں بدل سکتا؟ ہزاروں مقدمات اور تفتیش التوا کا شکار ہیں۔ کیوں؟ ملک پر قرضوںکا مجموعی بوجھ پچھلے دو سال میں 11300 ارب روپے اضافے کے بعد 36300 ارب تک پہنچ گیا ہے جبکہ اس رقم میں سعودی عرب اور امارات سے لیا گیا قرضہ اور واجبات شامل نہیں۔ دو سال میں بیرونی قرضوں میں 4600 ارب روپے اور مقامی قرضوں میں 6800 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
پنجاب سب لیکچرار کی 2500 اسامیوں کے لئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کو 5 لاکھ درخواستیں ملی ہیں۔ یہ سارے امیدوار ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی ہیں جنہیں بے روزگاری کا سامنا ہے۔ دو سال میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے 9 سیکرٹری تبدیل ہو چکے ہیں کسی ایک سیکرٹری نے پنجاب میں کسی ایک کالج کا دورہ نہیںکیا۔ کبھی طالب علموں اور اساتذہ سے ہم کلامی کی زحمت نہ کی۔ پنجاب ہی میں 5 آئی جی قربان ہوئے۔
اس وقت چھٹے آئی جی کرسی پر براجمان ہیں۔ کسی ایک آئی جی نے پنجاب کے کسی تھانے کادورہ نہ کیاکہ وہاں کی عمارتوں حوالاتوں کی کیا حالت ہے۔ نہ کبھی وہاں آنے والے سائلوں سے کچھ پوچھا ، بھیس بدل کر تھانے جانا تو دور کی بات ہے۔
سرکاری ، سیاسی و ذاتی اختلافات قانون پر حاوی ہو گئے۔ لاہور کے کسی سی سی پی او کی اتنی قوالی نہیں ہوئی جتنی شیخ عمر کی ہوئی۔ لاہور کے لئے سی سی پی او کی تقرری کے عمل نے بہت کچھ ظاہر کر دیا۔ جب تک سیاسی اثر و رسوخ رہے گا‘
پولیس کو اصل مقصد تک نہیں لے جایا جا سکتا۔ خواتین کو ہراساں کرنے اور اجتماعی زیادتی کے واقعات کا بڑھتے چلے جانا معاشرتی پستی اور قرب ِ قیامت کی نشاندہی کر رہا ہے۔ موٹروے سے پہلے گجرپورہ میں بھی خاتون انتہا درجے کی وحشیانہ درندگی کا شکار ہوئی تھی۔ موٹروے والی مظلوم عورت عفت‘ زیورات اور نقدی گنوا بیٹھی۔ الٹا سی سی پی او نے سوال کیا تم جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئیں؟ بچوں کے ساتھ زیادتی کے لرزا دینے والے واقعات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ 6 ماہ میں 8 سوسے زائد بچوں کو درندوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ یہ تعداد سالانہ کے حساب سے 2920 بنتی ہے۔ 6 ماہ میں پنجاب میں 173 بچوں کو اجتماعی زیادتی 331 کو اغوا اور 38 کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ بہت سے واقعات کی تو ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی۔ کچھ بھی ہو‘ ملک میں انصاف کے بجائے عبرت نظر آنی چاہئے۔ ان کمپنیوں کے 8 فیصد حصص فروخت ہونگے جس کے بعد ڈسکوز کا کردار نمائشی رہ جائے گا۔ ڈسکوز سے تقرر تبادلے مٹیریل خریداری اور ادائیگیوں کے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں ذخائر کا درجہ رکھتا ہے جس سے ہم استفادہ نہ کر سکے۔ 1993ء میں امریکی کمپنی سے معاہدہ ہوا 25 فیصد منافع بلوچستان کو ملنا تھا۔ امریکی کمپنی نے اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی کو دیئے جس پر معاہدہ کالعدم ہوا۔ 2019ء میں آسٹریلوی کمپنی کے حق میں فیصلہ اور پاکستان کو 6 ارب ڈالر جرمانہ ہوا جس پر ہمیں حکم امتناع حاصل ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*