اپوزیشن کی اے پی سی،،،رات گئی بات گئی!!!!

محمد اکرم چودھری
لیجئے جناب جو کل تک یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ تقریروں سے کیا ہوتا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر سے کیا کشمیر آزاد ہو جائے گا آج وہ سب کے سب باجماعت میاں نواز شریف کی تقریر سے قوم کی تقدیر بدلنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ جب عمران خان کی تقریر سے کشمیر آزاد نہیں ہو سکتا تو میاں نواز شریف کی تقریر سے حکومت بھی تبدیل نہیں ہوتی۔ میاں نواز شریف نے کون سی پہلی اور ا?خری تقریر کی ہے۔ وہ جب سے سیاست میں آئے ہیں اور جب تک سیاست میں ہیں تقریریں کرتے رہیں گے۔ کرتے رہیں، ایک بڑی تعداد ان کی جماعت کے ووٹرز کی ہے نواز شریف نے انہیں بھی خوش رکھنا ہے۔ معاشرے میں ان کا کوئی سیاسی مقام ہے اگر یہ مقام برقرار رکھنے لیے میاں نواز شریف تقریر بھی نہ کریں تو کیا کریں۔ وہ ہزاروں لوگ جو دہائیوں سے اپنے اپنے علاقوں میں سیاسی دفتر کھول کر سیاست کر رہے ہیں ان کے لیے بحث مباحثے اور گفتگو کے لیے بھی مواد بھی تو فراہم کرنا ہے۔ سو میاں نواز شریف کی تقریر کو اس مواد کی حیثیت تک تو اچھا اور بہتر ضرور کہا جا سکتا ہے لیکن اس سے بڑھ کر اس بیٹھک کو کیا کہا جا سکتا ہے۔قوم کی بدقسمتی ہے کہ وہ تحریروں، تقریروں میں الجھ کر رہ گئی ہے اور اپنی تقدیر کو ڈھونڈ رہی ہے۔ کبھی حکومت والے تقریر کرنے آجاتے ہیں تو کبھی اپوزیشن والے اپنے حصے کا وقت لینے ٹی وی پر موجود ہوتے ہیں ان دونوں سے کچھ وقت بچ جاتا ہے تو وہ لکھنے اور بولنے والوں کے وقف ہوتا ہے۔ سب اپنے اپنے خیالات پیش کرتے رہتے ہیں اور قوم کے مسائل اپنی جگہ ہر موجود ہیں۔ میاں نواز شریف کی تقریر پر ہنگامہ برپا ہے۔ یہ سارا کھیل اپنی اپنی باری کے لیے ہے۔ میاں نواز شریف جس بنیاد پر ملک سے باہر گئے ہیں۔ کیا انہیں قوم کو سچ نہیں بتانا چاہیے کہ وہ کیوں گئے، کیسے گئے، کس کے کہنے پر گئے، کس کی سفارش پر گئے، کس نے راستہ ہموار کیا، کون تھا جو ان کی بیرون ملک روانگی کا سامان کرتا رہا۔ اگر سب کچھ قوم کو بتانا ہے تو پھر سب کچھ بتائیں صرف دوسروں کی باتوں کو اچھالنا یا آدھا سچ بولنا کہاں کی دیانتداری ہے۔ وہ تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہے،تینوں مرتبہ مدت پوری نہیں کر سکے تینوں مرتبہ مدت پوری نہ کرنے پر جہاں اور مسائل ہو سکتے ہیں وہیں ان کی اپنی ذہنی ناپختگی یا مسائل بھی تو ہیں۔ ہر مرتبہ وہ ایک ایسے ماحول میں ضرور جاتے ہیں جہاں سے ان کی واپسی یا تو جدہ یا پھر لندن ہی ہوتی ہے۔ اس کے درمیان کوئی راستہ نہیں رہتا۔ اب بھی جس انداز میں انہوں نے گفتگو کی ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ہر حال میں اقتدار حاصل کرنا اور وزارت عظمیٰ کا حصول ہے۔ کیا جمہوریت صرف اسی چیز کا نام ہے کہ میاں نواز شریف وزیراعظم رہیں، شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب رہیں اور ان دونوں کے بچے بھی اقتدار کے مزے لیتے رہیں اگر یہ خاندان اقتدار میں نہیں ہوتا تو جمہوریت ہی نہیں ہوتی۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو وہ اس وقت سے لگا رہے ہیں جب سے وزیراعظم ہا¾ﺅس سے نکلے ہیں۔ اس نعرے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹ کو بھی عزت دو، پھر ایم کیو ایم کے ووٹ کو بھی عزت دو، پھر مسلم لیگ قائدِ اعظم کے ووٹ کو بھی عزت دو، ا?زاد امیدواروں کے ووٹ کو بھی عزت دو، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے ووٹ کو بھی عزت دو یا صرف میاں نواز شریف کو ووٹ کو ہی عزت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ وہ ساری کارروائیاں جن کے ذریعے میاں نواز شریف نے اڑان بھری تھی وہ حقیقت تھی بھی تو اب لگتا نہیں کیونکہ میاں نواز شریف کی سرگرمیوں نے خود ان کی اپنی رپورٹس کی نفی کر دی ہے۔ میاں نواز شریف نے اے پی سی کو فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جمہوری ریاست بنانے کے لیے مصلحت چھوڑ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو ہمیشہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے۔ جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے۔ جنہیں عوام ووٹ کے ذریعے حق دیں نظام انہیں چلانا چاہیے۔میاں نواز شریف جب یہ بات کر رہے ہیں تو ملک میں ایک بڑی سیاسی جماعت اپنے اتحادیوں کے ساتھ حکومت کر رہی ہے۔ اے پی سی کی میزبان پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت کر رہی ہے۔ بلوچستان میں بھی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے حکومت میں ہیں کیا ان لوگوں کو عوام نے ووٹ کے ذریعے نظام چلانے کا حق نہیں دیا۔ ان اسمبلیوں میں بیٹھے افراد کے ووٹ کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی میاں نواز شریف کو ملنے والے ووٹ کی ہے۔ اگر نواز شریف نظام کی بات کرتے ہیں تو پھر انہیں جمہوریت کے ساتھ کھڑے رہنا چاہیے کیوں اس جمہوریت کے پیچھے پڑے ہیں جو ان کی اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کو اوپر لے کر آئی ہے۔ میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کے لوگ عوامی مسائل حل کرتے غلط فیصلے نہ کرتے تو لوگ کیوں بدظن ہو کر پی ٹی آئی یا دیگر جماعتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے۔ میاں نواز شریف کو لگتا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے کیا ہی اچھا ہو کہ وہ انیس سو پچاسی سے لے کر اب تک تمام انتخابات کی حقیقت بھی عوام کے سامنے رکھیں۔ سیاسی انجینئرنگ کی اصلیت عوام کے سامنے رکھیں اپنا کردار بھی اپنے ووٹرز کو بتائیں۔ یا پھر وہ اپنی باقی زندگی بھی ایسے ہی کھیل میں گذار دیں گے۔کیا اس ملک اور اس کے معصوم عوام کی تقدیر میں یہی لکھا ہے کہ اس ملک کا سیاست دان ہمیشہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایسے تماشے کرتا رہے گا، سرکس لگتی رہے گی، ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کے منصوبوں پر عمل ہوتا رہے گا۔ سیاست دان اپنے اقتدار کے لیے ملک کے اداروں بالخصوص ملکی سلامتی کے اداروں پر بھی کیچڑ اچھالتا رہے گا۔ فوج پر ایک ادارے کی حیثیت سے تنقید کرنا اور بات ہے جبکہ کسی ایک فرد کو نشانہ بنا کر پورے ادارے کی کردار کشی کرنا کیا درست عمل ہے۔ وہ بھی ان حالات میں کہ جب خطے میں ایک نئی صورتحال پیدا ہو رہی ہو۔ ملک کے اردگرد ہر طرف دشمن بیٹھے ہوں اور وہ ہر وقت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہوں اس وقت صرف اپنے اقتدار کے لیے فوج کو ہدف بنانا درست عمل ہے؟ ،اقتدار سے الگ ہونے کے بعد ملک کے تین مرتبہ کے وزیراعظم کی طرف سے ایسے خیالات نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے ہے۔ ووٹ کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے تو جمہوری عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔ انتخابی عمل سے قبل یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کس کو ہرانا کس کو جتانا ہے۔کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے۔ میاں صاحب قوم پر احسان کریں اور انیس سو پچاسی سے اب تک کس کس نے عوام کو کیسے دھوکا دیا ہے سب بتائیں۔۔ علاج کے بہانے سے ملک چھوڑ کر بھاگنے والے باﺅجی کے ان خیالات نے اس ساری مشق کو مشکوک بنایا ہے۔ یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہا کہ اصل مقصد تو ایوان وزیراعظم میں جانا ہے اور اس منزل کو حاصل کرنے کے لیے سب کچھ داﺅپر لگا دیا جائے۔ ملک کے تمام اداروں پر کیچڑ اچھالا جائے، ملکی سلامتی کے اداروں کو اپنا دشمن بنا کر پیش کیا جائے۔ عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ قومی سلامتی کے ادارے اپنا کردار درست سمت نہیں نبھا رہے۔ یہ بیانیہ ملک کے تین مرتبہ کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا۔ انہیں ملک میں جمہوریت کی فکر ہے کیونکہ اس بیانیے سے وزیراعظم ہاﺅس جانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے لیکن میاں نواز شریف قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ ان کی اپنی جماعت میں کتنی جمہوریت ہے انہوں نے حقیقی جمہوریت یعنی بلدیاتی نظام کو نافذ کرنے اور اس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کتنا کام کیا ہے۔ یقیناً اس کا جواب میاں نواز شریف کے دائیں بائیں بیٹھنے والوں کے پاس بھی نہیں ہو گا۔اگر میاں نواز شریف نیب کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی تخلیق کہتے ہیں تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دس سال تک اقتدار میں رہے اس دوران کئی آئینی ترامیم ہوئیں حتیٰ کہ اٹھارویں ترمیم بھی ہوئی ہر قسم کی قانون سازی ہوتی رہی لیکن جمہوریت کی دونوں چیمپیئن جماعتوں نے نیب قانون میں تبدیلی نہیں کیونکہ اس وقت تک ان دونوں کو یہ مناسب لگتا تھا اور انہیں اس قانون سے کوئی مدد مل سکتی تھی اگر یہ سوچ نہ ہوتی تو سب سے پہلے نیب قانون کو بدلا جاتا۔ ا?ج یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ غلطی ہوئی ہے ایسی کئی غلطیاں باﺅ جی دل کھول کر کرتے رہے ہیں یہی وجہ ہے تین مرتبہ وزیراعظم بننے کے باوجود ایک مرتبہ بھی اپنی مدت پوری نہیں کر سکے۔ جہاں تک تعلق پاکستان پیپلز پارٹی کی میزبانی کا ہے تو ا?صف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو اپنی حدود و قیود کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے کیا بولنا ہے، کب بولنا ہے اور کتنا بولنا ہے۔ ان دونوں نے خود کسی بھی قسم کی متنازعہ گفتگو سے گریز کرتے ہوئے تمام باتوں کا موقع میاں نواز شریف کو دیا اور کسی حد تک اپنا مقصد حاصل بھی کر لیا ہے۔ جن اداروں پر میاں نواز شریف تنقید کر رہے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہر وقت ان اداروں سے رابطے میں رہتی ہے اور اس اے پی سی میں بھی انہوں نے سارا ملبہ میاں نواز شریف پر گرا کر خود کو پاک صاف کر لیا ہے۔
آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے کبھی ایسی گفتگو نہیں کریں گے جس سے ان کے ذاتی مفادات کو نقصان پہنچتا ہو۔ اے پی سی میں بھی انہوں نے اسی حکمت عملی کے تحت کام کیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا اندازہ مولانا فضل الرحمن کی تقریر نشر نہ کرنے کے فیصلے سے لگایا جا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے گلہ کر کے ساری اپوزیشن کے اتحاد کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دی ہے۔
چونکہ یہ سب اپنے اپنے حصے کا حلوہ ڈھونڈنے نکلے ہیں یہ ایسے مفاد پرست ہیں کہ وقت آنے پر ایک دوسرے کے پاﺅں بھی پڑ سکتے ہیں اور بیدردی کے ساتھ ٹشو پیپر کی طرح استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی گردن کاٹنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔ میاں نواز شریف کی تقریر کو نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو میاں نواز شریف کا اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بھی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ نوجوان نسل کو گھر گھر جا کر بتانا چاہیے کہ ملک کی سیاست کو کرپشن زدہ اور ملک کو قرضوں کے جال میں کس عظیم لیڈر نے پھنسایا ہے۔ صرف ایک رخ قوم کو دکھا کر دھوکا نہیں دینا چاہیے۔ انقلاب کا دعویٰ کرنے والے نوجوان نسل کو یہ بھی بتائیں کہ وہ دو مرتبہ ملک سے کیسے بھاگ نکلے۔
جہاں تک تعلق کل جماعتی کانفرنس کے ایکشن پلان کا ہے تو یہ رات گئی بات گئی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ یہ ایکشن پلان واضح کرتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اپنے حصے کے حلوے کے لیے کم از کم تین سال مزید انتظار کرنا پڑے گا تین سال بعد بھی انہیں حلوہ نہ ملا تو ہماری طرف سے انہیں خالص دیسی گھی کے حلوے کی پیشکش ہے۔ جتنا حلوہ وہ اور ان کے ساتھی کھانا چاہیں گے ہم تیار کر لیں گے بلکہ کلچے بھی ان کی خدمت میں پیش کریں گے اور اس کھانے میں قہوہ اضافی طور پر رکھا جائے گا تاکہ مولانا کا ہاضمہ خراب نہ ہو کیونکہ اقتدار کے ایوانوں میں خالص کھانا کم کم ہی ملتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*