”قانون موجود۔بس عمل درآمد کروا دیں“

مسرت قیوم
دلی کیفیت کی عکاسی کرتے الفاظ ہمیشہ کی طرح متاثر ک±ن اور لمبی تقریر۔ ظاہر ہے بات مختصر ممکن نہ تھی۔ لمحہ حاضر کی سیاست۔ معاشرت۔ معیشت پر بوجھ بنے مسائل کوئی ایک آدھ سال میں تو پیدا نہیں ہوئے۔ 74 سالہ تاریخ میں سیاسی کاروائیاں زیادہ عملی کاروائیاں کم تھیں حقیقتاً ”موٹروے سانحہ “ سے پورا ملک ہل گیا۔ چند روز میں عبرتناک سزاﺅں پر مبنی نئی۔ سخت قانون سازی کی خبر سے کچھ تسلی تو ہوئی مگر پھر ماضی کے حوالے ذہن میں آتے ہی تسلی ڈوب گئی۔ نظام ایسا بنا دیں کہ جب۔ جہاں کِسی بھی قانون کی خلاف ورزی ہو۔ سزا کا عمل فوری نافذ ہو جائے۔ ادارے بر وقت کام کو شعار بنائیں ناکہ ”میڈیا“ پر شور مچنے پر نوٹس لینے کا ٹِکر چلے۔ اب ٹِکرز نہیں۔ عمل کی اشد ضرورت ہے۔ قتل۔ ڈکیتی۔ بے حرمتی کے تمام سابقہ ملزمان جو چھوٹ گئے تھے۔ پکڑ کر پھانسی لگا دیں۔ سنگسار کر دیں۔4 بھی سرعام لٹک گئے تو حالات بدل جائینگے۔نااہلی کیس،فیصل واوڈا کو جواب داخل کرانے کیلئے 14اکتوبرتک مہلت
د و گھنٹے سے زائد سفر۔ شاید 2 یا 3 مرتبہ ”پولیس“ نظر آئی۔ کچھ سال پہلے اِسی ”موٹر ے“ پر بہت کم وقفہ کے بعد ”پولیس گاڑیاں“ چلتی۔ کھڑی نظر آتی تھیں۔ خوش آئند بات ہے کہ پوری قوم ”متاثرہ خاتون“ کے حق میں ا±ٹھ کھڑی ہوئی اور بول رہی ہے۔ ’وزیراعظم صاحب “ کی سزا بابت تجویز پوری قوم کی دلی تمنا ہے۔ بس اب تقریر سے نکل کر عمل درآمد کروا دیں۔ قانون بنا دیں ایک ہفتہ کے اندر فیصلہ + عمل درآمد۔ ”قاضی عدالتیں“ نظیر ہیں۔ نہ نظام فیل ہو ا اور نہ قانون میں کوئی سقم ہے۔ عمل کیلئے ”نیت“ ضروری ہے تمام ”وی آئی پی“ ڈیوٹی سے فالتو فورس واپس لیں۔پچھلے برسوں کی نسبت آزادی اظہار۔ تحریر بہت ک±ھلی ڈ±لی ہو چکی ہے۔ لمحوں میں خبر دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ انصاف مل بھی جاتا ہے کبھی بہت جلد اور کبھی بہت ر±ل کر۔ قانون اتنا کمزور ہے ؟ اتنے ماتڑ م±جرمین مگر ہمیشہ لمبے عرصہ تک غائب۔ مرتکب طاقتور۔ ہمیشہ بری ہو جاتے ہیں کیونکہ ا±نکے سر پرست بہت ا±ونچے مناصب پر موجود ہوتے ہیں۔ اول تو کوئی ر±کتا نہیں۔ چاہے آنکھوں سے قتل ہوتا دیکھ لے۔ بد قسمتی سے کوئی مدد کرنے کو سوچ لے۔ صرف ”فون“ پر اطلاع دینے والے کی اتنی شامت۔ کم بختی کہ وہ پوری نسل کو کِسی کی مدد نہ کرنے کی تلقین کر دیتا ہے۔ مجرموں کا سرپرست کون ؟ عوام کا مددگار کون ؟ کتنا اچھا ہوتا کہ قومی اسمبلی۔ صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی بڑھانے کی بجائے عزت۔ آبرو کے تحفظ کیلئے موجود قوانین کو بہتر بنا لیا جاتا اور عمل درآمد پر توجہ دی جاتی۔
لمحہ موجود کی تصویر میں شک پڑ جاتا ہے کہ قانون نام کی کوئی جنس موجود ہے۔ عوام کا کوئی پ±رسانِ حال نہیں۔ اسقدر بے حسی۔ غفلت کہ چیخ بھی گلے میں اٹک جائے۔ اِتنی تکرار کہ جھوٹ بھی سچ معلوم ہو۔ پہلے سے نافذ قوانین کے متعلق سچ زیرو۔ نہ ہم محنت پر حرف بھیجنے کے شائق ہیں اور نہ ہی خدمات کا اعتراف کرنے میں سبکی۔ ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ہمارا موقف ہے جس عوام نے منتخب کیا ا±ن کی آسانیوں کا خیال کون رکھے گا؟ ا±نکی حفاظت کِس کی ذِمہ داری ہے؟۔ ایک ہی کام کیلئے درجن بھر ادارے کِس مرض کی دوا ہیں۔ہرجگہ قبضہ ‘ ملاوٹ ‘ طمع کے دھندے کا راج ہے۔ طاقتورغالب ہیں۔ امیر۔ امیر ترین اور غریب‘ غربت کی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ شاید ریاستی ڈکشنری میں عوامی طاقت تشریح۔ تفسیر۔ معنی یہی ہو۔پاکستان شدید گرمی۔ شدید برسات کے بہت ب±رے نتائج بھگت رہا ہے۔ انفراسٹرکچر کا ایک غالب حصہ انتہائی متاثر ہوا۔ جانی اتلاف بھی کم نہیں رہا۔ یہ تو قدرتی آفات کے نتائج ہیں مگر دل اسوقت بہت غمزدہ ہو جاتا ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ عوامی نتائج (منتخب نمائندے +حکمران ) سانحات پر بھی دلوں پر چرکا لگانے۔ میڈیائی تشہیر سے باز نہیں آتے۔ کارکردگی کو پوچھ لیں تو برہمی کا اظہار کر تے ہیں۔ جن لوگوں سے ووٹ لیے تھے اور ہیں انکی تالیف قلب۔ داد رسی کون کریگا؟ ”90 فیصد“ آبادی اکثریتی گروپ۔ غالب حصہ نہیں بلکہ ”10 فیصد‘ ‘ اشرافیہ اصل حاکم ہے۔ ”یا اللہ رحمن۔ رحیم۔ کریم ” ہم کدھر جائیں ؟۔ کہاں نہ جائیں ؟ کوئی جگہ۔ سواری شہر۔ قصبہ۔ سٹرک محفوظ نہیں۔ معاشرے کو ناسور کی طرح کھا جانیوالی برائی۔ فحاشی کی روک تھام پہلے ہونی چاہیے۔ ”وزیر اعظم صاحب “ آپ تحریری و برقی فحش مواد۔ فلموں۔ ڈراموں پر پابندی لگا دیں۔بے حیائی سے بھرپور ڈرامے۔ ہم نے تو انڈیا کو بھی مات کر دیا۔ میڈیا کا کردار۔ رویہ بھی ضرور دیکھا جانا چاہیے۔ ہر واقعہ ایسا نہیں ہوتا کہ سب کیمرے لیکر پہنچ جائیں‘ عزت ‘ خواتین کے معاملات میں بیحد احتیاط۔ حیا کی ضرورت ہے۔ ”میڈیا“ تمام واقعات کی نشاندہی لازمی کرے مگر تفصیلات جاننے۔ غمزدہ لوگوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے مصائب کے خاتمہ کے سلسلہ میں ”حکومت“ پر پورا دباﺅڈالے۔ مزید براں الفاظ کے چناﺅ میں لازمی رجوع کرے۔ درست۔ مناسب الفاظ کا انتخاب کرے۔ ”وزیر اعظم صاحب “مسائل کے حل اور حادثات سے بچنے کیلئے حکم جاری کر دیں کہ آئندہ سے تمام مقدمات کی سماعت ”جیلوں“ کے اندر ہی ہوا کریگی۔ جن مقدمات میں یہ ممکن نہ ہو وہاں پر” وڈیو سماعت“ کا انتظام کیاجائے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ وقت اور پیسے کی بچت ہوگی بلکہ پولیس فورس کی غیر ضروری آمدورفت یعنی مجرموں کو آنے لے جانے پر جو وقت ضائع ہوتا ہے ا±س کی بچت بھی ہو جائیگی اور پولیس کے ذمے جو اصل کام ہے ا±س پر توجہ دی جاسکے گی۔ دوسری ہماری تجویز یہ ہے کہ ”پروٹوکول“ کیلئے الگ سے فورس تشکیل دی جائے۔ جن میں حال ہی میں ریٹائر ہونیوالے فوج اور پولیس کے لوگوں کو شامل کیا جائے۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*