پانچواں ہاتھ

رابعہ رحمٰن
کیا ہم چپ رہیں؟ اگر بات رسوائی کی ہو تو سچ بولنا چھوڑ دیں، پر کیا کریں بات کرنے سے ڈر جائیں؟ زبانیں حلق میں انڈیل دیں، کانوں میں سیسہ ڈال لیں، بہرے ہوجائیں۔تو، لو ہو جاتے ہیں! مگر پھر کیا ہوگا؟ ظلم ختم ہوجائے گا، ناانصافی ناپید ہوجائیگی، انسانیت جاگ اٹھے گی، سرعام قتل ہونے بند ہوجائیں گے، معصوم بچیوں کے منہ بند کرکے انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے والے غیرت سے مرجائیں گے، رشتوں کی آڑ میں ڈرا دھمکا کے چھوٹی بچیوں کو ہوس کا نشانہ بنانے والے بے حیائی سے باز آجائیں گے، گلی محلوںمیں کھڑے ہونے والے غیرت کے نام پہ اپنی بہنوںبیٹیوں کو قتل کرنے والے دوسروں کے گھروں پہ نقب لگانا چھوڑ دیںگے، دکانوں پہ سودا بیچنے والے چھوٹے بچوں اور جواں عمر لڑکیوں کو سودا پکڑانے یا پیسے لیتے وقت ہاتھ مَس کرکے اپنی گندی سوچ کی تسکین کرنے والے باز آجائیںگے، سکولوں کے معلم علم کی تعظیم سیکھ لیں گے اور اپنے شاگردوںکو اپنی اولاد کادرجہ عطا کریںگے۔جب تک طاقتور کا خوف کمزور انسان کو مجبور اور محصور رکھے گااور ایک بیٹی کی زندگی سے کھیلنے والے کو اس لیے معاف کردیاجائے گا کہ اس کے گھر میں اور بیٹیاں بھی ہیں، اسے ان کی حفاظت کی شہادت صرف خاموش رہنے میں مل سکتی ہے اور جب تک وطن کے رکھوالے رشوت خوری سے باز نہیں آئیں گے تو ظلم کیسے نہیں پروان چڑھے گا۔ جب تربیت گاہیں بے حیائی کی آڑ میں حیا کا جنازہ نکالنے لگ جائیں تو خاک اس تربیت گاہ پہ۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ9سے12بچے بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہورہے ہیں، تو بتایئے آج تک کتنے مجرم پکڑے گئے۔ سوال تویہ بھی ہے کہ ان بچوں کے والدین نے انہیں کچھ بتایا اور سمجھایا کیوں نہیں؟ آج کا بچہ بچیاں کس خوف میں مبتلا ہیں۔ کیاجانتے ہیں آپ لوگ! وہ خوفزدہ ہیں، اپنے والدین کو بتانے سے کیونکر وہ اپنے بچوں پہ اعتبار نہیں کرتے، انہیں مار کر چپ کرا دیتے ہیں، کہتے ہیں شرم نہیں آتی تمہیں ایسی بات کرتے وہ تمہارے انکل ہیں،اوراگر تم نے آئندہ ان کے بارے میں ایسی بات کی تومیں تمہاری زبان کھینچ لوں گا۔ اکثر مائیں تو بچیوں کو یہاں تک کہتی ہیں تم خود ان حرکتوں میں ملوث ہو اور الزام اپنے بڑے پہ لگا رہی ہو ضرور تمہارا کسی سے تعلق ہے۔ اس کے علاوہ وہ بے عزتی، مار اور جبر مسلسل ان بچوں کے نصیب میں لکھ دیاجاتاہے، یہ کیسے رشتے ہیں کہ اپنے بچوں کی بجائے غیروں پہ اعتبار کرکے وہ رشتہ بچانے کی سوچتے ہیں۔ مجھے تو خوف آتاہے آج کل کے خاندانی نظام سے ،کچھ شیطان اور درندہ صفت انسانوں نے بہت سے رشتوں کو شرمندہ کررکھاہے۔ خدا کے واسطے اپنے بچوںسے دوستی کا وہ رشتہ استوار کریں جو آج کے سوشل میڈیا اور ماڈرنزم کے مطابق ہو۔ آپ تعلیم انہیں آزادی کے دے رہے ہیں مگر آزادی کی حد میں رہ کے اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے اس سے ان کو بہرہ ور نہیں کررہے۔ انہیں حرام حلال کیلئے اپنی مرضی اور پسند کی تربیت دے رہے ہیں۔ آپ یہ سوچیں کہ جو مرد ا?پ کا بھائی بیٹا، باپ اور شوہر ہے وہ جب کسی ایسی غیراخلاقی حرکت میں ملوث ہوتاہے تو گھر کی مائیں بزرگ بہنیں بیویاں جو مردوں کے قدموں کی چاپ سے اوران کے لہجے کی لگاوٹ سے محسوس کرلیتی ہیں کہ وہ کس رنگ اور جذبے میں ڈوب رہاہے توکیاوہ اس سے سختی سے پوچھ نہیں سکتیں اور اس کی حرکات کو پہچان نہیں سکتیں۔ کیا زینب کے قاتل عمران کی ماں کو علم نہ تھا کہ اس کا بیٹا کیا کرتا پھر رہاہے؟ سچ پوچھئے تو ہم سب جانتے ہیں کہ عورت کی نظر اپنے خون کے رشتے سے جڑے ہوئے مرد کی ہر اداکی گواہ ہوتی ہے، بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کے غلیظ کردار پہ پردے ڈالنے والی عورت بھی گنہگار ہے۔ اللہ نے کتنے پیارے اور پاکیزہ رشتے بنائے ہیں توپھر ان رشتوں میں یہ ”درندہ“ کہاں سے پیدا ہوگیا؟ یہ اس معاشرے اور وقت کی حوا کیلئے کس طرح پروان چڑھا، ہم عورتیں باپ کی تعظیم کرتی ہیں، شوہر کی اطاعت کرتی ہیں، توپھر سر پہ رکھے جانے والا ہاتھ گریبان تک کیسے پہنچ جاتاہے۔ یہ پانچواں ہاتھ جس کا بھی اس میں کسی نہ کسی عورت کا بھائی، بیٹا، باپ، شوہر ملوث ہے، واقعہ کراچی کی بچی کا ہویا پنڈی کی فرضی نام والی عنبر کا یا کائنات اورلائبہ اور قصور کی زینب کا ہو ان بچوں کا ہو جو مردوں کے ہوس کا نشانہ خوف کے مارے بنتے رہے یاپھر بچوں کے سامنے ہاتھ جوڑتی بلکتی ماں کا انتہائی دلخراش واقعہ ہو ، میں کہتی ہوں کہ سیمینار نہ کراﺅ ،میڈیا پہ کرائے کے بے ضمیر لوگوں کو نہ بٹھاﺅاورنہ احتجاجی دھرنے دو۔ اس لیے کہ اگر ہمارا قانون اندھا ،بہرا اور گونگا ہے اور شہادتوں کے پیچھے وہ بکنے والے مجرموں اور مدعیوں سے درگزر کرکے جو غلط فیصلے کرتاہے تو پہلے اس قانون کو سچا اورانصاف پسند کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔معصوم بچیوں،عورتوں اور لڑکوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو ڈھیل دینے یا ان کے والدین کو پیسے کیلئے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرنے والوں کو بھی قرار واقعی سزا کا مستحق ٹھہرانا چاہیے۔ہم نے کیوں اپنے بچوں پہ اعتماد کرنا چھوڑا؟ کیوں ایک بیٹی کو ماں کو سمجھانے میں دس سال لگ جاتے ہیں کہ ماں میں قصوروار نہیں ہوں۔ اوریہ بھی جان لیں کہ ایک گھر کی عورت اور مرد اس گھر کی ہر اچھائی برائی کا ذمہ دار ہے، معاشرہ تو اس کے بعد ا?تاہے حکومت سے گلہ کیا کرنا وہ خاندانی تربیت گاہوں کی ذمہ دار تو نہیں ہے۔تربیت کے اصول وضوابط تو ہم نے طے کرنے ہوتے ہیں۔ عورت کا تنہا نکلنے پر اعتراض کرنے والے یہ کیوں نہیں جانتے کہ پرانے وقتوںمیں طویل مسافت تھی راہ کی تکلیفیں بے شمار تھیں مگر آٓج تو مسافت گھنٹوں میں سمٹ آئی ہے، حیل وحجت کرنے والو! آج ایک ماں کی ذہنی کیفیت اور بچے بچیوں کی اذیت کو بھول جاﺅ گے، توکل تمہاری بیٹیاں بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ پھر کہاں شرم سے منہ چھپاتے پھرو گے؟ پھر کس قانون کا دروازہ کھٹکھٹاﺅ گے؟کیاپھر خدا تمہاری سنے گا ؟کیا اس کے انصاف کی ضرب سہہ پاﺅگے؟ اگر نہیں تو خدارا اس پانچویں ہاتھ کو کاٹ ڈالو جس پہ لکھاہے درندہ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*