ہندوستانی جاسوس کلبھوشن یادیو کا سزا پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار

اسلام آباد (این این آئی)ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے کہا ہے کہ پاکستان میں گرفتار اور سزا یافتہ را ایجنٹ اور جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنی سزا کے خلاف نظر ثانی اور اس پر دوبارہ غور کے لیے اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے اپنی زیر التوا رحم کی اپیل کے فالو اپ کا فیصلہ کیا ہے،آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت کلبھوشن یادیو بذات خود، قانونی اختیار رکھنے والے نمائندے یا بھارتی ہائی کمیشن کے قونصلر اہلکار کے ذریعے نظرِ ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں، 17 جون 2020 کو کلبھوشن یادیو کو ان کی سزا پر نظر ثانی اور دوبار غور کی اپیل دائر کرنے کی پیشکش کی گئی اور پاکستان نے را ایجنٹ کے لیے قانونی نمائندگی کا انتظام کرنے کی بھی پیشکش کی،کلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری کی کاروائیوں میں ملوث رہا،پاکستان نے عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق اقدامات اٹھائے،پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے،پاکستان کے اندر را کی ارگرمیوں کو بے نقاب کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ بدھ کو دفتر خارجہ میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا، سارک زاہد حفیظ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی عدالت انصاف میں جو کیس پاکستان نے جیتا تھا اس کے فیصلے کے اہم نکات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ویانا کنویشن برائے قونصلر روابط کی دفعہ 36 کے تحت کلبھوشن یادیو کو ان کے حقوق کے بارے میں بتایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ فیصلے میں یہ نکتہ بھی شامل تھا بھارتی قونصل افسران کو کلبھوشن یادیو سے بات چیت کرنے کی اجازت اور قونصلر رسائی دی جائے تا کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے لیے قانونی نمائندگی کا بندوبست کریں۔اس کے علاوہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن کیس پر مو¿ثر نظر ثانی کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں جس میں اگر ضرورت پڑے تو قانون سازی کا نفاذ بھی شامل ہے اور جب تک مو¿ثر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور مکمل نہ ہوجائے اس وقت تک پھانسی کی سزا کو روک دیا جائے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔پاکستانی حکومت کے اہم اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئی سی جے فیصلے کے فوراً بعد کلبھوشن یادیو کو ویانا کنویشن کی دفعہ 36 کے تحت قونصلر رسائی کے ان کے حق کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔اس کے علاوہ 2 اگست 2019 کو پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سفارتی اہلکار کو اسلام آباد مدعو کیا، اس پیشکش کو بھارت نے ایک ماہ کی تاخیر کے بعد 2 ستمبر کو قبول کیا جس کے بعد ہائی کمیشن کے ایک افسر نے کلبھوشن یادیو سے ملاقات کی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے را کے ایجنٹ کمانڈر یادیو کی سزائے موت کو سزا پر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور تک کے لیے روک دیا۔اس کے علاوہ نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کے لیے پاکستان اپنے موجودہ قوانین کا جائزہ لیا تا کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت مناسب طریقے سے نظرِ ثانی اور غور کیا جاسکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حالانکہ پاکستان کا قانون نظرِ ثانی کا حق فراہم کرتا ہے لیکن عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر صحیح طور سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے 28 مئی ’انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈیننس 2020‘ نافذ کیا۔اس آرڈیننس کے تحت 60 روز میں ایک درخواست کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت کلبھوشن یادیو بذات خود، قانونی اختیار رکھنے والے نمائندے یا بھارتی ہائی کمیشن کے قونصلر اہلکار کے ذریعے نظرِ ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 17 جون 2020 کو کلبھوشن یادیو کو ان کی سزا پر نظرِ ثانی اور دوبار غور کی اپیل دائر کرنے کی پیشکش کی گئی اور پاکستان نے را ایجنٹ کے لیے قانونی نمائندگی کا انتظام کرنے کی بھی پیشکش کی۔انہوں نے بتایا کہ کلبھوشن یادیو نے اپنے قانونی حقوق کو استعمال کرتے ہوئے سزا پر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کے لیے اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے زیر التوا رحم کی اپیل کے فالو اپ کا انتخاب کیا۔احمد عرفان نے کہاکہ کلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری کی کاروائیوں میں ملوث رہا،پاکستان نے عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق اقدامات اٹھائے۔ احمد عرفان نے کہاکہ پاکستان نے عالمی دنیا کو بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ثبوت پیش کیے،پاکستان، مسلسل ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کی کارروائیوں بارے دنیا کو مطلع کر رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کمانڈر یادیو کو دوبارہ قونصلر تک رسائی کی پیشکش کی ہے،امید ہے بھارت پاکستان کی پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*