ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا،عمران خان

PM Imran Khan

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوورنا وبا کے دوران لاک ڈاو¿ن سے مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، مزدور طبقے کے تحفظ کےلئے مل کر اقدامات کرنا ہوں گے،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی حکمت عملی بنانا ہوگی، مشکل وقت میں کانفرنس کے انعقاد پر شکر گزار ہوں، ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا،بھارت نے کورونا کے بعد ملک بھر میں کرفیو لگایا گیا جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا،پاکستان نے کرفیو اور مکمل لاک ڈاﺅن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاﺅن کا طریقہ اختیار کیا اور تعمیرات اور زرعی شعبوں کو کھولا، غیر رسمی معیشت سے وابستہ مزدور طبقات کو نقد امداد فراہم کی۔ وہ بدھ کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)کے زیر اہتمام پانچ روزہ عالمی کانفرنس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کررہے تھے ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد اور اس سے خطاب کیلئے مدعو کرنے پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایل او کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وباءکے باعث لاک ڈاﺅن سے دنیا بھر کا مزدور طبقہ متاثر ہوا ہے، یہ کانفرنس لیبر کمیونٹی کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وباءبعض ملکوں میں اگرچہ کم ہو رہی ہے لیکن کئی ملکوں میں یہ اپنے عروج پر ہے، ہمیں لیبر کمیونٹی کے تحفظ کے لئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وباءسے مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، ہمارے لئے یہ وباءایک دوہرے چیلنج کی صورت میں سامنے آئی، ایک طرف ہمیں اپنے لوگوں کو اس وباءاور اس کے پھیلنے سے بچانا تھا کیونکہ اگر یہ تیزی سے پھیلتی تو ہسپتالوں میں مریضوں کا رش لگ جاتا اور سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ اس لئے اس وباءکے پھیلاﺅ کو روکنا ہمارے لئے اہم تھا، دوسری طرف ہماری معیشت میں زیادہ تر لوگ چھوٹے کاروبار اور لیبر سے منسلک ہیں، لاک ڈاﺅن ہوتے ہی یہ لوگ بے روزگار ہو گئے جس کی وجہ سے ان خاندانوں کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی معیشت پر مشتمل ہے اور زیادہ تر مزدور طبقہ رجسٹرڈ نہیں ہے۔ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے پہلے دو تین ہفتوں میں چھوٹے طبقے کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد ہم نے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی اختیار کی چونکہ ہمیں اپنے چھوٹے اور کمزور طبقے کو بچانا تھا۔ ہم نے عوامی اجتماعات، اسکولوں اور کالجوں، کھیلوں کی سرگرمیوں سمیت لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگائی لیکن ہم نے تعمیرات اور زرعی شعبہ کو کھولا کیونکہ زرعی شعبہ کو بند کرنے سے خوراک کا بحران پیدا ہو جاتا، اس کے علاوہ ہم نے کمزور طبقے کو نقد رقم کی منتقلی کا عمل شروع کیا، غیر رجسٹرڈ افراد کو فوری طور پر احساس پروگرام میں رجسٹر کیا۔ رجسٹریشن کے لئے ہم نے خصوصی ڈیسک قائم کئے۔ مختصر وقت میں پاکستان میں کبھی اتنی بڑی کیش گرانٹ نہیں دی گئی جس نے ہمیں لاک ڈاﺅن کے بدترین اثرات سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے برعکس بھارت نے کرفیو لگایا، وہاں لاکھوں مزدور بے روزگار ہونے سے صوترحال ابتر ہوئی اور لوگ بھوکے مرنے لگے، وہاں لاک ڈاﺅن سے غربت کی شرح بڑھی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل غیر یقینی ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ صورتحال سنبھلنے میں کتنا وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دعا کر رہے ہیں کہ اس کی ویکسین جلد آئے تاکہ اس وائرس پر قابو پایا جا سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مزدور طبقہ اس وباءسے سب سے زیادہ متاٰثر ہوا، ہمیں مل کر مزدوروں کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی۔ اس وقت کاروبار دیوالیہ پن کا شکار ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت بے حد متاثر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم شہریوں کے لئے بھی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی کیونکہ بڑی تعداد میں ہمارے ورکر دوسرے ملکوں میں ہیں اور ہمارا انحصار غیر ملکی زرمبادلہ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑے ملکوں کو اس مسئلہ پر قائل کرنا ہوگا کہ وہ مزدور طبقے کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کریں، اگرچہ وہ خود مشکل صورتحال میں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مزدوروں پر اثرات کم کرنے کے لئے جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی، مشکل وقت میں اہم ترین کانفرنس کے انعقاد پر شکر گذار ہوں۔ ہم اپنے تجربات دنیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ شیئر کرنے کے لئے تیار ہیں اور دوسرے ممالک کے تجربات سے استفادہ کے بھی خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مشکلات اور حکمت عملی سے دنیا کو آگاہ رکھیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ کانفرنس آغاز ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ مزدوروں کی مدد کے لئے بے حد اہم ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے توقع کا اظہار کیا کہ مل کر بیٹھنے اور بات چیت سے آگے بڑھنے کے لئے راستہ نکلے گا۔ پانچ روزہ کانفرنس سے کئی عالمی رہنماﺅں، مختلف ممالک کے صدور اور وزراءاعظم نے اظہار خیال کیا اور اپنے ممالک میں کورونا کی وباءسے متاثر ہونے والے طبقات کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا اور اس سلسلے میں اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*