قومی اسمبلی ، اپوزیشن نے سوشل میڈیا پر اقلیتوں کیخلاف مہم سے متعلق معاملہ اٹھا دیا

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے سوشل میڈیا پر اقلیتوں کیخلاف مہم سے متعلق معاملہ اٹھا دیا جس پر حکومت نے یقین دہانی کروائی کہ اقلیتوں کیساتھ ظلم برداشت نہیں کریں گے،قائد اعظم کے پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا، اقلیتوں کے خلاف خاکے بنانے کی مذمت کرتے ہیں،اقلیتوں کا مذاق اڑانا اور عبادت گاہوں پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں، ہماری حکومت قائداعظم کے ویژن کے مطابق اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے،اسلام آباد میں مندر کی تعمیر سی ڈی اے قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے روک دی گئی ہے،اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا ہے،حکومت نے مندر کےلئے فنڈز جاری نہیںکئے،کچھ مذہبی اور سیاسی عناصر نے حکومت کو مندر پر زچ کرنے کی کوشش کی۔اپوزیشن ارکان خواجہ محمد آصف اور سید نوید قمر نے کہا کہ پاکستان میں منصوبہ بندی کے تحت اقلیتوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے،اگر اقلیتیں خود کوغیر محفوظ سمجھیں تو ہمارے لئے شرم کی بات ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم پر فرض ہے،1400 سال کی اسلام کی تاریخ میں اقلیتیں کبھی غیر محفوظ نہیں ہوئیں، یہاں فالٹ لائنز پیدا ہوگئیں جو خطرناک ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے راہنما خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مظالم بڑھ گئے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں نانا اور نواسے کی تصویر پر پوری دنیا کا رد عمل آیا،پاکستان میں ایک منصوبہ بندی کے تحت ملک کی اقلیتوں کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے،گزشتہ کچھ روز سے پاکستان میں بھی ایک اقلیت کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جارہا ہے اور خاکے بنائے جا رہے ہیں۔اگر اقلیتیں غیر محفوظ سمجھیں تو شرم کی بات ہے، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہم پر فرض ہے،14 سو سال کی اسلام کی تاریخ میں اقلیتیں کبھی غیر محفوظ نہیں ہوئی، یہاں فالٹ لائنز پیدا ہوگئیں ہیں جو خطرناک ہے، قائد اعظم کو کافر اعظم کہا گیا، میری تربیت قائد اعظم کی تربیت ہے، ملک میں ہمیں چاہیے کہ رواداری اور یگانگت کو فروغ دیں، اسلام اور خلفا ء کے دور میں اقلیتیں غیر محفوظ نہیں تھیں،ہم برصغیر میں خود بھی اقلیت تھے،اسی لیے ہم نے علیحدہ ملک حاصل کیا،اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، میں نے نیویارک کی ایک چرچ میں عید کی نماز پڑھی ہے،اقلیتوں کا ہمارے ملک میں غیر محفوظ ہونا شرم کی بات ہے، پاکستان میں 60 کی دہائی میں برداشت اور یگانگت تھی،آئین کے تحت کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت حاصل نہیں، یہاں قائداعظم کو کافر اعظم کہا گیا تھا، بانی پاکستان کیخلاف تحریک چلائی گئی۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ خواجہ آصف نے جو اقلیتوں کے حوالے سے نکتہ اٹھا یا ہے ،اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اقلیتوں کو اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق ہے، پیمرا سیاسی معاملات میں فوری کارروائی کرتا ہے،خاکے بنا کر اقلیتوں کی دل آزاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ ہوناشرمناک ہے۔اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے مطالبہ کی حمایت کرتا ہوں،اقلیتی برادری کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے، پاکستان میں اقلیتی برادری کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف خاکے بنانے کی مذمت کرتے ہیں، کارٹون بنانے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے، اسلام کے خلاف خاکہ بنانے والوں کی ہم مذمت کرتے رہے ہیں، ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف ظلم کی مذمت کرتے ہیں، ہم اپنی اقلیتوں کی حفاظت اگر نہیں کریں گے تو کس منہ سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے، اقلیتوں کو آزادی کے ساتھ زندگی گزارنا ان کا حق ہے، آئین اقلیتوں کو حق دیتا ہے۔ ہماری حکومت قائد اعظم کے ویژن پر عمل پیرا ہے، اقلیتوں کے خاکہ بنانے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔اقلیتوں کا مذاق اڑانا اور عبادت گاہوں پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں، ہماری حکومت قائداعظم کے ویژن کے مطابق اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے، ہم نے یورپی یونین کو مساجد بند کرنے اور حجاب پر پابندی کیخلاف بات کی ہے، اگر ہم اپنی اقلیتوں کا تحفظ نہیں کرینگے تو کیسے دنیا میں مسلمانوں کی بات کرینگے، ہم اپنی اقلیتوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے، اگر کسی نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تقدس پامال کیا ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ہماری حکومت ان کیخلاف سخت ایکشن لے گی،قائد اعظم کے پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائیگا، اقلیتوں کیساتھ ظلم برداشت نہیں کریں گے۔جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ ہم نے اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی ہے اور کرینگے، ہم نے تمام اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں میں کورونا میں اسپرے کیا،اسلام آباد میں آجکل مندر بنانے کا شوشہ چل رہا ہے، بیت المال سے اس چیز کی گنجائش ہی نہیں کہ کوئی مندر تعمیر کیا جائے، قائداعظم کے ٹھیکیدار کئی دفعہ اقتدار میں آئے، انھوں نے سود کو ملک میں پروان چڑھایا، مسلمانوں کے بیت المال سے مندر کی تعمیر نہیں ہوسکتی۔مولانا جمال الدین نے کہاکہ اللہ نے دین مکمل کردیا ہے ،اسلام میں بت پوجنے والوں کو بھی گالی دینی کی اجازت نہیں۔ خواجہ آصف نے غلط بات کی کہ اسلام کو فوقیت حاصل نہیں، یہ الفاظ شرعی حوالے سے درست نہیں،ریاست مدینہ میں جتنی بھی اقلیتوں کی حفاظت کی ہے،اسلام اقلیتوں کی پرانی عبادت گاہوں کی مرمت کی اجازت دیتا ہے نئی عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، ہم خون دیں گے مگر مندر نہیں بننے دیں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ آئین کے تحت آئینی حقوق کے برابر ہونے کی بات کی ہے،میں نے کسی مذہب کو اس مسئلے میں کھینچنے کی کوشش نہیں کی۔آئین پاکستان کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی بات کی ہے۔آئین کے مطابق پاکستان کے تمام شہری برابر ہیں،میں نے آئین کے مطابق بات کی ہے،آئین میں تمام مذاہب کے لوگوں کے حقوق یکساں ہیں۔پیپلزپارٹی کے غلام مصطفی شاہ نے کہاکہ سید خورشید شاہ کے گذشتہ بجٹ اجلاس میں پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے گئے،سید خورشید شاہ کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔وفاقی وزیر مذہبی امورنور الحق قادری نے کہا کہ مندر کی تعمیر پر گزشتہ تین ہفتوں سے بحث جاری ہے، اسلام پہلا دین ہے جس نے اقلیتوں کے تحفظ کی بات کی ، آئین ان کے حقوق کا تحفظ دیتا ہے، ہماری نبی نے عیسائیوں کے وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرا یا ہے ، وہیں پر عبادت کی اجازت دی۔دین ، آئین، قائد اعظم کے فرمودات اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے واضح ہے۔ خطے میں پاکستان کا اقلیتوں کے ساتھ رویہ سب سے زیادہ شائستہ اور مناسب ہے۔اقلیتوں کا وفد مندر کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے درخواست لے کر آیا، اقلیتی وفد کو جواب دیا ہمارے پاس فنڈز نہیں اور رولز اجازت نہیں دیتے،حکومت نے مندر کےلئے فنڈز نہیں جاری کئے،کچھ مذہبی اور سیاسی عناصر نے حکومت کو مندر پر زچ کرنے کی کوشش کی، ان کی درخواست وزیر اعظم کو بھیجی۔ ابھی فیصلہ نہیں ہوا تو سیاسی اور مذہبی عناصر نے معاملہ کو اچھالا اور حکومت کو زچ کرنے کی کوشش کی۔ مستند علماء کرام کے بیانات ہم صرف نظر نہیں کر سکتے،آیا کہ سرکاری فنڈز سے مندر کی تعمیر ہو سکتی ہے یا نہیں یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا ہے،کیا مندر کی تعمیر سرکاری خزانہ سے ہوسکتی ہے؟ اس پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے مانگی ہے،کوئی بھی کام اسلام کی ہدایات کے خلاف نہیں ہوگا۔مندر پر کام رک گیا ہے، مندر کی تعمیر سی ڈی اے کے نقشہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے روکا گیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*