یوم سیاہ اور سیاحت

تحریر : روہیل اکبر
ہم تین دوست لاہور سے گلگت بلتستان میں ہونے والے الیکشن کی صورتحال کو دیکھنے کے لیے سکردو پہنچے ہوئے ہیں اور آج یہاں سے گلگت جانا ہے الیکشن تو اب اکتوبر میں چلے گئے ہیں اور اکتوبر میں یہاں کا موسم شدید سرد ہوتا ہے اور اس موسم میں یہ سارا علاقہ تقریبا برف کے نیچے دبا ہوتا مجھے نہیں لگتا کہ اکتوبر میں بھی یہاں الیکشن ہو پائیں اس موسم میں مری سے لیکر ناران، گلگت،ہنزہ اور سست بارڈر تک سیاحوں کا رش ہوتا ہے اور کسی بھی ہوٹل میں کمرہ ملنا مشکل ہو جاتا ہے مگر اس بار کرونا وائرس کی وجہ سے مکمل لاک ڈاو¿ن ہے اور پولیس آنے والوں کو واپسی کا راستہ دکھادیتی ہے لمبے سفر کے بعد جب داخلے کی اجازت نہیں ملتی تو اس وقت سیاحوں کے دل پر کیا بیتتی ہے وہی جانتے ہیں گلگت سے سکردو تک کا سفر انتہائی خطرناک اور دشوار ہے سڑک نہ ہونے کے باعث گاڑیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔
ہم نے سکردو پہنچ کر گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلی جناب سید مہدی شاہ سے انکا ایک انٹرویو بھی کیا جس دن ان سے گی بی کی صورتحال پر بات ہورہی تھی یہ وہ دن تھا جب ایک عوامی حکومت کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر ایک فوجی آمر ضیاء الحق اقتدار پر قبضہ کرچکے تھے سید مہدی شاہ سے کیا کیا باتیں ہوئی وہ لکھنے سے پہلے سیاحوں کے لیے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید زلفی بخاری نے ایک خوشخبری سنائی ہے کہ انہوں نے سیاحت کے فروغ کیلئے 10 سالہ پالیسی مرتب کر لی گئی ہے جسے کورونا کے خاتمے کے ساتھ ہی پورے ملک میں اس پالیسی کا اجرا کر دیاجائے گاتاکہ دنیا بھر میں پاکستان کے سیاحتی مقامات اجاگرہوسکیں زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹوورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) بند نہیں ہوا بلکہ فائدہ مند ادارہ بننے جا رہا ہے۔ اس ادارے نے لاکھوں نوکریاں پیدا کرنی ہیں، ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے سیاحت سے متعلق دیگر ممالک کی طرح پاکستان کا برانڈ بنا دیا ہے، تاہم کورونا کے باعث سیاحت کی پالیسی کو لانچ کرنے میں تاخیر ہوئی برانڈ پاکستان کے نام سے پروگرام اسی سال شروع کریں گے۔ ایران اور ترکی سمیت 8 ممالک کے سیاحت کے وزرا پاکستان آئیں گے۔
پاکستان 2021ءمیں ورلڈ ٹورازم فورم کی میزبانی کرے گااور اگلے سال یہ فورم 6 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری لا رہا ہے۔اب سید مہدی شاہ کے ساتھ ہونے والی باتوں کا ذکر کرتا ہوں سب سے پہلے تو سڑک کے حوالہ سے انہوں نے بتایاکہ اگر یہ ٹھیکہ حکومت ایف ڈبلیو او کی بجائے چائینہ کو دے دیتی تو کب کی یہ سڑک مکمل ہوجانی تھی اسکے بعد انہوں نے بتایاکہ گلگت بلتستان میں اگر الیکش ہوئے تو یہاں مخلوط ہوحکومت بنتی ہوئی نظر آرہی ہے کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملے گی یہاں کے 10اضلاع میں فلحال پی ٹی آئی کو امیدوار بھی نہیں مل رہے یہی وجہ ہے کہ الیکشن کو آگے کیا جارہا ہے اس موقعہ پر سید مہدی نے 5 جولائی1977 کو پاکستان کا تاریخ کا تاریک ترین دن قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آئین وجمہوریت کے لیے لازوال قربانیاں دیں اور دیتی رہے گی 5 جولائی 1977 کو آئین معطل، جمہوریت کو لپیٹا گیا اور منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقارعلی بھٹو کو ہٹایا گیا اگر اس وقت آمر ضیاء الحق منتخب جمہوری حکومت کا تختہ نہ الٹتا تو آج ملک کی تقدیر بدلی ہوئی ہوتی مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہماری حکومتیں عوام کی مرضی سے نہیں بلکہ چند افراد کی خواہش پر بنتی اور ٹوٹتی ہیں اقتدار کی ہوس رکھنے والے ان افراد کا شکار بن جاتے ہیں جو پارٹیاں بدل بدل کر اپنا ایمان بھی بیچتے ہیں اور آج انہی کہ وجہ سے ملک میں جمہوریت کی شکل میں بدترین آمریت رائج ہے۔
سابق صدر زرداری نے 18ویں ترمیم کی وجہ سے رات کے اندھیرے میں جمہوری حکومتوں کو گھر بھیجنے کا راستہ روک دیا گیا ہے یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سال پورے کیے اسکے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے وزیر اعظم کی قربانی دیکر اپنے پانچ سال مکمل کیے اور ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان بھی اپنے پانچ سال مکمل کرے تاکہ ملک میں جو جمہوری تسلسل جاری ہے وہ ٹوٹنے نہ پائے مگر آمریت کے دوسرے روپ میں ملک میں آج بھی سول ڈکٹیٹرشپ قائم ہے عمران خان کی پی ٹی آئی سرکار ملک کو آمرانہ طرز پر چلا رہی ہے اور اس موجودہ آمرانہ طرز حکومت میں عوام سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے اور اظہار کی آزادی بھی صلب کی جا رہی ہے اگر 18ترمیم میں چھیڑ خانی کی گئی تو کل پھر ملک میں مارشل لاء کا خطرہ رہے گا۔
سید مہدی شاہ کا کہنا تھا کہ م فوج کے خلاف نہیں بلکہ ان چند افراد کے خلاف ہیں جو ملک میں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیتے کیا ملک میں صرف سیاستدانوں کا ہی احتساب ہونا ہے اور باقی سب لوگ مقد گائیں ہیں جنکے خلاف بولنا بھی جرم ہے آج تک کسی فوجی جرنیل اور جج کے خلاف کوئی کیس نہیں بنا ملک میں رگڑا جارہا ہے تو صرف سیاستدانوں کو اور جو کہتے ہیں کہ سب سیاستدان جی ایچ کیو کی پیداوار ہیں وہ بھی ساست میں چور دروازے سے آتے ہیں عوام میں انکی کوئی عزت نہیں اور پھر نہ ہی وہ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں اور جب سیاستدان ملک اپنی مرضی سے نہیں چلا سکتا تو پھر انہیں سیاست میں آنے کا بھی کوئی حق نہیں سید مہدی شاہ کا کہنا تھا کہ جیسے باقی افراد کو عہدوں کا لالچ دیکر اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کا کہا جاتا ہے ویسے ہی مجھے بھی آفر دی گئی تھی کہ آپ ہماری چھتری کے نیچے آجائیں اور گورنر گلگت بلتستان بن جائیں مگر میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ اپنے کسی مفاد کے لیے پارٹی تبدیل کروں کیونکہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے ہم کل بھی ڈکٹیروں اور آمروں کے خلاف ہیں آج بھی اور کل بھی رہیں گے یہی میرا ایمان بھی اور عقیدہ بھی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*