گندم کی کم قیمت اور بلا تعطل دستیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے،عمران خان

PM Imran Khan

اسلام آباد(آئی این پی)آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معاہدے پر دستخط کر دئیے گئے منصوبے سے 700میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ ملازمتوں کے 3ہزار مواقع پیدا ہونگے وزیراعظم عمران خان نے آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ معاہدے کی تقریب سے خطاب میں سی پیک منصوبے کو مستقبل کی امید قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبہ ایسی امیدہے جوملک کو اوپر لے کر جائےگی، چین نے جس طرح ترقی کی ہمارے لیے مثال ہے، سی پیک سے ہمیں بہت امیدیں ہیں جوپاکستان کوترقی دےگا انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کوسستی اورماحول دوست بجلی فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔آزادپتن ہائیڈروپاورپروجیکٹ سے سستی بجلی پیداکرنے میں مدد ملے گی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ماضی میں سستی بجلی پر توجہ نہیں دی گئی۔ قرضوں کی ملکوں کو بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہم قرضہ لے کر پاور پراجیکٹ نہیں بنا رہے ہیں، یہ انویسٹمنٹ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری مختلف مراحل میں آگے بڑھ رہا ہے۔ آزاد پتن ہائیڈرو پاور منصوبہ سی پیک کا پراجیکٹ ہے۔ ہماری ترجیحات کلین انرجی ہے۔ اس سے ماحولیات پر بھی اثر نہیں پڑے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ 90 کی دہائی کے بعد مہنگی بجلی کا اکانومی پر بہت اثر پڑا۔ ہائیڈرو پاور منصوبے کی بجلی سے بہت فائدہ ہوگا۔ مہنگی بجلی سے انڈسٹری کو نقصان ہوا۔ مہنگی بجلی سے ہر شعبے پر فرق پڑا۔تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ درآمدی تیل سے عوام کو بجلی کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ مجھے خوشی ہے کہ اب بجلی پاکستان میں موجود پانی سے بنے گی۔ ان منصوبوں سے ہمارے کلین اور گرین پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے اس وقت ہمارے ملک کی اصل ضرورت سرمایہ کاری ہے، ہائیڈروپاورپروجیکٹ کے ذریعے سرمایہ کاری آئی ہے، اس سرمایہ کاری سے ملک کوفائدہ ہوگابوجھ نہیں پڑےگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چینی اداروں کی دنیامیں ترقی سب کےسامنے ہے ،ہمیں چین سے بہت کچھ سیکھنے کوملےگا، ہائیڈروپاورپروجیکٹ کلین انرجی ہے جس سے فائدہ ہوگا، دنیااس وقت گرین انرجی کی طرف جارہی ہے، گرین انرجی کی وجہ سے گلوبل وارمنگ کوبھی نقصان نہیں ہوگا ہم منصوبے قرضے لےکرنہیں بلکہ سرمایہ کاری کے ذریعے بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائیڈروپاورپروجیکٹ سے سستی بجلی پیداکرنے میں مددملے گی ہم سستی بجلی پیدا کرسکتے تھے لیکن تیل درآمدکرکے مہنگی بجلی پیداکی گئی، مہنگی بجلی پیداکرنے سے ہرشعبے کوفرق پڑا ہے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم عوام کوسستی اورماحول دوست بجلی کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔ چین منصوبے پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس روز میں ہم نے چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ اٹھارہ سو میگاواٹ سستی بجلی حاصل کرنے معاہدے کیے گئے۔ ان منصوبوں سے 8ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے صوبائی چیف سیکرٹریز کو ذخیرہ اندوزوں کیخلاف بلا تفریق کاروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام آدمی کو سستے آٹے، گندم کی کم قیمت اور بلا تعطل دستیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لانے کے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داد، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور سینئر افسران شریک تھے ۔اجلاس میں صوبہ پنجاب، سندھ، بلوچستان کے چیف سیکرٹریز اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے ۔صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے اجلاس کو بنیادی اشیائے ضرور یہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے اقدامات اور ان اقدامات کے نتائج کا تقابلی جائزہ پیش کیا ۔کورونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں صوبوں میں ضروری ادویات، اور آکسیجن کی سپلائی کو بلا تعطل ممکن بنانے کے حوالے سے بھی شرکا کو تفصیلی آگاہ کیا گیا ۔چیف سیکرٹری پنجاب نے چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈان کا ذکر کرتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اب تک 716 ٹن آٹا اور ایک ارب سے زائد مالیت کی 16008.5ٹن چینی بڑے ذخیرہ اندوزوں اور ڈیلروں سے تحویل میں لی گئی ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے اقدامات کے نتیجے میں صوبہ پنجاب میں چینی کی قیمت سب سے کم ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے تناظر میں چینی کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف مزید موثر کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملاوٹ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اختیار کی جائے۔ گندم اور آٹے کی عوام کو بلا تعطل اور کم قیمت پر دستیابی کو ممکن بنانے کے حوالے سے چیف سیکرٹری پنجاب نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد صوباءحکومت تقریبا 35ارب روپے مالیت کی گندم کل سے ریلیز کر رہی ہے۔ اس اقدام کی بدولت نہ صرف آٹے کی قلت ختم ہو گی بلکہ گندم اور آٹے کی قیمت میں مرحلہ وار کمی بھی ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کی طرف سے گندم کے حوالے سے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ گندم کی کم قیمت اور بلا تعطل دستیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت کے حوالے سے کوئی دقت درپیش نہ ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام کی سربراہی میں تمام صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کو گندم اور آٹے کے حوالے سے مربوط اور ہم آہنگ حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں تمام صوبوں میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ ہر صوبے میں ضرورت کے مطابق مناسب سٹاک کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ اس حکمت عملی کا محور کسان اور عام شہری ہوں کیونکہ ماضی میں منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر نے نہ صرف کسان کو اس کے جائز منافع سے محروم کیا بلکہ عام آدمی کو بھی زائد قیمت پر آٹا خریدنے پر مجبور کیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*