آگے آپ خود سمجھدار ہیں

سعید آسی
جمہوریت کوئی حرفِ آخر تو نہیں‘ نہ ہی کوئی صحیفہ آسمانی ہے کہ اسکے زبرزیر میں بھی کوئی تبدیلی نہ کی جا سکے اور میں تو خود اپنے اس موقف کا گاہے بگاہے اظہار کرتا رہتا ہوں کہ وفاقی پارلیمانی جمہوریت عوام کی حقیقی معنوں میں نمائندگی کے معیار پر پوری نہیں اتررہی تو کسی بھی ایسے دوسرے نظام کو اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں جس کے ذریعے سسٹم کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچائے جاسکتے ہوں۔ مگر یہ کام مروجہ آئین اور کسی قاعدے قانون کے مطابق تو ہو نہ…! گڑبڑ تبھی ہوتی ہے جب سب کچھ تہس نہس کرکے ملک اور سسٹم کو محض اپنی رضا سے چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر میں سسٹم کی بقاء کے حوالے سے فکرمند ہوتا ہوں تو عوام کے نمائندہ آئینی سسٹم کے مقابل ”شہنشاہ و عالیجاہ ذی وقار کی شاہی سواری آتی ہے“ کی سوچ کے پروان چڑھنے پر ہوتا ہوں۔ ارے بھئی‘ آپ شاہِ معظم“ والے سسٹم کی آئین میں گنجائش پیدا کرلیں یا آئین کو مروجہ طریقِ کار اختیار کرکے اسکے مطابق ڈھال لیں تو پھر اس پر کسی اعتراض کی گنجائش بھی نہیں نکل پائے گی۔ پارلیمانی جمہوری نظام نے راندہ درگاہ عوام کی سات پشتیں تھوڑی سنوار دی ہیں کہ اسکے بغیر موت و حیات کا مسئلہ بن جائے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال بھی تو جمہوری نظام کے حوالے سے گڑبڑائے ہی رہے ہیں۔ ایک وقت میں انکی یہ سوچ تھی کہ…
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں‘ تولا نہیں کرتے
یعنی جمہوریت کو انسان کی عقل رسا اور فہم و فراست سے نہیں بلکہ اسے بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر اور انسانوں کی محض گنتی کرکے عددی اکثریت کے سہارے مسلط کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اقبال نے اس شعر میں جمہوریت کے کسی دل کش تصور کی ہرگز عکاسی نہیں کی مگر پھر انہوں نے یہ کہہ کر کہ…
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے‘ مٹا دو
جمہوریت کے ڈنکے بجائے ہیں۔ ارے بھائی صاحب! نئے پاکستان کا تصور اقبال کے اسی شعر کی بنیاد پر ”ہر نقشِ کہن“ کو ملیامیٹ کرنے کے فلسفہ پر ہی پروان چڑھایا گیا اس لئے نئے پاکستان والوں کو تو سلطانی جمہور سب سے زیادہ عزیز ہونی چاہیے۔
مگر یہ کیا کہ نئے پاکستان میں اقبال کے پہلے فلسفہ کی بنیادپر جمہوریت کا ”مکّو ٹھپنے“ کی سوچ پروان چڑھائی جاتی نظر آرہی ہے۔ حضور یہ اسی جمہوریت کا فیض ہے کہ وفاق اور دو صوبوں میں عددی اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کے مروجہ طریق کار کو بروئے کار لا کر آپ کے اقتدار کی راہ ہموار کی گئی۔ اگر اسکے بجائے مشرف جیسی یا اس سے پہلے والی جرنیلی آمریت رائج ہوتی تو ان کیلئے ریشہ خطمی ہو کر یا رطب اللسانی کا راستہ اختیار کرکے ہی شہنشاہِ معظم کے اقتدار میں محض ہلکی پھلکی شراکت کی گنجائش ہی نکلوائی جا سکتی تھی۔ خود شہنشاہِ معظم بننے کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جنرل مشرف نے خود اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان صاحب کی اس سوچ کے حوالے سے جو بھد اڑائی وہ ماورائے آئین اقدام کے تحت جمہوریت کو تاراج کرانے والی سوچ کی پیش بندی کیلئے کافی ہونی چاہیے۔
آپ کے پاس اتنی سیاسی قوت و صلاحیت ہے تو آپ منتخب ایوانوں کے ذریعے آئین کو اپنی سوچ سے مطابقت رکھنے والے سسٹم میں ڈھال لیں۔ آپ بے شک امریکہ جیسے صدارتی نظام کا بھی تجربہ کرسکتے ہیں۔متناسب نمائندگی والے مخلوط پارلیمانی جمہوری نظام کو بھی رائج کر سکتے ہیں جس میں آپ اپنے بل بوتے پر منتخب ہو کر آئے ہوئے ارکان کی بلیک میلنگ سے بچ سکتے ہیں مگر یہ سب کچھ قاعدے قانون کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ صدارتی نظام کیلئے تو یکسر نیا آئین لانا پڑیگا جو پارلیمانی جمہوری کے بجائے صدارتی جمہوری نظام پر مبنی ہوگا۔ اسی طرح متناسب نمائندگی والے مخلوط سسٹم کیلئے بھی آئینی ترمیم درکار ہوگی جس کیلئے تمام پارلیمانی جماعتیں متفق ہوں تو آرمی چیف کے منصب کی میعاد کے حوالے سے موجودہ ہاﺅس میں ہی پلک جھپکتے میں کرائی گئی ترمیم جتنی ہی دیر لگے گی۔قاعدے قانون کے تحت سسٹم کو چلانے اور چلائے رکھنے کے معاملات تو آپ کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ اسے اپنے ہاتھ میں ہی رکھیں گے تو سلطانی? جمہور کے ثمرات کبھی نہ کبھی جمہور (عوام) تک پہنچ ہی جائینگے مگر آپ ماضی کے تلخ تجربات کی طرح ”میں نہیں تو کوئی بھی نہیں“ کی سوچ کے تحت جمہوریت کا پھ±لکا اڑانے کیلئے کسی ماورائے آئین اقدام کی دعوت دینگے تو معاف کیجئے! آج کی لاٹ کے محترم سیاست دانوں میں اتنے کون ہیں جو اگلے دس بیس سال تک جبر کے دور کی مزاحمت کا راستہ اختیار کر پائیں گے اور پھر اسکے بعد سلطانی جمہور کی منزل حاصل ہونے کی صورت میں بھی موجودہ قومی سیاسی قائدین میں سے کوئی بقید حیات بھی ہوگا یا نہیں۔ اور بقید حیات ہوگا تو کیا غالب کے اس شعر کے تصور میں نہیں ڈھل چکا ہوگا کہ…
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں
سو حضور! اس سسٹم میں رہتے ہوئے بے شک آپس میں لڑتے بھڑتے رہیے مگر اپنی صفوں میں اس سوچ کی ہرگز حوصلہ افزائی نہ کیجئے کہ عمران خان مائنس ہوئے تو پھر جمہوریت بھی مائنس ہو جائیگی۔
یہ سوچ تو اپنے ہاتھ کاٹ کر انکے حوالے کرنے کے مترادف ہے جنہیں آئین کاغذ کا محض ایک ٹکڑا نظر آتا ہے جسے وہ پھاڑ کر ڈسٹ بن میں پھینکنے کے داعی ہوتے ہیں اور ہر نوع کے سیاست دانوں کے بارے میں اس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ”میں جب بھی انگلی سے اشارہ کروں یہ کتوں کی طرح بھاگ کر میرے پاس چلے آئینگے اور میرے تلوے چاٹنے لگیں گے“ ایسی بے توقیری سے تو حضور۔ اسی سسٹم میں لڑبھڑ کر گزارا کرلینا ہی بھلا ہے۔ آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*