کورونا کا علاج: جرمن سائنسدان افسنتین پر ریسرچ میں مصروف

جرمن طبی معالجین نے ایک جڑی بوٹی افسنتین پر کورونا وائرس کے انسداد کے لیے ریسرچ شروع کر رکھی ہے۔ کئی دوسرے ممالک بھی اس پودے پر ریسرچ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
افسنتین نامی جڑی بوٹی کا انگریزی میں نام ‘وارم و±وڈ‘ یا آرٹیمیسیا ہے۔ اس کے دوسرے غیر معروف نام دونا اور مروا بھی ہیں۔ یہ بہت زیادہ دستیاب ہونے والی جڑی بوٹی نہیں لیکن کمیاب بھی قرار نہیں دی جا سکتی۔ یہ امریکا، میکسیکو، مڈغاسکر، بھارت اور پاکستان میں بھی ملتی ہے۔ طب یونانی اور آیور ویدا طریقہ علاج میں خاص طور پر جگر کے امراض اور نظام انہضام کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا پھول پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ ذائقے میں اس کے پھول، پتے اور ڈنڈیاں شدید کڑوے ہوتے ہیں۔ اسے ملیریا بخار کا خلاف بھی بطور ایک دوا کے استعمال کیا جاتا ہے۔
طب یونانی کی ایک دوا سمجھی جانے والی افسنتین یا آرٹیمیسیا پر جرمن طبی محققین کورونا وائرس کے انسداد کی ممکنہ دوا بنانے کی ریسرچ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ریسرچ جرمن شہر پوٹسڈام کے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ میں جاری ہے۔ کئی دوسری یونیورسٹیوں کے سائنسدان بھی اس ریسرچ میں شامل ہیں۔ اس تحقیق کے تحت افسنتین کا سَت مریضوں کو دوا کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ آرٹیمیسیا یا افسنتین سے کورونا وائرس کے انسداد کی دوا کا حصول ممکن ہے کیونکہ اس کے مثبت نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔
ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے ایک ریسرچر پیٹر زے بیرگر کا کہنا ہے کہ آرٹیمیسیا کا اعلیٰ کوالٹی کا سَت استعمال میں لایا گیا ہے اور اب نتائج کا انتظار ہے۔ پیٹر زے بیرگر اور کیمیا دان کیری گیلمور اس ریسرچ میں مصروف محققین کی ٹیم کے مشترکہ سربراہ ہیں۔ اس ریسرچ کے نتائج کی تصدیق دوسرے ممالک کے سائنسدان بھی کریں گے تو یہ حتمی ٹھہرے گی۔
پیٹر زے بیرگر کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیمیسیا (افسنتین) پودے کی خصوصیات سے خوب واقفیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ کئی بیماریوں کے خلاف مدافعت رکھتا ہے اور خاص طور پر وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے انسداد میں اس کا استعمال فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر وہ اور ان کے ساتھی کووڈ انیس کے وائرس کے خلاف اس کے مثبت اثرات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
اس پودے پر ریسرچ کے لیے امریکی ریاست کنٹکی میں اسے خاص طور پر کاشت کیا گیا ہے۔ کنٹکی یونیورسٹی کافی اور چائے کے ساتھ آرٹیمیسیا یا افسنتین کے ٹیسٹ شروع کرنے والی ہے۔ ادھر میکسیکو میں بھی اسی پودے پر ریسرچ شروع کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ جرمن ریسرچرز تو افسنتین کے حوالے سے پرجوش ہیں۔ برلن کی فری یونیورسٹی کے ریسرچر کلاو¿ز اوسٹرائیڈر کا کہنا ہے آرٹیمیسیا کے پتوں کے سَت کو ایتھنول اور کافی کے ساتھ شامل کر کے آزمائشی عمل میں شامل کیا گیا ہے۔
ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف رواں برس اپریل میں مڈغاسکر کے صدر اندری راجو¿لینا نے اپنی عوام کو آرٹیمیسیا سے بنی ایک پراڈکٹ کے استعمال کا مشورہ دیا تھا۔ اس دوا کے کوئی ٹیسٹ نہیں کیے گئے تھے۔ دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا پھر سے کہنا ہے کہ ابھی تک کووڈ انیس بیماری کی کوئی دوا تیار نہیں کی جا سکی ہے۔ ادارے کے مطابق فی الحال آرٹیمیسیا پودے سے بنی دوا کو علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
چین کی خاتون دوا ساز کیمیا دان ت±و ی±وی±و نے آرٹیمیسیا سے ملیریا بخار کی کامیاب دوا سن 1972 میں تیار کی تھی اور اس پر انہیں سن 2015 میں میڈیسن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*