وزیر اعظم کا بڑ ے پیما نے پر اصلا حا ت کا اعلا ن

وزیر اعظم عمر ان خان نے قو می اسمبلی میں اظہا ر خیا ل کر تے ہو ئے ملک میں بڑ ے پیما نے پر اصلا حا ت کا اعلا ن کر تے ہوئے وا ضح کیا کہ ادا رو ں کو تبد یل کرنے کے سو ا کوئی چا رہ نہیں دھر نے دو یا کچھ بھی کر و پا ور سیکٹر کا سا را قر ضہ ما ضی کی حکومتو ں کا ہے پی آئی اے دنیا کی بہتر ین ائیر لائن تھی پی آئی اے میں اب ما فیا بیٹھا ہو ا ہے اس ادا رے کے 11 بر سو ں میں 10 با ر سر بر اہ تبد یل ہو ئے اس طرح ہمیں ادا رو ں میں اصلا حا ت لانے کی ضرورت ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے ادا رو ں میں اصلا حا ت لانے کی اس وقت بہت سخت ضرورت ہے کیو نکہ ملک کے بڑے ادا رے خسا رے میں چل رہے ہیںجس کی وجہ سے ملک کی معیشت بھی بہت خر اب ہو رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمر ان خان کو اس پر بہت پہلے سے کا م شر وع کر دینا چا ہیئے تھا کیو نکہ بڑ ے بڑ ے ادا رو ں جن میں پی آئی اے ،ریلو ے ،گیس اور وا پڈ ا جیسے کئی ایک ایسے ادا رے جن سے عوا م کا بر ا ہ را ست تعلق ہے میں اصلا حا ت نا گز یر ہیں۔
اگر پی آئی اے کی با ت سب سے پہلے کی جا ئے تو یہ ادا رہ ہمیشہ سے خسا رے کا شکا ر رہا ہے حا لا نکہ اس کا پو ری دنیا میں ایک بڑ ا مقا م ہے اور فلا ئٹس بھی چل رہی ہیں لیکن اس کے با و جو د اس کا مسلسل خسا رے میں رہنا ایک بہت بڑ ا لمحہ فکر یہ ہے اب ملک میں حا ل ہی میںہونے والے حا دثے کے بعد ادا رے کی مز ید تبا ہی سا منے آرہی ہے کیو نکہ وفا قی وزیر ہو ا با زی غلا م سر ور خان نے قو می اسمبلی میں حا دثے کی ر پو رٹ پیش کر تے ہوئے اس حا دثے کا ذمہ دا رپا ئلٹ ،کو پا ئلٹ اور کنٹر و لر کو قر ار دیا ہے اور سا تھ ہی یہ بھی انکشا ف کیا ہے کہ اس وقت بھی ادا رے میں ایسے پائلٹس مو جو دہیں جن کی ڈگر یا ں جعلی ہیںاس بیا ن کے بعد متعد د مما لک نے پی آئی اے کی پر و ا زو ں کا اپنے مما لک میں دا خلہ بند کر دیا ہے اس سے ادا رے کو ایک بہت بڑ ا دھچکا لگا ہے جو پہلے سے ہی خسا رے میں تھا اب تو اس کے دیو ا لیہ ہونے کا خطر ہ ہے اب یہاں سو ا ل یہ پید ا ہو تا ہے کہ آیا پی آئی اے کا اتنا بڑ ا مز ید خسا رہ کس وجہ سے پیش آیا ا ن کے محر کا ت کا پتہ لگا نا ضروری ہے کیااس کی ذمہ دا رسا بقہ حکومتیں ہیں کہ جنہو ں نے جعلی ڈگر یو ں والے پا ئلٹس کو بھر تی کیا یا پھر مو جو دہ حکومت کے وزیر ہو ا با زی سر ور خان جنہوں نے اسمبلی کے فلو ر پر پی آئی اے میں جعلی ڈگر یو ں وا لے پا ئلٹس کی نشا ند ہی کی۔
جہا ں تک ریلو ے کا تعلق ہے تو یہ محکمہ بھی خسا رے کا شکا ر رہتا ہے اس کا خسا رہ بھی پو ر ا نہیں ہو رہا پہلے تو کچھ ٹر ینیں چل رہی تھیں لیکن لا ک ڈا ﺅن کی وجہ سے پہلے کا فی دنو ں تک بند رہیں اور اب کچھ چلا ئی گئی ہیں اس سے محکمہ مز ید خسا رے کا شکا ر ہو تا جا رہا ہے۔
وا پڈ ا ملک کو بجلی سپلا ئی کرنے والا ادا رہ ہے لیکن ہما رے یہا ن گذ شتہ ایک عر صے سے لو ڈ شیڈ نگ ہو رہی ہے جس کے باعث جہا ں ملک کی معیشت کا نقصا ن ہو رہا ہے وہاں غر یب عوام خصو صاً گر می کے مو سم میں شد ید پر یشا نی کا شکا ر ہو تے ہیں اس طرح صنعتیں بھی بند ہونے سے بے رو ز گا ر ی ہو تی ہے۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر وزیر اعظم عمر ان خا ن صحیح معنو ں میں ملک میں اصلا حا ت لا نا چا ہتے ہیں تو ان کو مذکو رہ محکمو ں میں ان کے سر بر ا ہو ں کی تعینا تیا ں سیا سی بنیا دو ں پر نہیں کر نی چا ہئیں کیو نکہ ہما رے ملک کی یہ بد قسمتی ہے کہ ایسے محکمو ں کے سر بر اہ اکثر من پسند لو گ ہو تے ہیں ان میں یہ نہیں دیکھا جا تا کہ وہ یہ ذمہ دا ریا ں نبھا بھی سکیں گے یانہیں مقصد ا ن کو صر ف خو ش کرناہو تا ہے اس کو اگر سیا سی ر شو ت کا نا م دیا جائے تو غلط نہ ہو گا اس لیے جب تک ا ن کے سر بر اہ اہل اور ایما ند ار نہیں ہو نگے محکمو ں کا یہی حا ل رہے گا جو کہ ایک پر یشا ن کن صو رتحال ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*