ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر بت کدے بنائے جارہے ہیں، مفتی منیب

کراچی (آئی این پی )مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان نے کہاہے کہ ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر بت کدے بنائے جارہے ہیں، قربانی عبادت مقصودہ ہے، اس کا متبادل مالی صدقہ نہیں ہوسکتا،لات کو بنیاد بناکر قربانی کے بجائے مالی صدقے کی بات قرآن و سنت کے خلاف ہے،سندھ حکومت کے نمائندوں سے ملاقات میں مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگانے پر اتقاق ہوا ہے۔ جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ حالات کو بنیاد بناکر قربانی کے بجائے مالی صدقے کی بات قرآن و سنت کے خلاف ہے۔مفتی منیب نے کہا کہ سندھ حکومت کے نمائندوں سے ملاقات میں مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگانے پر اتقاق ہوا ہے، مویشی منڈیاں چار دیواری میں لگائی جائیں، زیادہ سے زیادہ اجتماعی قربانی کی جائے۔مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ قربانی کی کھالیں خریدنے والے جلد کھالیں محفوظ مراکز تک منتقل کریں، قربانی کی جگہوں پر صفائی اور جراثیم کش ادویات کا اسپرے کیا جائے، حکومت بیمار جانوروں کی منڈیوں میں آمد کی روک تھام کو یقینی بنائے، مویشی منڈیوں میں گاہک اور بیوپاری ماسک کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتیں 8 تا 15 ذوالحجہ جراثیم کش اسپرے کریں، قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے گزشتہ سال کا اجازت نامہ قابل عمل ہوگا، سندھ حکومت نے کھالیں جمع کرنے والے گزشتہ سال کے اجازت نامے قابل استعمال قرار دیے ہیں۔مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ عوام اجتماعی قربانی کے لیے دینی تنظیموں اور مدارس کو ترجیح دیں، بچوں کو مویشی منڈی نہ لے کرجائیں، گلیوں میں جانوروں کو نہ گھمائیں، نمائش نہ لگائیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومت سے تمام معاملات طے ہوچکے ہیں، شہر کے باہر مویشی منڈیاں لگیں گی تاکہ شہری آبادی محفوظ رہے۔اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی مذمت کرتے ہیں، ریاست مدینہ کا لوگو لگا کر بت کدے بنائے جارہے ہیں۔مفتی منیب الرحمان نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا فیصلہ واپس لیا جائے، اقلیتوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں، اقلیتیں اپنی آبادیوں میں اپنی عبادت گاہ بناسکتے ہیں۔مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ اسلام کی1450 سال کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ اسلامی حکومت نے بت کدہ بنایا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*