چالیس ارب یا قومی وقار!!!

محمد اکرم چودھری
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز پر دنیا بھر میں پابندی لگنے کا آغاز ہو چکا ہے۔برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق فیصلہ یورپی یونین کے تیس جون کے فیصلے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ لندن، مانچسٹر اور برمنگھم سے پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن فوری طور پر روک دیاگیا ہے۔کوروناوائرس کے باعث برطانیہ سے مخصوص اور چارٹر فلائٹس آپریٹ ہورہی تھیں۔
اس سے پہلے یورپی یونین نے بھی چھ ماہ کے لیے پی آئی اے پر پابندی لگائی تھی۔ یورپی یونین سے پہلے ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی وزیر ہوا بازی کے بیان کے بعد تمام پائلٹس کو گراﺅنڈ کر دیا تھا۔ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں پی آئی اے کی فلائٹس جاتی ہی نہیں تھیں جہاں جاتی تھیں وہاں غلام سرور خان کی مہربانی سے روک دی گئی ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق بن رہا ہے۔ سبز پاسپورٹ رکھنے والے پائلٹس کو زندگی بھر کے لیے ایک ایسے خوف میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ وہ کچھ بھی کر لیں کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہو جائیں، کتنے ہی کامیاب کیوں نہ بن جائیں کبھی اس خوف اور احساس کمتری سے نہیں نکل سکیں گے۔
یہ صورت حال وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے بیان کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ کراچی میں طیارہ گر کر تباہ ہوا اور دو سال تک حکومت میں رہنے والوں کو یکا یک خیال آیا کہ حادثات کی وجہ کچھ اور ہے۔ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ ایک سو اڑتالیس مشکوک لائسنس کی فہرست پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کو بھجوادی گئی اور انہیں ہوابازی سے روک دیا گیا ہے، دیگر مشکوک لائسنس والے پائلٹس سو سے زائد ہیں، ان کی تفصیلات بھی سول ایوی ایشن ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں۔ ویت نام کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ستائیس پاکستانی پائلٹوں کو لائسنس جاری کیا تھا ان میں سے بارہ پائلٹ کام کررہے تھے جب کہ پندرہ کے معاہدے ختم ہو چکے تھے۔
یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ وزیر ہوا بازی مکمل طور پر اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ طیارہ تو گر کر تباہ ہوا تھا انہوں نے کھڑے کھڑے پاکستان کی سب سے بڑی نشانی کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ یہ ناکامی کی بہت بڑی داستان ہے۔ دو سال تک حکومت میں رہنے کے بعد کسی کو یہ خیال آئے کہ سٹاف کو چیک کرنا ہے تو پہلے چیک کرنے والے کو چیک کرنا چاہیے۔ اتنے غائب دماغ لوگوں کو اہم وزارتوں میں لگا دیا گیا ہے جنہیں کچھ اندازہ نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں کہاں کھڑے ہیں اور کیا بول رہے ہیں۔ طیارہ تباہ ہونے کے بعد ان قیمتی جانوں سے توجہ تو ہٹ گئی لیکن وزیر ہوا بازی کی کم عقلی کی وجہ سے جو نقصان پاکستان کو ہوا ہے اس کا ازالہ دہائیوں میں بھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ذمہ داروں کو جواب دینا چاہیے حکومت کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنی چاہیے کہ کہیں یہ سب کچھ سوچی سمجھی سازش کے تحت تو نہیں ہو رہا کہیں یہ بڑے کھیل کو حصہ تو نہیں ہے کہ فوراً ہی پی آئی اے کا آپریشن بند ہونے سے پی ٹی آئی کے پیجز پر یا ان کے ہمخیالوں کی طرف چالیس ارب سالانہ بچانے کا موقف پیش کیا جا رہا ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو کوئی سمجھائے کہ قومی ایئر لائن کی حیثیت کیا ہوتی ہے۔ قومی تشخص کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ حکومت اپنا موقف واضح کرے کہ ملک کے تین بڑے ایئر پورٹس کو آﺅٹ سورس کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں ان میں کیا حقیقت ہے اور ایسا کیوں ہے۔ نیو یارک میں پی آئی اے کا روز ویلٹ ہوٹل جو کہ انتہائی مہنگا ہوٹل ہے اس کے علاوہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے ہوائی اڈوں کے حوالے سے مختلف فورمز پو ہونے والی گفتگو انتہائی خطرناک ہے۔ ہر دوسرا شخص پریشان ہے کہ یہ ساری مہم باقاعدہ کسی منصوبے کا حصہ تو نہیں ہے۔ اس میں تو کچھ شک نہیں ہے کہ یہ سارا معاملہ مکمل طور پر حکومت کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے پیش آیا ہے اور اس کی پوری ذمہ داری ہوا بازی کے وزیر پر عائد ہوتی ہے جو انتہائی اہم اور حساس معاملے کو کنٹینر انداز میں لے کر چلے اور آج اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
پاکستان کا جھنڈا دنیا بھر میں لے کر جانے والے جہازوں کو اڑان سے روک دینے کے بعد چالیس ارب سالانہ بچانے کی باتیں کرنے والے شرم سے ڈوب مریں جو یہ باتیں کر رہے ہیں اور جو یہ باتیں پھیلا رہے ہیں جو تائید کر رہے ہیں ان عقل کے اندھوں کو چاہیے کہ خیالی دنیا سے باہر نکلیں ہوش کے ناخن لیں عقل سے کام لیں۔ انہیں اپنے وزیر ہوابازی سے پوچھنا چاہیے کہ طیارہ تباہ ہونے کے بعد انہیں ہوش آئی اس سے پہلے وہ سو تہے تھے اور ایسے کام جو محکمانہ کارروائی کا تقاضا کرتے ہیں جس میں حکومت ناکام رہی اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ایک بڑے ادارے کی بچی کھچی ساکھ بھی ختم کر دی ہے۔ حکومت باہر نکلے اور قوم کو اعتماد میں لے، اپوزیشن کو جواب دے۔
وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھارت کو ملوث قرار دیا ہے۔ جناب وزیراعظم ہم کئی ماہ سے لکھ رہے ہیں کہ بھارتی سازشوں ان کے آلہ کاروں اور ان کے توڑ کے لیے اقدامات اٹھانے پر آپکو یاد دلا رہے ہیں۔ حکومت قوم کو بتائے گی کہ آج تک بلوچستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ بلوچستان سے کوئی بھی سیاسی رہنما آتا ہے وہ دکھوں بھری کتاب ساتھ لاتا ہے میر ظفر اللہ خان جمالی ہوں، شاہ زین بگٹی ہوں،اختر مینگل ہوں یا پھر عبدالقدوس بزنجو سب ایک ہی بات کرتے ہیں لیکن آپ نے کسی ایک کی بات پر کان نہیں دھرے جب آپ بھارت کے بڑے ہدف بلوچستان کے اہم سیاسی رہنماﺅں کو مسلسل نظر انداز کرتے چلے جائیں اور پھر قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر حملوں کا الزام دشمن ملک پر دھرتے ہیں تو آپکو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بلوچستان کو سازشوں سے بچانے کے دو برس میں آپ نے کیا کوشش کی ہے۔ تکلیف دہ امر ہے کہ آپ نے بلوچستان کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے بھارت کو کارروائیاں کرنے کے لیے راستہ فراہم کیا ہے۔ اس اہم اور مشکل وقت میں قوم آپ سے ایک قومی سطح کے لیڈر کے رویے کی امید کر رہی تھی ایک ایسا لیڈر جو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرتا، قوم کی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملانے اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مثال قائم کرتا لیکن بدقسمتی سے وزیراعظم عمران خان نے روایتی کنٹینر کی تقریر کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی نقل اتاری ہے اور یہ رویہ پارلیمنٹ میں بالخصوص ملک کے وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا۔ خود پسندی سے باہر نکلیں، خوشامدیوں سے جان چھڑائیں اور ان کے پاس جائیں جنہوں نے ووٹ کاسٹ کیے ہیں ان کو سنیں وہ آپکو بتائیں گے کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور حکومت کے فیصلوں سے ان کی زندگی کیسے تباہ ہو رہی ہے۔
پنجاب میں لاک ڈاﺅن میں توسیع ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اتنے ماہ بعد سمجھ آئی ہے کہ کرونا پر قابو کیسے پانا ہے اس عرصے میں غلط فیصلوں کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ہم شروع دن سے کہہ رہے ہیں کہ بہتر قواعد و ضوابط کے ساتھ کرفیو لگایا جائے، حلقوں میں اراکین اسمبلی کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں اور کرونا کے خاتمے کے کیے سخت فیصلے کیے جائیں لیکن حکومت نے سنا نہیں معیشت بھی تباہ کی ہے اور قیمتی جانوں کا نقصان بھی کیا ہے۔ ابھی خطرہ ختم نہیں ہوا کرونا کی تباہ کاریوں میں اضافہ ممکن ہے۔ حکومت اب بھی بہتر فیصلے کر لے ورنہ جان و مال دونوں کا بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*