ورلڈ بینک نے پاکستان کیلئے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دےدی

نیویارک (این این آئی)عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 50 کروڑ ڈالرز قرض کی منظوری دے دی اور یہ رقم معاشی اصلاحات اور کورونا کے باعث آنے والے اخراجات پر خرچ کی جائے گی۔عالمی بینک نے کورونا وائرس کے خلاف ردعمل میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے انقلابی اقدامات کیے ہیں اور اسی سلسلے میں پاکستان کے لیے قرض کی رقم جاری کی گئی ہے۔50 کروڑ ڈالر قرض کی اس رقم کی منظوری عالمی بینک کے بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے دی تاکہ مالیاتی امور میں معاونت، شفافیت اور نجی شعبے کی ترقی کو فروغ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی کی جائیں گی،ان 50 کروڑ ڈالرز میں سے 25 کروڑ ڈالرز انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن نے فراہم کیے جبکہ 25 کروڑ ڈالرز انٹرنیشنل بینک برائے ترقی و بحالی نے فراہم کیے ہیں۔ورلڈ بینک کے پاکستان کے لیے ڈائریکٹر الانگو پٹچاموتو نے کہا کہ پاکستان کورونا وائرس اور اس کے ردعمل ایمرجنسی صحت عامہ، سماجی تحفظ اور بزنس کی معاونت پر آنے والے اخراجات کے باعث بڑے مالیاتی بحران سے دوچار ہے۔اس پروگرام میں اصلاحات کی حمایت کی گئی ہے تاکہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھایا جا سکے اور ٹیکس پالیسی میں تعطل کو کم، قرضوں کی مینجمنٹ کو مضبوط اور شفاف اور فوری طور پر درکار اصلاحات پر عملدرآمد کیا جا سکے تاکہ توانائی کے شعبے میں مالی استحکام کا حصول ممکن ہو سکے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کے علاوہ کمپنیوں کے قیام میں آنے والی رکاوٹوں میں کمی کے لیے اصلاحات ، ڈیجیٹل ادائیگی کے استعمال میں اضافہ اور ریئل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کو بہتر بنایا جائے تاکہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مو¿ثر ماحول کو فروغ دیا جا سکے۔اس پروگرام کے تحت کاربن سے پاک اور مالی اعتبار سے مستحکم توانائی کے شعبے کے قیام میں معاونت کی جائے گی، پروگرام میں بینکنگ شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل فنانس کے فروغ اور مسابقت کی حامل نیشنل ٹیرف پالیسی بنائی جائے گی تاکہ تجارت کو فروغ دیتے ہوئے صارفین کے لیے لاگت کو کم کیا جا سکے۔عالمی بینک نے کہا کہ ہم دنیا بھر میں عوامی صحت کے اقدامات، اہم آلات کی فراہمی یقینی بنانے اور نجی شعبے میں نوکریوں کا تحفظ یقینی بنانے اور ان کے کام میں سہولیات تلاش کر رہے ہیں۔عالمی بینک نے کہا کہ ہم آئندہ 15ماہ میں 160ارب ڈالر خرچ کریں گے تاکہ 100 سے زائد ممالک میں غریب افراد کے تحفظ، کاروبار کی معاونت اور معیشت کی بحالی میں مدد کی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے ذریعے رعایتی قرض بھی دیے جائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*