ریا ست کا چو تھا ستو ن میڈ یا کی مضبو طی سے ریا ست طا قت ور ہو گی

وفا قی وزیر اطا عا ت و نشر یا ت سینیٹر شبلی فر از نے گذشتہ رو ز سر گو دھا میں صحا فیو ں میں ما لی امد اد کے چیک تقسیم کرنے کی تقر یب سے خطا ب کر تے ہوئے اس عز م کا اظہا ر کیا ہے کہ حکومت میڈ یا سے وا بستہ ہر شعبہ کے کا رکنو ں اور صحا فتی ادا رو ں کے مسا ئل حل کرنے کیلئے عملی اقد اما ت اٹھا رہی ہے کیو نکہ ریا ست کا چو تھا ستو ن ہے میڈ یا جتنا مضبو ط ہو گا ا سی قد ر ریا ست طا قتو ور ہو گی انہو ں نے مز ید کہا کہ وزیر اعظم عمر ان خان میڈ یا کی اہمیت کے مطا بق اس کے مسا ئل تر جیحی بنیا دو ں پر حل کرنے پر یقین رکھتے اور عملاً کو شا ں ہیں۔
ریا ست کے چو تھے ستو ن میڈ یا کی مضبو طی سے ریا ست کے طا قت ور ہونے کی با ت میں صد اقت ہے کہ اگر کسی بھی عما ر ت کے چا ر ستو نو ں میں سے ایک کمز ور ہو یا گر جا ئے تو پھر عما ر ت بھی محفو ظ نہیں رہتی وفا قی وزیر اطلا عا ت و نشر یا ت سینیٹر شبلی فر از نے اپنے مذکو رہ بیان میں دعو یٰ کیا ہے کہ حکو مت میڈ یا سے وا بستہ ہر شعبے کے کا ر کنو ں اور صحافتی ادا رو ں کے مسائل حل کر نے کیلئے عملی اقد اما ت اٹھا رہی ہے لیکن یہا ں حقیقت اس کے با لکل بر عکس ہے کیو نکہ میڈ یا کو جتنے مسائل کا سا منا مو جو دہ دو ر حکومت میں کرنا پڑ ا ہے شا ہد اس سے پہلے کسی جمہو ری حکومت میں ایسا نہ ہو ا ہو مو جو دہ حکومت کے دور میں میڈ یا کے بہت سے کا رکنو ں کو ادا رو ں سے فا رغ کیا گیا کئی ادا رو ں کے دفا تر با لکل بند ہو گئے جن ادا روں نے کا رکنو ں کو فا رغ کیا اور دفا تر بند کئے ان کا مو قف یہ ہے کہ ان کو سر کا ری اشتہا را ت نہیں مل رہے اس لیے وہ ادا رے نہیں چلا سکتے اور کا ر کنو ں کو تنخو اہیں دینے سے قا صر ہیں بعض ادا رو ں میں کا م کرنے والے کا رکنو ں کی تنخو ا ہو ں میں کٹ لگا یا جا رہا ہے جبکہ بعض میں تنخو ا ہو ں بر وقت ادا نہیں کی جا رہیں۔
یہ سا ری صو رتحال کو مد نظر رکھا جا ئے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حکومت میڈ یا سے وا بستہ کا رکنو ں اور صحا فتی ادا روں کیلئے مسا ئل حل نہیں بلکہ پید ا کر رہی ہے جس سے کئی افر اد کا رو ز گا ر چھین لیا گیا ہے اور اس طرح ان کے گھر وں کے چو لہے ٹھنڈ ے پڑ گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب تک رکا نہیں بلکہ چل رہا ہے ملک کے بڑ ے بڑ ے صحا فتی ادا رو ں نے بھی ہا تھ اٹھا لیے ہیں جب ان کا یہ حا ل ہے تو پھر چھو ٹے ادا رو ں کا کیا حا ل ہو گا۔؟
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ وفا قی حکومت کو وفا قی وزیر اطلا عا ت و نشر یا ت کے مذ کو رہ بیان کو عملی جا مہ پہنا تے ہو ئے احسن اقد اما ت کر نے چاہئیں اور اخبا ری صنعت کو تبا ہی سے بچا نا چا ہیئے جو کہ اس وقت تبا ہی کے دھا نے پر کھڑی ہے اگر یہی صو رتحا ل رہی تو اس طرح میڈ یا سے وا بستہ افر اد کے گھر وں میں فا قے شر وع ہو جائیں گے اور پھر مو جو دہ حکومت کو سنبھا لنا مشکل ہو جا ئے گا اس لیے ابھی سے اگر حکومت اس جا نب خصو صی تو جہ دے تو حا لا ت پر قا بو پا یا جا سکتا ہے حکومت کو میڈیا ادا رو ں کو اشتہا را ت دینے کے اقد اما ت کر نے چاہئیں جو کہ ان کی بقا ءکیلئے نا گز یر ہیں کیو نکہ اگر ادا رے مضبو ط ہو ں گے تو ان کے کا رکن بھی خو شحا ل ہو نگے وزیر اعظم عمر ان خان نے جو مسائل تر جیحی بنیا دو ں پر حل کرنے پر یقین رکھتے اور کو شا ں ہیں تو اس سلسلے میں ان کو عملی اقد اما ت کر نے کی ضرورت ہے اس کو بھی محض بیا ن اور دعو ے کے طو ر پر نہیں لینا چا ہیئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*