کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملے کے پیچھے ہندوستان تھا،عمران خان

اسلام آباد (آئی این پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی سٹاک ایکسچینج کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں،اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت تھا، حملے کو روکنےکیلئے مکمل تیاری تھی، اس حملے کو پسپا کرنے سے ہماری بڑی جیت ہوئی، اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،6،7 لوگ این آر او لینا چاہ رہے ہیں ، میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دونگا، اپوزیشن کی کوشش ہے کہ مائنس ون ہو، اگر مائنس ون ہو بھی گیا تو جو آئے گا ،ان لوگوں کو کوئی نہیں چھوڑے گا،معاشی ٹیم نے مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کی،آج دنیا بھر میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کی طرف گئی ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے اپنے فیصلے کرسکتے ہیں، میری سنی جاتی تو اتنے سخت لاک ڈاون کی طرف نہ جاتے،ہم لوگوں کی مزید مدد کرنے کا پلان بنا رہے ہیں،اداروں میں مافیاز ہیں ہمیں ریفارمز کرنا ہونگے،جب تک اصلاحات نہیں کریں گے ملک نہیں چلے گا، شوگر مافیا اربوں روپے بنا رہا ہے، تمام مافیاز اور اجارہ داروں کو قانون کے تابع کریں گے ، آصف زرداری اور نوازشریف کی شوگر ملیں کالے دھن کو سفید کرنے کےلئے بنائی گئیں،مسلم لیگ (ن) کا تو کوئی دین ایمان نہیں ،یہ کبھی جہادیوں سے پیسے لیتے ہیں ، کبھی لبرل بنتے ہیں، تعمیراتی شعبہ سے نوجوان نسل کو نوکریاں ملیں گی، زراعت اور صنعتی شعبہ پر توجہ دی جارہی ہے، اپنے تمام اخراجات جیب سے کرتا ہوں۔وہ منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ منطوری کا عمل مکمل ہونے پر اظہار خیال کر رہے تھے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اتحادیوں اور اپنی پارٹی کا شکریہ کہ بجٹ بہت اچھے طریقے سے پاس ہوگیا، بجٹ سے ایک روز قبل ٹی وی پر لگتا تھا کہ حکومت کے آخری دن ہیں ، خواتین اور اقلیتوں کا خاص طورپر شکریہ ادا کرتا ہوں، پاکستان کے ہیروز کا نام لیتا ہوں ، کراچی سٹاک ایکسچینج کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں ، سب انسپکٹر شاہد حسن علی افتخار کو سلام پیش کرتا ہوں ، ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں یہ بھارت سے ہوا ہے ، ہماری ایجنسیاں چار بڑے حملے اس سے پہلے روک چکی ہیں ، آپ کی جتنی بھی تیاری ہو آپ مکمل روک نہیں سکتے ، دو حملے اسلام آباد کے قریب ناکام بنائے۔دہشت گرد بہت زیادہ اسلحہ بارود لے کر آئے،ملک میں چار بہت بڑے حملے ہونا تھا جن میں سے دو اسلام آباد کے قریب تھے، ہماری سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ان کو ناکام بنا دیا،اس دہشت گردی کے پیچھے ہندوستان تھا، ہماری اس کو روکنے کے لیے مکمل تیاری تھی، اس حملے کو پسپا کرنے سے ہماری بڑی جیت ہوئی، اپنی اینٹلی جنس ایجنسیوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، کی معاشی ٹیم نے مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا، حکومت 5000 ارب روپے جمع کرنا تھا، یہ پہلی دفعہ ہوا کہ پورا ملک لاک ڈاون کرنا پڑا، معاشی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہمیں بھی مکمل لاک ڈاون کا کہا گیا تھا لیکن ہم نے زیادہ سخت لاک ڈاون نہیں کیا، اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی سخت لاک ڈاون نہیں کرنے دیتا، لاک ڈاون کی وجہ سے لوگ اتنے بھوکے تھے کہ وہ گاڑی پر حملہ کردیتے تھے۔آج دنیا بھر میں سمارٹ لاک ڈاون کی طرف گئی ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے اپنے فیصلے کرسکتے ہیں، میری سنی جاتی تو میں اتنے سخت لاک ڈاون کی طرف نہ جاتے ، یورپ اور بھارت کو دیکھ کر یہاں سخت لاک ڈاون کرنے کی وکالت کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ میں تو چاہتا تھا کہ ریڑھی چھابڑی والے کا خیال رکھا جائے ،ہمیں سمجھ نہ ہونے کا طعنہ دینے والوں کو خود۔ سمجھ نہیں تھی، وہ کبھی کچی بستیوں میں گئے ہوں تو انہیں پتہ ہو ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ان کی ٹیم کو شاباش دیتا ہوں کہ اتنی شفافیت سے اتنی بڑی رقم ملک بھر میں تقسیم کی ،سیاحتی علاقے کے لوگ روزگار سے تنگ ہیں ، ہمارے جیسے لوگوں اور سرکاری تنخواہیں لینے والوں کو تو فرق نہیں پڑتا ۔انہوں نے کہا کہ دیہاڑی داروں کو فرق پڑتا ، بارہ ہزار روپے جو دیئے وہ تو خرچ ہوگئے ہوں گے ، ہم لوگوں کی مزید مدد کرنے کا پلان بنا رہے ہیں،پاور سیکٹر ہمارے ملک کیلئے عذاب بنا ہوا ہے، پاور سیکٹر کے کرائسز دس سال کے ہیں، پاور سیکٹر میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گے، ان اداروں کے اندر مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں، پی آئی اے کے گیارہ سال میں دس چیفز کو تبدیل کیا گیا ان اداروں میں مافیاز ہیں ہمیں ریفارمز کرنا ہونگے، یہ لوگ چاہیں احتجاج کریں چاہیں دھرنے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسٹیل ملز پی آئی اے ریلوے پاور سیکٹر نقصان میں جارہا ہے، جب سے حکومت میں آئے ہیں بند اسٹیل ملز کو 34 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں دے چکے ہیں،ہمیں کچھ پلان بنانا پڑے گا، حکومت کے وہ ادارے جو مسلسل نقصان کررہے ہیں ، ان اداروں میں بجلی کے بقایاجات سب سے بڑا عذاب بنا ہوا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اداروں میں بڑی بڑی تبدیلیاں کرنے کو تیار ہیں ، جب بھی تبدیلیاں لائیں گے مزاحمت آئے گی ، جب تک اصلاحات نہیں کریں گے ملک نہیں چلے گا ، اس سے نہیں ڈرنا ہوگا کہ ہڑتال ہوجائے گی ، جس پی پی نے سٹیل ملز تباہ کی وہ اس کی بحالی کی باتیں کرتی ہے ، اگر اب فیصلے نہ لئے تو پھر وقت نہیں رہے گا ، بڑی بڑی اجارہ داریاں بنی ہوئی ہیں ،شوگر مافیا اربوں روپے بنا رہا ہے، جگہ جگہ شوگر کارٹل کی طرح کی کارٹل بنی ہوئی ہیں ، جو پیسہ بنارہا وہ ٹیکس تو دے ، وہ ٹیکس عوام پر خرچ ہوتا ہے ، انتیس ارب کی سبسٹسدی لیکر نوارب ٹیکس دیتے ہیں ، چینی بھی عوام کو مہنگی دیتے ہیں ، تمام مافیاز اور اجارہ داروں کو قانون کے تابع کریں گے ، یہ مافیاز نہیں چل سکتے تھے جب تک حکومتیں سرپرستی نہیں کریں ، آصف زرداری اور نوازشریف کی شوگر ملیں کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے بنائی گئیں، یہ لوگ لبرلی کرپٹ ہیں،سیاسی بھرتیوں نے اداروں کو تباہ کیا ہے، ریاست مدینہ میں کوئی فوج نہیں گئی ، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں تاجر گئے ان کے کردار لوگ مسلمان ہوئے ،یہ قائمقام اپوزیشن لیڈر یہاں کھڑے ہوکر کہتا تھا ، نوازشریف میری اس چیئر پر تھا کھڑے ہوکر کہہ رہا تھا یہ ہیں وہ ذرائع، ایک صاحب یہاں کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب فکر نہ کریں لوگ جلدی بھول جائیں گے ، یہ جمہوریت پسند نہیں انہوں نے جمہوریت کو بدنام کیا ، ان کو کیا پتہ تھا کہ میں سپریم کورٹ جاوں گا ، سپریم کورٹ نے انہیں کرپٹ قرار دے دیا ، یہ کیسا وزیر خارجہ ہے کہ دوبئی کی کمپنی سے پندرہ بیس لاکھ تنخواہ لے رہا ہو ، وہ تنخواہ نہیں کچھ اور لے رہے تھے ، مجھے پہلی تقریر نہ کرنے دی ، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں حکومت فیل ہوگئی ، مسلم لیگ ن کا تو کوئی دین ایمان نہیں ،یہ کبھی جہادیوں سے پیسے لیتے ہیں ، کبھی لبرل بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا شور اس لئے ہے کہ انہیں پتہ ہے ہمیں ثبوت مل رہے ہیں ،میں نے نہیں کہا کہ میری حکومت نہیں جانے والی میں نے کبھی نہیں کہا کہ میری کرسی بڑی مضبوط ہے ، کرسی صرف اللہ دیتا ہے ، کبھی آپ کو کرسی چھوڑتے ہوئے گھبرانا نہیں چاہئے ، کرسی آنے جانے والی چیز ہے ، اپنے نظریے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا ، جب تک جدوجہد نہ کی ہو تو پھر بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے کہا جاتا ہے،اپنے تمام اخراجات جیب سے کرتا ہوں، صرف سفری اور سیکیورٹی اخراجات میں نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ باقی اپنے تمام اخراجات خود کرتا ہوں، کرسی آنے جانے کی چیز ہے کبھی بھی جاسکتی ہے، سب سے اہم چیز نظریہ ہے جسے نہیں چھوڑنا چاہئے، وزیراعظم عمران خان نے بلاول بھٹو کا مذاق اڑا دیا کہ جب بارش آٹا ہے تو پانی آتا ہے، انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ کی خود نگرانی کررہا ہوں، تعمیراتی شعبہ سے نوجوان نسل کو نوکریاں ملیں گی، زراعت اور صنعتی شعبہ پر توجہ دی جارہی ہے، چین کیساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں، ہمارا ملک دنیا کیلئے مثال بنے گا جیسے 60 میں تھا،مشرف کی حکومت بری نہیں تھی، این آر او دیکر برا کیا، چھ سات لوگ این آر او لینا چاہ رہے ہیں ، میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دونگا، اپوزیشن کی کوشش ہے کہ مائنس ون ہو، اگر مائنس ون ہو بھی گیا تو جو آئے گا ان لوگوں کو کوئی نہیں چھوڑے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*