عمران خان سمبلی میں آئیں اور اعتماد کا ووٹ لےکر دکھائیں، اپوزیشن

opposition

اسلام آباد(آئی این پی) اپوزیشن جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی نے بجٹ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر شاہراہ دستور پر احتجاجی مظاہرہ کیا، اپوزیشن ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مکالف نعرے درج تھے جبکہ اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی، اپوزیشن رہنماﺅں نے کہا کہ عمران خان کو چیلنج کرتے ہیں کہ اسمبلی میں آئیں اور اعتماد کا ووٹ لےکر دکھائیں، حکومت اور معیشت مفلوج ہے،حکومت اپنے اتحادیوں کا اعتماد کھو چکی ہے،پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے بجلی اوراشیا خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی،اس بجٹ کے بعد مہنگائی کا سیلاب آنے والا ہے، ایک وقت میں پٹرول کی قیمت 25 روپے بڑھا دینے کا کیا جواز ہے؟۔ ان خیالات کا اظہار اپوزیشن رہنماﺅں شاہد خاقان عباسی، نوید قمر اور خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر شاہراہ دستور پر اپوزیشن ارکان نے بجٹ ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا ، اس موقع پر اپوزیشن کے ارکان نے پوسٹرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر پٹرول کی قلت نامنظور، ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہیں؟ 50 لاکھ گھر کہاں ہیں؟سمیت دیگر الفاظ درج تھے، اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماءخواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اپنے اتحادیوں کا اعتماد کھو چکی ہے،پیٹرول کی قیمت بڑھنےسےبجلی اوراشیا خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی،اس بجٹ کے بعد مہنگائی کا سیلاب آنے والا ہے ،اشیائ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی،اس وقت ساری اپوزیشن جماعتیں یہاں موجود ہیں،کل ہم نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف قرارداد جمع کروائی ہے،اس پر تمام اپوزیشن اور حکومتی اتحادیوں کے دستخط ہیں، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رہے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائ نوید قمر نے کہا کہ حکومت نے بجٹ کے ذریعے عوام پر جو بم گرائےہیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عوام میں سانس لینےکی بھی سکت نہیں رہے گی،ایک وقت میں پٹرول کی قیمت 25 روپے بڑھا دینے کا کیا جواز ہے؟ اے پی سی چند روز میں متوقع ہے۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے مافیاز کو سپورٹ کیا، معیشت کو تباہ کیا،حکومت اپنے ممبران اور اتحادیوں کا اعتماد کھوچکی ہے، عمران خان کو چیلنج کرتے ہیں کہ اسمبلی میں آئیں اور اعتماد کا ووٹ لےکر دکھائیں،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کابینہ کا ہر فیصلہ مشکوک ہے، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دو سال سے زائد ہوگئے،ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر کوئی کرپشن کا الزام ثابت کرسکےہیں؟ جھوٹ بولنےاور الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا،قومی اسمبلی میں ایک وزیر نے بےہودہ گفتگو کی،افسوس ہوتاہے کہ اسپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت دی،اپنےسیاسی کیرئیر میں ایسی گفتگو نہیں سنی، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت اور معیشت مفلوج ہے،آج ہم کہاں جارہےہیں؟ ملک کہاں جارہاہے؟ کیا وزیراعظم کوفکر ہے ملک کہاں جارہاہے؟۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*