پرائریٹ تعلیمی ادارے اور کورونا وائرس

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا
جب سے کورونا وائرس آیا ہے تعلیمی ادارے ( سرکاری و غیر سرکاری ) بچوں اور اساتذہ کرام کی حفاظت کے لئے حکومت نے مکمل بند کر دیئے ہیں۔یہ بات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ” تعلیم اور تربیت ” ہی سے قومیں اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ تعلیم کی اہمیت سے ہر مسلمان واقف ہے یہ تعلیم ہی ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب خاتم النبیین کو سب سے پہلے ” اقراء” ( پڑھو )کی صورت میں اپنے مقرب فرشتہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ذرئیے دیا۔
یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم بھی وہ ہی بچے حاصل کرسکتے ہیں جو صحت مند ہو، رہا مسئلہ” کووڈ19 کاتو یہ ایک ایسی انفیکشن ہے جو ایک آدمی سے دوسرے آدمی کو لگ سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جن کی قوت مدافعت Immune systemکمزورہوہر باشعور انسان جانتا ہے کہ بچوں اور بوڑھوں میں مدافعت کمزور ہوتی ہے یہی وجہ ہے جس وجہ سے دنیا کے تمام ممالک کو لاک ڈاو¿ن جیسے اقدام اٹھانے پڑے۔
سول سوسائٹی اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے ” سکولز ”دوبارہ کھولنے کے لئے ہر قسم کے ” حربے ” استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے حکومت کے کاندھوں سے تعلیمی بوجھ کم کرنے اور معیار تعلیم بلند کرنے کی ہر ممکن مدد کی اور قوم کو معیاری تعلیم و تربیت دی!
ایسے افراد کی ہمارے معاشرے میں کمی نہیں جو کہتے ہیں کہ بچے گھروں میں آرام نہیں کرتے بلکہ سارا دن شرارتیں کھیل کود اور ٹی وی موبائل پر صرف کرتے ہیں اس سے بہتر ہے سکولوں کو کھولا جائے تاکہ بچے ” آوارہ گردی ” سے بچ سکیں اور قوم کے معماروں کا مستقبل بھی تاریک نہ ہو!
دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربران حکومتی اراکین سے ملاقاتیں اجتجاج کرتے ہیں کہ کووڈ19 کے حوالے سے ” ایس او پیز ” کے تحت تعلیمی اداروں کی بندش طالب علموں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں کا ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف مکمل خاموش ہے، وجہ بچوں کا مستقبل یا اپنی دال روٹی ؟نیتوں کے حال اللہ جانتا ہے!
سوال پیدا ہوتا ہے۔ ہر چیز کا متبادل ہے مگر ذندگی کا کوئی متبادل نہیں، صحت ہے تو تعلیم ہوگئی اگر صحت ہی ساتھ نہ دے تو پھر مستقبل کا نہیں زندگی کا پہیہ چلانے کا سوچا جاتا ہے۔
کوروناوائرس سے حفاطت کے لئے کتنا ایس او پیز پر عمل ہو رہا ہے سب جانتے ہیں جو نہیں جانتے ان کو ” کوروناوائرس ” کے سبب بیمار یا وفات پانے والوں کے لواحقین سے پوچھا جا سکتا ہے۔
ریاست ماں ہوتی ہے۔ ماں خود بھوکی سو سکتی ہے مگر اپنی اولاد کو بھوکا نہیں دیکھ سکتی! کہنے کا مطلب پرائیویٹ یا سرکاری تعلیمی اداروں کو Reopen کی اجازت نہ دی جائے، بلکہ تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن ، سٹوڈنٹس کا ڈیٹا،ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کا مکمل ڈیٹا ، سکولز کے بل اور رینٹ حکومت اپنی طرف سے مہیا کرے۔اگر ایسا ممکن نہ ہو تو سٹوڈنٹس کی فیسوں کا ڈیٹا وصول کر کے کم از کم 50% حکومت مہیا کرے! یا پھرپرائمری تک رجسٹرڈ اداروں کو لاکھ لاکھ روپیہ جبکہ مڈل تک رجسٹریشن رکھنے والے اداروں کو دو دو لاکھ حکومتی خزانے سے دیا جائے اور جو ادارے بورڈز کی ایفیلیشن رکھتے ہیں کم از کم تین لاکھ روپے فی ادارہ دیا جائے۔ اگر ایسا ہو تو پرائیویٹ تعلیمی ادارے ختم ہونے سے بچ جائیں گئے۔ اور ان لوگوں کی سفید پوشی کا بھرم رہ جائے گا۔
حکومت فی سٹوڈنٹ کے حساب سے بھی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی مدد کر سکتی ہے۔
کوروناوائرس ضلع کے ڈپٹی کمشنرز صاحباں مخیر حضرات کے تعاون سے بھی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ” بے موت مرنے ” سے بچا سکتے ہیں۔
حکومت کو یاد رکھنا ہوگاکہ” اگر کوروناوائرس نے معصوم بچوں کو نہ بخشا یعنی حکومت نے جان بوجھ کر لاک ڈاو¿ن میں نرمی کی طرح اگر کوروناوائرس کے مکمل خاتمہ سے پہلے تعلیمی ادارے کھولنے کی حماقت کی تو پھر۔۔۔۔۔ داستان تک نہ ہوگئی داستانوں میں والہ قصہ حکومت کا مقدر بن جائے گا!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*