پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام ،چاروں دہشتگردہلاک

کراچی(این این آئی)قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گروں کا حملہ ناکام بنا دیا،مقابلے کے بعد4 دہشت گردمارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار سمیت4سیکیورٹی گارڈ اورایک شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔گورنرسندھ اوروزیراعلیٰ سندھ نے دہشت گردی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ پاکستان کی معیشت پر حملہ ہے ، اسٹاک ایکس چینج کو سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔تفصیلات کے مطابق پیرکی صبح 10بجے کے قریب4دہشت گرد نے سفید رنگ کی ایک کار میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں داخل ہوئے، گاڑی سے نکلتے ہی انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس موقع پر عمارت کی سیکیورٹی پر تعینات گارڈز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر دہشت گردوں نے فائرنگ کے ساتھ ساتھ دستی بم پھینکے تاہم سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے 2دہشت گرد داخلی گیٹ پر ہی مارے گئے جبکہ بقیہ اسٹاک مارکیٹ عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے اطراف پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ڈی آئی جی ساﺅتھ شرجیل کھرل کے مطابق 4دہشت گردوں نے اسٹاک مارکیٹ کی عمارت پر حملہ کیا 2دہشت گرد داخلی گیٹ پر ہی مارے گئے جبکہ دو دہشت گرد عمارت میں داخل ہوگئے تھے جن کو سرچ آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا۔ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کے بیگز سے دستی بم، پانی کی بوتلیں، کھانے پینے کی اشیاءاور جدید اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹس بھی موجود تھیں۔ابتدائی اطلاع کے مطابق مسلح افراد نے اسٹاک ایکسچینج میں داخل ہونے کی کوشش کی جن میں سے دو کو مرکزی گیٹ پر ہلاک کردیا گیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر چار افراد کار میں سوار ہو کر اسٹاک ایکسچینج کی حدود میں داخل ہوئے اوردو حملہ آوروں کو عمارت کے مرکزی گیٹ پر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے اسٹاک ایکسچینج میں سرچ آپریشن کیا اسٹاک ایکسچینج انتظامیہ کے مطابق پولیس اور اسٹاک ایکسچینج کی سیکیورٹی نے حالات کو کنٹرول کیا۔ذرائع کے مطابق دہشت گرد سفیدرنگ کی کرولا کارنمبر BAP269 بتایا گیا ہے میں آئے، چار دہشت گردوں نے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے فائرنگ کی، تاہم سیکیورٹی اہل کاروں نے جوابی کارروائی میں دو دہشت گردوں کو گیٹ پر ہی مار دیا اور دہشت گردوں کو عمارت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ دہشت گردوں سے برآمد ایمونیشن کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ بڑی کارروائی کی غرض سے آئے تھے، ان کے پاس جدید ہتھیار، رائفل، کلاشن کوف، اور ہینڈ گرینڈز موجود تھے، تاہم بہادرسیکیورٹی گارڈز نے ان کا حملہ ناکام بنایا۔ کراچی پولیس چیف نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا جبکہ حملہ کرنے والے چاروں دہشتگردوں کو بروقت کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔پولیس کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق ایک پولیس سب انسپکٹر محمد شاہد اور چار سیکیورٹی گارڈز شہید ہوئے ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ایس ایس پی مقدس حیدر کے مطابق سب انسپکٹر محمد شاہد، پولیس کانسٹیبل سعید اکرم اور سیکیورٹی گارڈ افتخار فضل بھی شہید ہوئے ہیں اور دیگر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے بتایا کہ سول ہسپتال میں مجموعی طور پر10لاشیں اور8 زخمی افراد کو لایا گیا جس میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔چاروں دہشتگردوں کی لاشیں بھی سول اسپتال میں ہی لائی گئیں۔ڈاکٹرزکے مطابق چاروں دہشت گردوں نے ٹی شرٹ ، جینز اور ٹراﺅزر پہنے ہوئے تھے، دہشتگردوں کی جیبوں سے شناخت کی کوئی چیز نہیں نکلی ، حملہ آوروں کی عمریں 22 سال سے 28 برس کے درمیان ہیں۔دوسری جانب پولیس ذرائع نے بتایاکہ 2 سے 3 مشتبہ افراد کو پولیس نے جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی گاڑی تحویل میں لے لی ہے، برآمد کئے گئے اسلحے میں دستی بم اور آٹو میٹک رائفلیں شامل ہیں۔ اسلحے کو فرانزک لیباریٹری بھجوادیا گیا ہے۔سندھ رینجرز کے جاری بیان کے مطابق تمام دہشتگرد مارے گئے ہیں جس کے بعد سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری کیاگیا جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہا ، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار تجارتی لین دین میں مصروف رہے اور ٹریڈنگ ایک لمحہ بھی معطل نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کے 2 مرکزی دروازے ہیں، پہلا دروازہ آئی آئی چندریگر روڈ اور اسٹیٹ بینک سے متصل ہے، پہلے دروازے سے بیرئیر سے گزرنے کے بعد صرف خصوصی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے، دوسرا دروازہ پاکستان ریلوے کارگو سے ملا ہوا ہے، عام افراد کو ریلوے کارگو دروازے سے داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا اپنا نجی سیکیورٹی نظام ہے، داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور چیکنگ کی جاتی ہے، عام طور پر بکتر بند گاڑی اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں مسلسل گشت کرتی ہے، احاطے پر 5مسلح سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، 2 مرکزی دروازروں سے اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں مجموعی طور پر 20اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔داخلی دروازے سے دائیں جانب انتظامیہ، سی ای او اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے دفاتر جب کہ بائیں جانب ٹریڈنگ ہال، بروکرز اور ڈائریکٹرز کے دفاتر ہیں، گراﺅنڈ فلور پر مختلف بینکوں کے دفاتر ہیں، کوروناوبا کے باعث پہلے ہی اسٹاک ایکسچینج اور بینکوں میں محدود اسٹاف آرہا تھا، اکثر دفاتر اور بینک کورونا کیس مثبت آنے پر بند تھے۔آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے قریب فائرنگ اور دستی بم حملے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر ڈی آئی جی ساﺅتھ سے تمام تر ضروری پولیس اقدامات پر مشتمل رپورٹ فی الفور طلب کرلی ہے۔گورنرسندھ عمران اسماعیل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف ہماری مستقل جنگ کو نقصان پہنچانا ہے۔گورنر سندھ نے آئی جی پولس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کو زندہ پکڑنے اور ان کے ہینڈلرز کو عبرتناک سزائیں یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر قیمت پر صوبہ سندھ کا تحفظ کریں گے۔گورنر سندھ نے کہا کہ یہ حملہ دنیا میں پاکستان کے ابھرتے امیج اور معیشت کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش تھی۔انہوں نے کہ رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کی اور صورتحال پر قابو پالیا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں کو بری طرح پسپا کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ دہشت گردوں کو بھی سمجھ آگئی ہوگی کہ پاکستانی پولیس، رینجرز سو نہیں رہی۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان واحد ملک ہے جس کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد ہے جبکہ اسپین، اٹلی کی معیشت منفی 12فیصد پر چلی گئی ہے، بھارت کی منفی 4.5 فیصد ہے تو بھارت کو یہ تکلیف ضرور ہوسکتی ہے کہ پاکستان کی معیشت کس طرح بچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہاں مودی کی بیوقوفی ہے اور یہاں عمران خان کی عقلمندی کی وجہ سے معیشت پر جو اثرات پڑے یہ اسے نشانہ بنانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ملکی سلامتی اور معیشت پر حملے مترادف ہے۔وزیراعلی سندھ نے پولیس اور رینجرز کی طرف سے بروقت کارروائی کرنے کو سراہا اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید چوکس رہنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلی نے کہاکہ وبائی صورتحال کے پیش نظر ملک دشمن عناصر ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واقعے کی مکمل تفصیلی انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے اسٹاک مارکیٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کہ حملہ آوروں کے پاس بھاری اسلحہ تھا، حملہ آوروں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی،جوابی کارروائی میں 4 حملہ آور مارے گئے، شرپسند عناصر کو کراچی کا امن ہضم نہیں ہورہا، وزیراعلی سندھ نے پورے علاقے میں سرچ آپریشن کے احکامات دیئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*