” سیّد منور حسن ، عالمِ اسلام ، پر سراج الحقّی ؟“

تحریر:اثر چوہان
معزز قارئین!۔ سابق امیر جماعت اسلامی سیّد منور حسن کو 27 جون کو کراچی میں ” سخی حسن قبرستان “ میں سپرد خاک کردِیا گیا۔ سیّد صاحب 29 مارچ 2009ء سے 29 مارچ 2014ء تک امیر جماعت ِ اسلامی رہے، پھر جناب سراج ا±لحق نے امارت سنبھال لی تھی۔ سیّد منور حسن کے انتقال کے روز ہی صدر عارف ا±لرحمن علوی، وزیراعظم عمران خان ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ، سیّد شبلی فراز ، سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ، ا±ن کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف، امیر جمعیت ع±لمائ اسلام (فضل ا±لرحمن گروپ) ، نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان ، چودھری برادران ( چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الٰہی) وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج ا±لحق اور مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے سیّد منور حسن کی مغفرت کے لئے د±عائیہ بیانات جاری کردئیے تھے۔
”قائدِ عالمِ اسلام!“
سیّد منور حسن کی نمازِ جنازہ جناب سراج ا±لحق کی امامت میں ادا کی گئی۔ بعد ازاں نماز ِ جنازہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہ±وئے جنابِ سراج ا±لحق نے کہا کہ ” سیّد منور حسن ، ایک نظرئیے ، عقیدے، جہدِ مسلسل، صبر استقلال، فخر و درویشی، زہد و پاکیزگی کا نام اور علامت تھے۔ا±ن کا نظریہ، عقیدہ، زندہ رہے گا ، قرآن و سنت کی بالا دستی ، اسلامی نظام کے قیام اور عوام کے جمہوری حقوق کے لئے جہدِ مسلسل ا±ن کی زندگی کا مقصد تھا “۔ جنابِ سراج ا±لحق نے یہ بھی کہا کہ ”پورا عالمِ اسلام آج اپنے قائد ( سیّد منور حسن ) سے محروم ہوگئے“۔ جنابِ سراج ا±لحق کو اپنے سابق امیر کے بارے میں اِسی طرح کہنا چاہیے تھا۔
حکیم اللہ محسود” شہید!“
حیرت ہے کہ ” ا±س وقت قومی اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کے صِرف چار منتخب ارکان تھے ، جب یکم نومبر 2013ءکو پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سمیت 55 ہزار بے گناہ پاکستانیوں کا قاتل ”تحریک طالبان پاکستان “ کا سربراہ حکیم اللہ محسود شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے سے ہلاک ہ±وا تو ، امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے سیّد منور حسن نے ا±سے شہید قرار دِیا تھا۔ اِس سے پہلے جب، 2 مئی 2011ء کو دہشت گرد تنظیم ”القاعدہ“کا سربراہ اسامہ بن لادن امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہ±وا تھا تو، ا±س وقت بھی سیّد منور حسن صاحب نے ا±سے ”سیّد ا±لشہدائ“ قرار دِیا تھا۔ ا±ن دِنوں جناب عمران خان نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر کوئی تبصرہ نہیں کِیا تھا لیکن، 25 جون 2020ء کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہ±وئے وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے جنابِ عمران خان نے ا±سامہ بن لادن کو شہید تسلیم کرلِیا۔معزز قارئین!۔ 6 نومبر 2013ء۔12 نومبر 2013ء۔26 نومبر 2014ء اور 8 دسمبر 2014ء کو مَیں نے اپنے نظرئیے اور عقیدے کے مطابق ”نوائے وقت “ میں سیّد منور حسن صاحب کی ” پاکی داما ں “ کی بات کی تھی۔ اِس لئے کہ ” ہر مسلک کے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ”سیّد ا±لشہدائ“ تو ، امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی تھے / ہیں“۔ جماعت ِ اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودی خ±ود سیّد تھے۔ وہ اگر زندہ ہوتے تو، اسامہ بن لادن کو ” سیّد ا±لشہدائ“ کہہ کر گنہگار نہ ہوتے۔
”امیر جماعت ِ اسلامی کا انتخاب!“
امیر جماعت ِ اسلامی کی حیثیت سے سیّد منور حسن کی طرف سے اسامہ بن لادن کو ” سیّد ا±لشہداء “ اور حکیم اللہ محسود کو ”شہید “ قرار دینے کے فتوے پر نہ صِرف پاک فوج بلکہ پوری قوم نے ناپسندیدگی کا اظہار کِیا۔ یہی وجہ تھی کہ” جماعت ِ اسلامی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ”امارت کے انتخاب “میں دو امیدواروں نے حصّہ لِیا۔ جناب سراج ا±لحق نے سیّد منور حسن کو شکست دے دِی تھی۔ امیر جماعت ِ اسلامی کی حیثیت سے جناب سراج ا±لحق نے کبھی بھی دہشت گردوں کو ” شہید یا سیّد ا±لشہدا“ کے اعزازات سے نہیں نوازا۔
5 نومبر 2015ء کو ” نیشنل لیبر فیڈریشن “ کی مجلس عاملہ سے خطاب کرتے امیر جماعت ِاسلامی جناب سراج ا±لحق نے کہا کہ ” جماعت ِ اسلامی واحد تنظیم ہے جو قائداعظم کے نظرئیے کی محافظ ہے ، اگر آج قائداعظم اور علاّمہ اقبال زندہ ہوتے تو، جماعت ِ اسلامی کے ر±کن ہوتے “۔ اِس پر 7 نومبر 2015ء کو ” نوائے وقت “ میں میرے کالم کا عنوان تھا۔ ”علامہ اقبالاور قائداعظم پر ” سراج ا±لحقّی ؟“ پھر کئی گمنام لوگوں نے مجھے گمنام ٹیلی فون کئے لیکن، مَیں ابھی زندہ ہ±وں۔
معزز قارئین!۔ جناب سراج ا±لحق امیر جماعت ِ اسلامی منتخب ہ±وئے تھے ، تو 12 اپریل 2014ء کو میرے کالم کا عنوان تھا۔ ”موسٹ وَیلکم جناب سراج ا±لحق!“۔ مَیں نے لکھا تھا کہ ”سِراج آلحق“ بہت خوبصورت نام ہے۔ ”سِراج“ چراغ یا سورج کو کہتے ہیں اور حق کا چراغ یا س±ورج بھلا دستور کے راستے سے کیوں ہٹے گا؟ وہ تو اپنے نام کی مناسبت سے دوسروں کو سِیدھے راستے پر چلائے گا “۔حیرت ہے کہ ” جناب سراج ا±لحق کی امارت میں سیّد منور حسن نے چپ کا روزہ رکھا ہ±وا تھا لیکن ، ا±ن کی وفات کے بعد جناب سراج ا±لحق کا یہ کہنا کہ ” سیّد منور حسن کی وفات کے بعد عالمِ اسلام اپنے قائد سے محروم ہوگیا ہے تو، ” عالمِ اسلام “ سراج ا±لحق صاحب سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ ” جنابِ امیر کیا آپ ہماری قیادت نہیں کرسکتے ؟ “۔ معزز قارئین!۔ کیا مَیں اِسے ” سیّد منور حسن ، عالمِ اسلام ، پر سراج ا±لحقّی ؟“نہ کہوں تو کیا کہوں ؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*