سپریم کور ٹ کا وفاقی حکومت کو ادویہ کی قیمتوں پر چار ہفتوں میں فیصلہ کرنےکا حکم

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کور ٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو ادویہ کی قیمتوں پر چار ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دےدیا ہے جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ دنیا میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بڑی مضبوط ہیں، ہمارا ڈریپ کا ادارہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچے لگا ہوا ہے،ڈریپ ادویات کی قیمتوں کو گھماتا رہتا ہے۔پیر کو سپریم کورٹ میں ادویات سے متعلق مقدمے کی سماعت چیف جسٹس جسٹس گلزاراحمد اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بینچ نے کی۔ دور ان سماعت وکیل نے کہاکہ ادویات کی قیمت کے تعین میں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ وکیل نے کہاکہ حکومت نے جو ایس آر او جاری کیا وہ عدالت کے حکم کے مطابق نہیں تھا۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے کیا حکم دیا تھا۔ وکیل نے کہاکہ عدالت نے ادویات کی قیمتیں دو ہزار تیرہ کی سطح پرفریز کرنےکاحکم دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت نے اپنے حکم میں ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دنیا میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بڑی مضبوط ہیں، ہمارا ڈریپ کا ادارہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نیچے لگا ہوا ہے،ڈریپ ادویات کی قیمتوں کو گھماتا رہتا ہے۔ ڈریپ ڈائریکٹر نے کہاکہ ادویہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ڈریپ چاہتا ہے تمام کمپنیاں اس کے دروازہ پر آکر بیٹھی رہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ادویہ کی قیمتوں کے تعین میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ادویہ کی قیمتوں کا تعین ایک دن میں ڈریپ کو کرنا چاہیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ کیا ٹاسک فورس کی سفارشات کے بعد حکومت نے قیمتوں پر فیصلہ کیا،حکومت غیر معینہ مدت تو معاملہ لیکر نہیں بیٹھ سکتی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ٹاسک فورس کی سفارشات آ چکی ہے، حکومت نے سفارشات پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا،ڈی پی سی کو قیمتوں کے تعین کا اختیات نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ٹاسک فورس کا جواز قانون میں کسی جگہ نہیں، ڈی پی سی قیمتوں کا تعین کیا، حکومت نے ڈی پی سی کے فیصلے پر ٹاسک فورس بنادی۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس طرح تو ٹاسک فورس پہ ٹاسک فورس بنتی جائیں گی، ڈریپ ڈیپوٹیشن پر لوگ کام کر رہے ہیں۔ ڈریپ نے کہاکہ ڈریپ میں ڈائریکٹر لیول پر کوئی ڈیپوٹیشن پر کام نہیں کر رہا۔عدالت نے وفاقی حکومت کو ادویہ کی قیمتوں پر چار ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*