بجٹ عوام دوست یا دشمن ہے اس کا فیصلہ عوام کریں گے، جام کمال

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ جو عقل کل اور ہمیں کم عقل سمجھتے ہیں انہیں چاہے کہ وہ دلائل سے بات کریں اور انہی دلائل سے ہمارے کوتاہیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرکے بہتری کی تجاویز دیں مشکل حالات میں حکومت ملی ہم نے گورننس ،مانیٹرننگ،احتساب کے اصولوں پرکام کیا ہے بجٹ عوام دوست یا دشمن ہے اس کا فیصلہ عوام کریں گے اپوزیشن کے ہر نکتے کا جواب میرے پاس موجود ہے کاش وہ بائیکاٹ نہ کرتے تو انہیں وضاحت کرتا کہ 12ارب روپے کی دیگر اسکیمات میں خواتین کیلئے انٹرن شپ پروگرام ،صوبے میں اپنی مائننگ کمپنی ،ماہی گیروں کی بہتری،تفتان میں ایل این جی ٹرمینل سمیت دیگر کئی اسکیمات شامل ہیں،حیرت ہے کہ اپوزیشن نے 90کٹ موشن کی تحریکیں ایوان میں پیش کی لگتاہے انہوں نے کسی کو ذمہ داری دی ہوئی تھی کہ وہ انہیں کٹ موشن کی تحریکیں بنا کر پرنٹ کرکے دے۔یہ بات انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے اختتام پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی کارکردگی کاموازنہ اگر اپنی ہی سابقہ کارکردگی سے کرے تو بہت سے چیزیں بہتر ہوسکتی ہے 2018ء کے انتخابات کے بعد حکومت تشکیل دی تو بہت مسائل ومشکلات کاسامنا تھا جن پر قابو پانے کیلئے ہم نے گورننس ،مانیٹرنگ ،احتساب اور قوانین میں بہتری لانے پر توجہ دی آئندہ مالی سال کا بجٹ عوام دشمن یا عوام دوست اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیاجائے ،حکومت نے محکموں کی فائلوں اور سمری تک رسائی کیلئے ٹریکنگ کانظام وضع کیاہے تاکہ فائل ورک اور سمری کا عمل سست روی کا شکار نہ ہو اور محکموں کی کارکردگی بھی بہتر ہو ،موجودہ حکومت نے 6ہزار سے زائد آسامیاں متعلقہ اداروں کو بھجوائی ہیں حکومت نے ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کیلئے ایک سال میں 70ارب میں 65ارب روپے خرچ کئے ہیں حالانکہ ماضی میں آخری مال سال میں یہ رقوم خرچ کی جاتی تھی موجودہ حکومت نے فنڈز کااجراءاگست سے شروع کیا تھا آئندہ مالی سال کیلئے فنڈز کااجراءجولائی سے ہوگا۔بلوچستان میں ریکارڈ برف باری ہوئی اور اس کے بعد کورونا آیا جس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کیلئے وقت کام ملا لیکن کم وقت کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کیلئے جامع منصوبہ پروگرام بنایاہے موجودہ دور حکومت میں 121ایسے منصوبے تکمیل تک پہنچائے گئے ہیں جو 2002،2003ئ اور دیگر سالوں میں شروع ہوئے تھے ،ضلعی سطح پر محکموں کی کارکردگی کی بہتری کیلئے کمشنر اور متعلقہ محکمہ جات کے آفیسران کو سہولیات فراہم کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل ہائی ویز پر ایمرجنسی سینٹر ز قائم کئے ہیں مذکورہ سینٹرز میں ٹریفک حادثات کے زخمیوں کو سہولیات فراہم کی جارہی ہے بلکہ کورونا میں بھی معاونت فراہم کررہی ہے ساحل وسائل کے تحفظ کیلئے حکومت کی جانب سے سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام عمل میں لایاہے تاکہ کوئی بھی غیر ملکی شخص یا کمپنی بلوچستان میں ایک انچ کی بھی زمین خرید نہیں سکتی اپنے ساحل وسائل کا تحفظ تقریر وشور اور شرابے سے نہیں کی جاسکتی نہ کسی کو ڈنڈے اٹھا کر آنے سے روک سکتے ہیں ساحل وسائل کا تحفظ صرف قانون سازی سے ہوسکتاہے بلکہ معدنیات کے حوالے سے منرل پالیسی 2019ئ بھی تشکیل دی گئی ہے جس سے ہماری معدنیات اور زمینیں محفوظ ہوںگی بلوچستان حکومت نے گزشتہ 2008 سے 2018ءکے درمیان کے حکومتوں کی نسبت سب سے زیادہ 102کابینہ کے اجلاس منعقد کرائے ہیں جن میں 390ایجنڈے زیر بحث آئے اور بلوچستان کی مفادات کو مدنظررکھ کر اس پر فیصلے کئے گئے ،جو عقل کل اور ہمیں کم عقل سمجھتے ہیں انہیں چاہے کہ وہ دلائل سے بات کریں اور انہی دلائل سے ہمارے کوتاہیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرکے بہتری کی تجاویز دیں جہاں ہماری کمزوری اور کوتاہی ہوگی ہم فراخ دلی سے اس کو بہتری کیلئے کام کرینگے ہماری حکومت نے گوادر ماسٹر پلان منظور کرایا کوئٹہ ماسٹر پلان جس پر ایک انچ بھی کام نہیں ہوا تھا اب الحمد اللہ اس پر نہ صرف کام تکمیل کو ہے بلکہ حکومت نے ماسٹر پلان کے منصوبے کو وسعت دیتے ہوئے 30اضلاع تک پھیلا دیاہے انہوں نے کہاکہ حکومت نے اربن سروسز کی بہتری کیلئے واضح پالیسی تشکیل دی ہے اور اس کو جامع انداز میں آگے بڑھایاجارہاہے ساحلی علاقوں کی ترقی کیلئے کوسٹ ماسٹرپلان تشکیل دیاہے بلکہ کوسٹل ایریاز کی ترقی کیلئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے جس سے ساحلی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو سہولیات میسر اور وہاں آنے والے افراد کو ایک بہتر ماحول میسر ہوگا انہوں نے کہاکہ حکومت نے جامعات کیلئے مختص رقم میں ڈھائی ارب روپے تک اضافہ کیاہے کمیونیکیشن کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،خضدار ،لورالائی اور دالبندین میں ماربل سٹی کا پلان عمل میں لایاجارہاہے اور مختلف اضلاع میں اکنامک زونز بنائے جارہے ہیں حکومت نے سوشو اکنامک ڈویلپمنٹ منصوبے کی منظوری دی ہے بے روزگار افراد کو بلا سود قرضے دئےے جائیںگے انہوں نے کہاکہ بلوچستان انڈوومنٹ فنڈ کے تحت کینسر اور دیگر امراض میں مبتلاافراد کے علاج ومعالجے کیلئے 9ارب سے زائد رقم فراہم کی ہے جس کے تحت اب تک 5سو کے قریب لوگوں نے ملک کے مختلف ہسپتالوں میں اپنا علاج کراکر صحت یاب ہوچکے ہیں ،حکومت نے مائیکرو فنانس پروگرام ،ہیلتھ انشورنس پروگرام کے منصوبوں کی بھی منظوری دی ہے انہوں نے کہاکہ جس ملک کی آدھی سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہو وہاں اراکین اسمبلی کی جانب سے یہ کہنا کہ انہیں سپورٹس کمپلیکس کی ضرورت نہیں باعث تعجب ہے انہوں نے کہاکہ صوبے کے 33اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے جارہے ہیں 71فٹ سال بنائے جارہے ہیں صوبے کے ہر ٹا?ن کمیٹی میں فٹ سال بنائے جائیںگے جو ایک بہت بڑی پیشرفت ہے حکومت لیویز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے لیویز میں کیوئک رسپانس فورس،بم ڈسپوزل اسکواڈ، انٹیلی جنس سسٹم کی تشکیل موجودہ حکومت میں ہوئی ،لیویز کو تمام جدید آلات اور سہولیات سے موزئین کیاجائے گاانہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے لیویز سے متعلق مطالبات زر میں بھی تخفیف زر کی تحریک پیش کی انہوں نے کہاکہ حیرت ہے کہ اپوزیشن نے 90کٹ موشن کی تحریکیں ایوان میں پیش کی لگتاہے انہوں نے کسی کو ذمہ داری دی ہوئی تھی کہ وہ انہیں کٹ موشن کی تحریکیں بنا کر پرنٹ کرکے دے۔بلوچستان حکومت نے صوبے میں خصوصی افراد کے کوٹے میں بھی اضافہ کیاہے اس سلسلے میں اسپیشل افراد کے کوٹے پرتعیناتیاں بھی کی گئی ہے۔حکومت لائیواسٹاک اور ایگری کلچر کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع میسر آئیںگے بلکہ صوبے کی معیشت میں بھی استحکام آئے گا۔حکومت نے پہلی مرتبہ لائیواسٹاک ایکسپو کروایا ،برف باری اور کورونا وائرس کی وبائ نہ آتی تو ہم اس طرح کے مزید ایکسپو کروا چکے ہوتے بلوچستان حکومت صوبے کے تمام انٹرگرلز کالجز کو ڈگری کادرجہ دیاجائے گااس کے بعد تمام انٹربوائز کالجز کو بھی ڈگری کادرجہ دیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت تمام اضلاع میں ہسپتال بنانے جارہی ہے 8ارب روپے صرف پوسٹ کووڈ کیلئے رکھے گئے ہیں ،ائیرایمبولینس کامنصوبہ حتمی نہیں اس سلسلے میں صرف غور ہورہاہے ،صوبے کے مختلف اضلاع میں لیبارٹریز کا قیام ،ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجارہاہے سندھ ،پنجاب اور خیبرپشتونخوا میں صحت کی سہولیات نجی سطح پر لوگوں کو فراہم کی جاتی ہے تاہم بلوچستان میں یہ تمام ذمہ داریاں صوبائی حکومت کے ذمے ہے مختلف علاقوں میں شاہراہوں کی تعمیر وترقی سے مواصلاتی نظام میں بہتری سمیت ان اضلاع میں ترقی کے نئی دور کاآغاز ہوگا انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت صوبے کی تمام اضلاع میں سرکاری ملازمین کیلئے جی او آرکالونی کی طرز پر کالونیاں بنانے کاارادہ رکھتی ہے صوبے میں نئے اضلاع کے قیام کے کی تجویز بھی زیر غور ہے کوئٹہ میں بلوچستان حکومت نے سرہ خولہ ڈیم بنانے کیلئے رقم مختص کی ہے حکومت معدنیات کے شعبے کوجدید خطوط پرا ستوار کرنے کیلئے کام کررہی ہے نواب اسلم خان رئیسانی کے دور حکومت میں اگر ریکوڈک سے متعلق بروقت اقدامات اٹھائے جاتے تو آج صوبے کی ریونیو میں بہتری آتی مگر اس وقت ثمر مبارک کو ڈھائی ارب روپے دیکر 4ایکسیلیٹر،ایک لوڈر اور ٹریکٹر لیکر ریکوڈک پر کام شروع کیا گیا موجودہ حکومت نے ریکوڈک سے متعلق واضح پالیسی وضع کی ہے ،انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ میں صحت کیلئے مختص فنڈز میں 40فیصد اضافہ کیاگیاہے ایگریکلچر ،صحت اور دیگر شعبوں کے فنڈز میں بھی اضافہ کیاگیاہے ،کولڈ اسٹوریج کے علاوہ سکواش اکیڈمی کا قیام عمل میں لایاجارہاہے ،حکومت 2سے ڈھائی سو مختلف منصوبوں جو زیر التواءتھے پر کام کررہی ہے بلوچستان میں سب سے زیادہ ریونیو کوئٹہ سے مل رہی ہے انہوں نے کہاکہ جن اضلاع سے ریونیوحاصل ہوتی ہے وہاں کی بہتری کیلئے اقدامات کی جارہی ہے تاکہ صوبے میں بے روزگاری کا خاتمہ اور آمدن میں اضافہ ہو،انہوں نے اگلے سال 45ارب ریونیو حاصل کرنے کا ہدف ہے ڈسزاسٹرمینجمنٹ ویلج بنا رہے ہیں تاکہ ہر ضلع میں سامان میسر ہوخواتین کیلئے انٹرشپ پروگرام کااجراءکیاجارہاہے اگر اپوزیشن کتابیں پڑھ لیتی تو پتہ چلتا کہ دیگر اسکیموں میں کیا کچھ رکھاگیاہے 2ارب روپے مکمل اسکیمات کیلئے رکھے گئے جو کابینہ سے منظور ہوںگے ،میرے والد کے دورحکومت میں شروع ہونے والا بی آر سی کا منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہوا کیونکہ اس کی صرف چار دیواریں 5سو ایکڑ پرمحیط ہے حکومت گرین ٹریکٹرپروگرام کامنصوبہ لارہی ہے تاہم وہ کورونا کی وجہ سے تعطل کاشکار ہوئی ،46کمیونٹی ویلفیئرز اکیڈمی بنارہے ہیں ،کم خرچ ہا¶سنگ اسکیم بنارہے ہیں حکومت صوبے میں ہنرمند پروگرام شروع کررہی ہے 25ووکیشنل ثقافتی سینٹر تعمیر کی جارہی ہے بلکہ تفتان میں پہلی بار ایل پی جی ٹرمینل تعمیر کیاگیاہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے ہر پوائنٹ نوٹ کیاگیا ہے لیکن وہ اسمبلی میں موجود نہیں اور بائیکاٹ کئے بیٹھے ہیں ،اس لئے میں آج اپنا خطاب مختصر کررہاہوں۔صوبے کی ترقی کیلئے ہرممکن کوشش کی ہے۔اسمبلی ملازمین کیلئے زمین کااعلان کررہے ہیں۔انہوں نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداءکے اہل خانہ سے ہمدردی کااظہار کیا ،انہوں نے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات پرافسوس کااظہار کیا،انہوں نے بجٹ سازی پر معاونت فراہم کرنے پر اتحادی جماعتوں ،متعلقہ محکموں اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ بجٹ کے نسبت رواں مالی سال کے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کا ماحول بہترین دیکھنے کو ملا اپوزیشن نے بھی بڑے پن کامظاہرہ کیا جس پر ان کامشکور ہوں ہم بہتر انداز میں بجٹ اجلاس کو اختتام کی طرف لے جارہے ہیں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس سال کو ہمارے لئے عافیت ،پرامن اور بہتری کا سال بنائیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*