وفاقی بجٹ مسترد ،اپوزیشن کاحکومت کیخلاف ہر محاذ پر لڑنے کا اعلان

National Assembly of Pakistan

اسلام آباد (آئی این پی) متحدہ اپوزیشن نے وفاقی بجٹ مسترد کرتے ہوئے 19 نکاتی مشترکہ بیان جاری کر دیا ، بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں خوراک کی قیمتوں میں ایک سے 25 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ ہوا۔ عمران خان حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیںپاکستان کو ایک عالمی وباء، عالمی معاشی بحران اور ٹڈی دل کے تاریخی خطرے کا سامنا ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ہمیں مثالی اقدامات اٹھانے ہوں گے جبکہ اس وقت ایسے کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے، پی ٹی آئی نے ایک ایسا بجٹ پیش کیا ہے جو کہ ہر سال معمول کے مطابق پیش کئے جانے والے بجٹ سے بھی خراب ہے جس میں پاکستان کے عوام کے لئے کوئی خوشخبری نہیں، عوام کو بیماری اور بھوک سے بچانے کی بجائے پی ٹی آئی اس بجٹ میں بھی خطرناک اور تفرقہ انگیز سیاست کر رہی ہے،ہمارے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کے تحفظ کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا،بجٹ میں صحت اور معاشی بحالی کا کوئی روڈ میپ نہیں دیا گیا ۔پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ(ن) اے این پی، کیو ڈبلیو پی، جے آئی، جے یو آئی، بی این پی (مینگل)، پی کے ایم اے پی(میر حاصل بزنجو) اور پی ٹی ایم کے محسن داوڑ پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لئے پانی کی کمی کا مسئلہ پاکستان کی بقاکا مسئلہ ہے،پی ٹی آئی نے غریب عوام سے 50لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا لیکن ایک گھر بھی مہیا نہیں کیا گیا۔ کساد بازاری کی شکار معیشت سے پریشان حال عوام کو ریلیف دینے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم میں 3 گنا اضافہ کرنے کی بجائے حکومت نے سماجی تحفظ کے بجٹ میں 34 ارب روپوں کی کٹوتی کر دی اور عوام کو صرف ایک دفعہ کی بنیاد پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم فراہم کی گئی جو کہ بجٹ میں پہلے ہی مختص رقم تھی تفصیلات کے مطابق اتوار کو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ حزبِ اختلاف کی جانب سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماءبھی موجود تھے ، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے 19نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ حزبِ اختلاف کی جانب سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس بجٹ کی وجہ سے پورا ملک متحد ہو کر اسے مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں پٹرول کی قیمت بڑھا کر عوام پر ظلم کیا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے زیادہ اس پر ٹیکس عائد کر دیا گیاہے۔ پی ایم ایل(ن)کے خواجہ آصف نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ عمران خان اب ملک پر بوجھ بن چکے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کے تمام پارٹیوں سے رابطہ رہا ہے۔ آئندہ ہفتے متحدہ حزبِ اختلاف آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوگی۔ جیسے ہی شہباز شریف صحتیاب ہو جاتے ہیں اے پی سی منعقد کی جائے گی۔ کورونا کا مقابلہ ڈاکٹروں اور ماہرین کے مشورے سے ہونا چاہیے لیکن حکومت ایسا نہیں کر رہی۔ ٹڈی دل نے کسان کو تباہ کر دیا ہے۔ حزبِ اختلاف متحد ہے اور اس نے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ عمران خان کی وجہ سے ملک مشکل حالات میں ہے۔ عوام کی صحت اور زندگی خطرے میں ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت میں ہے۔ ہم پاکستان کی متحدہ حزبِ اختلاف پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ پر بہت غوروخوض کے بعد اسے متفقہ اور واضح طور پر مندرجہ ذیل بنیاد پر مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان کو ایک عالمی وباء، عالمی معاشی بحران اور ٹڈی دل کے تاریخی خطرے کا سامنا ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ہمیں مثالی اقدامات اٹھانے ہوں گے جبکہ اس وقت ایسے کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے۔ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے جاری19نکاتی مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک ایسا بجٹ پیش کیا ہے جو کہ ہر سال معمول کے مطابق پیش کئے جانے والے بجٹ سے بھی خراب ہے جس میں پاکستان کے عوام کے لئے کوئی خوشخبری نہیں۔ یہ بجٹ اعدادوشمار سے بھرا ہوا ہے جن پر اس بجٹ کے بنانے والوں کو بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ حزبِ اختلاف کی جانب سے اس بجٹ کے بخیے ادھیڑ دئیے گئے ہیں۔ اس بجٹ کی منظوری سے قبل ہی اس نام نہاد “No New Tax” بجٹ کی قلعی کھل گئی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں بے تہاشہ اضافے سے یہ بات ظاہرہوگئی ہے کہ آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں ایک کے بعد ایک بجٹ کی سیریز آنا شروع ہو جائے گی۔ آخر یہ پی ٹی آئی کی حکومت ہم پر کتنے اور بم گرائے گی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک سخت ترین سماجی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ان خطرات سے نمٹنے کی بجائے اور غریب اور مفلوک الحال عوام کو ریلیف مہیا کرنے، عوام کو بیماری اور بھوک سے بچانے کی بجائے پی ٹی آئی اس بجٹ میں بھی خطرناک اور تفرقہ انگیز سیاست کر رہی ہے۔ ہم یہ بات اس لئے کر رہے ہیں کہ اس بجٹ میں اس حقیقت کو قطعی طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ دنیا اس وقت ایک بہت بڑی اور پہلے کبھی نہ دیکھی جانے والی ایمرجنسی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ یہ بجٹ بحران سے نمٹنے کا بجٹ ہونا چاہیے تھا لیکن یہ واضح طور پر ایک بددیانتی پر مرکوز بجٹ ہے جس میں اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا ہے کہ ہم زندگی اور موت کی دشوار صورتحا ل سے دوچار ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بجٹ کسی اور ہی سیارے پر بیٹھ کر بنایا گیا ہے جس میں دنیا کی زمیتی صورتحال کا بیان ہی نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کم ازکم اجرت کو مہنگائی کے تناسب سے متعین نہیں کیاگیا جس سے غریب ترین طبقات، مزدور، دیہاڑی دار اور محنت کشوں پر اضافی وزن ڈال دیاگیا ہے۔ Covid-19کو ا س حکومت نے شروع ہی سے نظرانداز کیا ہے اور کسی قسم کا بولڈ پالیسی فیصلہ حکومت نے نہیں کیا۔ اسی طرح اس بجٹ میں بھی Covid-19کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ ہمارے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کے تحفظ کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا، نہ ہی جو ہیلتھ ورکرز اپنی زندگیوں کو داﺅ پر لگا کر عوام کی زندگیوں کی حفاظت کر رہے ہیں ان کے لئے کچھ کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کی وجہ سے ہم اپنے خاندانوں کے ساتھ محفوظ ہیں۔ کسی نئے ہسپتال، وینٹی لیٹر یا آکسیجن سے لیس بیڈز کے لئے انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی بجائے آکسیجن کی کمی بھی اسی طرح ہوگئی ہے جیسے اس حکومت میں دیگر ضروری اشیاکی کمی پیدا کر دی گئی ہے اور عوام کو آکسیجن مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بجٹ میں صحت اور معاشی بحالی کا کوئی روڈ میپ نہیں دیا گیا۔ حکومت صرف بیانات تک محدودرہی ہے اور بجٹ میں Covid-19 کے چیلنج اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کا کوئی ذکر نہیں۔ خود حکومت کے دئیے گئے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال تک ملک بھر میں 1279 ہسپتال تھے۔ سال 2018-19 کے درمیان ملک میں ایک بھی ہسپتال کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ یہ بات حیران کن ہے کہ Devolution کے بعد جبکہ صحت صوبائی معاملہ ہے اور صحت کے شعبہ کا سارا بوجھ صوبے اٹھا رہے ہیں اس وقت بھی CCI, NEC, NFC جو کہ آئینی ادارے ہیں کا ذکر سننے کو نہیں ملتا۔ NFC کا نوٹیفیکیشن بھی قطعی طور پر غیرقانونی ہے۔ بجٹ میں WHO کی جانب سے حکومت پاکستان کو صحت کی مزید سہولیات اور انفراسٹرکچر قائم کرنے کی درخواست کو بھی نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ صحت پر جی ڈی پی کا حصہ بڑھانے کی بجائے اس بجٹ میں صحت کے انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کو بڑھانے کے حکومت نے غیرقانونی اور ظالمانہ طور پر صوبوں کو دی جانے والی رقم میں 11فیصد کی کمی کر دی ہے۔ بجٹ میں تمام صوبوں کے لئے ہیلتھ پیکیج دیا جانا چاہیے تھا۔ کاغذات میں Covid-19کے لئے 70ارب روپے دکھائے گئے ہیں لیکن یہ رقم Covid-19 کے لئے نہیں ہے۔ اس رقم کو صاف طور پر صحت اور Covid-19کے لئے رکھا جانا چاہیے تھا۔ حالانکہ اقوامِ متحدہ کے FAOکی جانب سے حزبِ اختلاف کی اس وارننگ کی حمایت کی گئی کہ ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے پاکستان کو 600ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ وفاقی حکومت نے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے کوششوں کو نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ اس کام کے لئے صرف 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس وقت تک 1,40,000ایکڑ رقبے پر فصلوں کو نقصان ہو چکا ہے بلکہ ٹڈی دل ایشیا اور افریقہ کے دیگر علاقوں پر بھی حملہ آور ہو رہاہے۔ بجٹ میں کیڑے مارادویات کے چھڑکا کے لئے جہاز فراہم کرنے کو مجرمانہ طور پر پورا نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی دیگر آلات فراہم کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تک 30 لاکھ مربع کلومیٹر پر بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے اور حکومت کی بے عملی کی وجہ سے مزید زرعی رقبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کی 60 فیصد آبادی بھوک اوار غذائی قلت کا شکار ہو سکتی ہے۔ حکومت کی بے حسی اور بے عملی کی وجہ سے بے شمار لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں اور اس کے ساتھ روزگار اور ایکسپورٹ بھی متاثر ہوگی۔اگر کم از کم 20جہاز اور 50 ارب روپے کی رقم اس کام کے لئے مختص نہیں کی جاتی تو FAO کے اندازے کے مطابق پاکستان کی معیشت کو 2000 ارب تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دنیا خبردار کررہی ہے کہ گزشتہ 25 سالوں میں یہ ٹڈی دل کا سب سے خطرناک حملہ ہے۔ حکومت دنیا اور حزبِ اختلاف کی وارننگ کو نظرانداز کر رہی ہے اور اپنے ٹڈی دل کے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لئے پانی کی کمی کا مسئلہ پاکستان کی بقاکا مسئلہ ہے۔ پانی کے ذخیرے خشک ہو رہے ہیں اور سمندری پانی زمین کو کھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی بھی ہو رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود 2025تک پاکستان میں پانی کی کمی ہو جائے گی۔ پاکستان میں پانی کے ذخیروں اور پانی کے تحفظ کے لئے مختص کی جانے والی رقم میں کمی کر دی گئی ہے۔ اس وقت جبکہ پاکستان کے عوام کو معاشی ریلیف کی سخت ضرورت ہے، حکومت عوام سے نئے ٹیکسوں کی شکل میں ایک کھرب روپوں سے زیادہ رقم اکٹھا کرنا چاہتی ہے جس کی تفصیل عوام کو آہستہ آہستہ بتا کر حکومت اذیت دینا چاہتی ہے۔ عوام کو اذیت دینے کے ہتھیاروں میں پہلا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ اسے پٹرولیم لیوی کے طور پر لیا جا رہا ہے تاکہ اس رقم کو صوبوں کے ساتھ بانٹنا نہ پڑ جائے کیونکہ آئین یہی کہتا ہے۔ یہ عوام پر غیرمنصفانہ بوجھ ہے، یہ غیرقانونی ہے اور غریب عوام پر ظلم ہے۔ اپنے دوستوں کو نوازنے کے لئے سرمایہ داری نے تعمیراتی شعبہ سے منی لانڈرنگ کی اجازت دی۔ تعمیراتی شعبہ کو پہلے ہی ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکس میں چھوٹ دے کر فائدہ پہنچایا گیا۔ پی ٹی آئی نے غریب عوام سے 50لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا لیکن ایک گھر بھی مہیا نہیں کیا گیا۔ کساد بازاری کی شکار معیشت سے پریشان حال عوام کو ریلیف دینے کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم میں 3 گنا اضافہ کرنے کی بجائے حکومت نے سماجی تحفظ کے بجٹ میں 34 ارب روپوں کی کٹوتی کر دی اور عوام کو صرف ایک دفعہ کی بنیاد پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم فراہم کی گئی جو کہ بجٹ میں پہلے ہی مختص رقم تھی۔ کئی دہائیوں کے بعد افراط زر ڈبل ڈیجٹہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ گزشتہ تمام حکومت نے کسی نہ کسی حد تک اضافہ کیا تھا۔ اس وقت جبکہ عوام صحت اور معاشی بحرانوں سے دوچار ہیں اس بات کی ازحد ضرورت ہے کہ وبائی صورتحال میں سینئر شہریوں کا خیال رکھا جائے لیکن انہیں یکسر انظرانداز کر دیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حکومت کورونا کی وباسے قبل ہی معاشی طور پر تباہ کن صورتحال سے دوچار تھی لیکن حکومت اسے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے اپنے اعدادوشمار انتہائی دگرگوں صورتحال بتا رہے ہیں۔ حکومت کا انٹرسٹ ریٹ(شرح سود)بہت زیادہ رکھنے، روپے کی قیمت بہت زیادہ گرانے ا ور نیب کے ذریعے سرمایہ کاروں کو تنگ کرنے کی پالیسیوں نے ملک کو تباہ حال کردیا تھا۔ صرف ڈیڑھ سال کے عرصے میں فوڈ انفلیشن ایک فیصد سے 25فیصد پر پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں دس لاکھ سے زیادہ افراد بیروزگار ہوگئے۔ پہلے سال میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 5فیصد سے کم ہو کر 1.9فیصد ہوگئی اور اس سال مارچ کے مہینہ تک یہ شرح اور بھی کم ہو کر -0.4فیصد ہوگئی اور یہ تو سب کورونا کی وباسے قبل ہی ہوگیا تھا اس وقت تو کسی نے کورونا کا نام تک بھی نہیں سنا تھا۔ ریونیو جو کہ کسی بھی معیشت کا بنیادی عنصر ہوتا ہے اس میں آئی ایم ایف کے بتائے ہوئے ٹارگٹ جو کہ حکومت نے مقرر کئے کبھی پورے نہیں ہوئے۔ اس دوران ایک کے بعد دوسرا FBR کا سربراہ آتا جاتا رہا۔ حکومت ایک مرتبہ پھر Covid-19 کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کورونا کی وباسے قبل بھی FBR 593 ارب روپے مقررہ ٹارگٹ سے کم جمع کر سکی تھی۔ اپریل کے مہینہ میں FBR نے ٹیکس کی مدمیں عارضی طور پر 242.5ارب روپے جمع کئے جو کہ گزشتہ سال اپریل میں جمع کئے گئے ٹیکس سے 48 ارب روپے یعنی 16.5فیصد کم جمع کئے گئے۔ ٹیکس کم جمع ہونے کے حکومتی قرضوں پر نہایت منفی مضمرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کی ترقی کی شرح کا ٹارگٹ صرف خیالی ہے اور ایک مذاق معلوم ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اپنی ناکامی کا الزام گذشتہ حکومتوں پر ڈالتی ہے لیکن خود پی ٹی آئی کا بجٹ حکومت کے بے تہاشہ بدانتظامی اور ناکامی کا آئینہ دار ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے 18 ماہ میں 12,000 ارب روپے قرض لیا اور دو سال پورے ہونے تک یہ رقم اس رقم کے برابر ہو جائے گی جو گزشتہ حکومت نے اپنے پورے پانچ سالہ دور میں لیا تھا۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر یہ حکومت جاری رہتی ہے تو اپنے پیچھے قرض کا اتنا بڑا بوجھ چھوڑ جائے گی جس کی ادائیگی بعد میں آنے والی حکومت کے بس میں نہیں رہے گی۔ بجٹ کے لئے مشاورت کے عمل میں تمام پارلیمانی طریقہ کار کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اب تک اس حکومت کی جانب سے Covid-19 کے لئے دنیا بھر سے جمع کی گئی رقوم کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ اس ضمن میں اخراجات کو پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کے مطالبات کے باوجود اس غیرملکی امداد کے بارے کوئی شفافیت نظر نہیں آتی۔ Covid-19 کی پارلیمانی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 27اپریل 2020یعنی دو ماہ قبل ہوا تھا۔ ان بحرانی صورتحال میں بھی پرلیمانی کمیٹی کے کردار کو پیچھے دھکیل دیا گیا جبکہ اس وقت پارلیمانی کمیٹی کی اشد ضرورت تھی تاکہ اتحاد اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ملک کو اس جاہل، نااہل اور خودپسند حکومت سے بچانا ضروری ہے اس سے قبل کہ یہ حکومت اپنے بوجھ تلے اس ملک کو تباہ کر دے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان حکومت کورونا عالمی وبا کے آنے سے پہلے کی اپنی ”بے مثال“ کارکردگی کا خوب ڈھنڈورا پیٹتی رہی ہے جبکہ اس کے اپنے پیش کردہ اعدادوشمار ان بلند وبانگ دعوں کے برعکس تصویر دکھا رہے ہیں۔ شرح سود یا پالیسی ریٹ میں انتہائی زیادہ اضافہ کی حکمت عملی، روپے کی قدر میں اچانک اور بڑی مقدار میں کمی کے علاوہ نیب کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ڈرانے دھمکانے اور انتقامی کارروائیوں کا نتیجہ معیشت کے جمود کی صورت برآمد ہوا اور گرتی معیشت اور اس کے جمود نے ملک کو تباہی ولاچاری کاشکار کردیا۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں خوراک کی قیمتوں میں ایک سے 25 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ ہوا۔ عمران خان حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں اور لاکھوں عوام غربت کی لکیر سے نیچے دھکیلے جاچکے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وقت تک ہوچکا تھا جب ملک میں کسی نے کورونا کا نام ونشان بھی نہیں سنا تھا۔ عمران خان حکومت نے بجٹ سازی کی مشاورت کے دوران تمام پارلیمانی طریقہ ہائے کار کو نظر انداز کیا۔ کورونا وبا سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر پاکستان کو جو امدادی رقم دی گئی ہے، اس کا کوئی اتہ پتہ ، کوئی حساب کتاب دستیاب نہیں۔ تمام اخراجات کی پارلیمان سے منظوری لینے کے باربارکے تقاضوں کے باوجود بیرون ملک سے آنے والی امداد سے متعلق شفافیت موجود نہیں اور نہ نگرانی کا کوئی نظام ہی دستیاب ہے۔ کورونا پر پارلیمانی کمیٹی کا آخری ہنگامی اجلاس 27 اپریل 2020 کو ہوا تھا۔ جسے منعقد ہوئے اب دو ماہ ہوچکے ہیں۔ بحران کے اس دور میں پارلیمانی کمیٹیوں کا کردار نظرانداز کردیاگیا ہے حالانکہ اس وقت اتحاد، اتفاق اور شفافیت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں جمہوریت کے چوتھے ستون میڈیا کی حالت بھی انتہائی دگرگوں ہے۔ باربارکی یاد دہانیوں کے باوجود پی ٹی آئی حکومت نے صحافی برادری کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا حالانکہ یہ شعبہ کورونا وبا کے آنے سے سب سے بری طرح متاثر ہونے والے شعبہ جات میں سے ایک ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے پراپگنڈے اور جھوٹ کے فروغ کے لئے اشتہارات کو ہتھیاربنایا۔ اس حکومتی حکمت عملی کے نتیجے میں یہ شعبہ پہلے ہی شدید مالی بحران سے دوچار تھا۔ مالی بحران کے باعث بڑے پیمانے پر میڈیا کے محنت کش اور ملازمین بیروزگار ہوچکے تھے اورتنخواہوں میں کٹوتیوں کے عذاب کا سامنا کررہے تھے۔ پی ٹی آئی نیب ، دھمکیوں اور دھونس کے دیگر طریقوں کو استعمال کرکے پاکستان میں میڈیا کا گلا گھونٹتی ہے اور پھر سوشل میڈیا پر ہجوم کے ذریعے قتل کرنے کے انداز کواپناتے ہوئے ریاست کے چوتھے ستون کو بدنام کرتی ہے۔ سوشل میڈیا کو استعمال کرکے لوگوں کو سیاسی مخالفین پر تشدد کے لئے اکسایاجاتا ہے۔ جنگ گروپ کے میرشکیل الرحمن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اس امر کا بین ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت کو پاکستان میں میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی کھلی فضا سے کتنی چڑ اور نفرت ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ منتقم مزاج موجودہ حکومت نیب کو ہتھیار بنا کر حزب اختلاف کو خاموش کرانا اور دبانا چاہتی ہے۔ سابق قائد حزب اختلاف جناب سید خورشید شاہ اور پنجاب اسمبلی میں موجودہ قائد حزب اختلاف حمزہ شہبازشریف اس حقیقت کی کھلی مثال ہیں۔ آج تک ان پر کوئی الزام نہیں لگ سکا۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ہرموقع بالخصوص ایک ایسے مرحلے پر پاکستانیوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے، جب انہیں مدد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ وفاقی بجٹ 2020-21پاکستانی عوام کی زندگیوں، معاشی مستقبل اور روزگار کا ہرگز تحفظ نہیں کرسکتا۔ مشترکہ اپوزیشن متحد ، متفق اور یک زبان ہوکرپوری قوت وشدت سے اسے مکمل طورپر مسترد کرتی ہے۔ دریں اثناءمتحدہ اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کیخلاف ہر محاذ پر لڑنے کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے تمام آئینی راستے استعمال کریں گے،کسی قسم کا غیر آئینی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا،عمران خان جتنی دیر عہدے پر رہیں گے ملک تباہی کی طرف جائے گا،جتنی جلدی ہو اس حکومت سے جان چھڑانی چاہیے،پی ٹی آئی بجٹ نے پورے ملک کو حکومت مخالف متحد کر دیا،پیٹرولیم لیوی کا نوٹیفکیشن اس حکومت کی عوام دشمنی کا ثبوت ہے،پیٹرولیم مصنوعات پر اتنا ٹیکس لگا دیا ہے جو اسکی اصل قیمت سے بھی زیادہ ہے،حکومت مافیا کو کنٹرول نہیں کر سکی مگر خود مافیا کا حصہ بن گئی ہے،کورونا وبا سے لڑنے کیلئے حکومت کے پاس قیادت کا فقدان ہے،جیسے ہے شہباز شریف صحت مند ہو جائیں گے ہم اگلے ہفتے اے پی سی بلائیں گے،جس میں کورونا،18 ویں ترمیم،این ایف سی اور بجٹ پر غور ہو گا۔ان خیالات کا اظہار پیپلزپارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری،مسلم لیگ(ن) کے خواجہ محمد آصف،جمعیت علمائے اسلام کے اکرم خان درانی اور جماعت اسلامی کے میاں محمد اسلم نے اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اتوار کو سندھ ہاس اسلام آباد میں اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم وفاقی بجٹ پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا مشترکہ بیان جاری کر رہے ہیں،تمام اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا،پی ٹی آئی بجٹ نے پورے ملک کو متحد کر دیا،بجٹ نے ملک کو اس حکومت کیخلاف متحد ہو گیا ہے،ہم امید کر رہے تھے کہ بجٹ میں عام عوام،ہیلتھ ورکرز اور لوگوں کی معاشی صورتحال کا خیال رکھا جائے گا مگر مشکل صورتحال پر عوام پر ظلم اور ان پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے ،گزشتہ روز پیٹرولیم لیوی کا نوٹیفکیشن اس حکومت کی عوام دشمنی کا ثبوت ہے،بجٹ منظور ہونے سے قبل حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر اتنا ٹیکس لگا دیا ہے جو اسکی اصل قیمت سے بھی زیادہ ہے۔مسلم لیگ(ن) کے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس مشکل وقت میں جب پورے ملک میں ایک وبا کا راج ہے،وہ وبا ہزاروں جانیں لے چکی ہے،کاروبار بند ہو چکے،معیشت پہلے ہی تباہ ہو چکی تھی اس وبا نے اس کی بحالی کے دروازے بھی بند کر دیے،حکومت نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے،مشیر خزانہ نے کہا کہ کوئی نیا ٹیکس ہمارے پروگرام میں نہیں،مگر دو دن بعد ہی حکومت نے پیٹرول بم عوام پر گرا دیا،اس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جو پہلے سے ہی سہی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہے،عمران خان جتنی دیر عہدے پر رہیں گے ہم تباہی کی طرف جائیں گے،جتنی جلدی ہو اس حکومت سے جان چھڑانی چاہیے،ہم اس کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے،اس حکومت سے جان چھڑانے کیلئے ہر محاذ پر متحد ہو کر لڑیں گے،اپوزیشن ارکان نے جسطرح ایوان میں عوام دشمن بجٹ پر بات کی اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں،حکومتی صفحوں میں جسطرح بے دلی اور انکے اتحادی انہیں چھوڑ کر جا رہے ہیں اس بات کی نشاندہی ہے کہ حکومت کا آخری وقت ان پہنچا ہے،اپوزیشن کو نشانہ بنانے کیلئے حکومتی ادارے استعمال کئے گئے وہ حکومت کی بزدلی کی نشانی ہے،وقت آگیا ہے کہ ان کا حساب چکتا دیا جائے،جماعت اسلامی کے میاں محمد اسلم نے کہا کہ حکومت کے پیش کردہ بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،حکومت نے عوام کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے،ہمارا خیال تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بہترین بجٹ پیش ہوگا،حکومت پہلے بھی فیل تھی مگر بجٹ پیش کرنے بعد مکمل فیل ہوچکی ہے،حکومت مافیا کو کنٹرول نہیں کر سکی مگر خود مافیا کا حصہ بن گئی ہے،جمعیت علما اسلام کے اکرم خان درانی نے کہا کہ شہباز شریف بیمار ہیں ہم ان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کو صحت دیں،پوری اپوزیشن ایک پیج پر ہے،میں نے اپنی زندگی میں اتنے برے حالات نہیں دیکھے،حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت کرونا کی وجہ سے تباہ ہوئی ہے،معیشت کرونا سے پہلے ہی تباہ تھی،میڈیا کی زبان بندی کی جا رہی ہے،میڈیا کے لوگوں کو بےروزگار کیا جا رہا ہے۔میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے اور بعد میں اپوزیشن رابطے میں تھی،ہمارے خواہش تھی کہ بجٹ سے پہلے اے پی سی ہو،معیشت پر اپوزیشن کا موقف عوام کے سامنے رکھا ہے،جیسے ہے شہباز شریف صحت مند ہو جائیں گے ہم اگلے ہفتے اے پی سی بلائیں گے،جس میں کورونا،18 ویں ترمیم،این ایف سی اور بجٹ پر غور ہو گا،اس وقت ہم عوام کی آواز کو قومی اسمبلی میں پہنچا رہے ہیں،بجٹ کی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک اور دیگر ایشنز پر اپوزیشن مشترکہ فیصلے کریں گے،عالمی ادارہ صحت اور ڈاکٹرز کی حکومت تجاویز کو نہیں مان رہی،وبا کے پھیلا اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،ہمارا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ اس بجٹ کو منظور ہونے دیا جائے،یہ بجٹ کورونا ،ٹڈی دل اور ملکی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے کسی صورت بھی مناسب نہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں تک حکومت کے جانے کا تعلق ہے اس کیلئے ہم تمام آئینی راستے استعمال کریں گے،کسی قسم کا غیر آئینی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا،ہم آئین کی حفاظت کریں گے اور عمران خان سے جان چھوڑانے کیلئے آئین کے تحت جتنے بھی راستے دستیاب ہیں انہیں استعمال کریں گے،اسکے لئے اپوزیشن میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو اس وقت اپوزیشن میں ہے،اس وقت نئے مینڈیٹ کی ضرورت ہے جو اس وقت ملک کو درپیش مشکلات کا حل ہے،موجودہ سیٹپ کا تسلسل اور چلنا ملک کیلئے نقصان دے ہو گا۔بلاول بھٹو زرداری نے خواجہ آصف کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف صاحب نے جو بات کی وہ ہماری پارٹی میں بہت سے لوگوں کی رائے ہے،موجودہ حالات میں اپوزیشن نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا،کورونا وبا پر ہم نے سیاست سے بالاتر ہو کر حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ،مگر اپوزیشن کے تعاون کو کمزوری سمجھا گیا ،موجودہ حالات میں اپوزیشن کو ملکر اور جلدی فیصلے کرنا ہونگے،عوام کی صحت اور زندگی بچانا ہم سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے،کورونا وبا سے لڑنے کیلئے حکومت کے پاس قیادت کا فقدان ہے،اپوزیشن آج اور کل حکومت کو ٹچ ٹائم دیگی۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ملکی سالمیت کا مسئلہ ہے جس پر اپوزیشن متحد ہوئی چئیرمین سینیٹ والا چھوٹا سا معاملہ تھا ،مگر اس وقت ملکی سالمیت پر مسئلہ ہے،جس پر ہم سب متحد ہوئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*