عمران خان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ!!!

تحریر:محمد اکرم چودھری
برادرم حسن نثار کے پی ٹی آئی کی کارکردگی سے دل برداشتہ ہونے کے بعد سے ہم سوچ رہے ہیں کہ ایسی کیا وجہ ہے ملک میں تیسری سیاسی قوت کے حامی بھی مایوس ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آج ہم وزیراعظم عمران خان کے بجائے پاکستان تحریک انصاف والے عمران خان کی ناکامی پر بات کریں گے۔ کیا وجہ ہے بائیس سال کی سیاسی جدوجہد کے بعد جب وہ اقتدار میں آئے ہیں تو ناکامیاں ہی ناکامیاں ہیں۔ وہ عوامی توقعات پر پورا کیوں نہیں اتر سکے، اپنے منشور سے کیوں ہٹ گئے۔ کیوں ملک سے غربت ختم کرنے، ملک کو مضبوط کرنے، وسائل کی یکساں تقسیم اور انصاف کا نظام قائم کرنے کے خواہشمند ملک کے اعلیٰ اعلیٰ دماغ ایک ایک کر کے کیوں عمران خان سے الگ ہوتے گئے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کی نالائقیوں سے تنگ تیسری طاقت کا خواب شرمندہ تعبیر کیوں نہ ہو سکا۔
جب ہم نے حسن نثار کو سنتے ہیں تو انیس سو بانوے کے کرکٹ ورلڈکپ کے بعد شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ نظر آتی ہے اس مہم میں گلی گلی عمران خان کا ساتھ دینے والے اس کے حقیقی دوست تھے جن کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا وہ صرف عمران خان کے نیک مقصد کے ساتھی تھے۔ وہ سب لوگ عمران خان کے ساتھ مل کر عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے تھے۔ وقت گذرتا ہے پھر اپریل انیس سو چھیانوے آتا ہے۔ ہماری نظروں میں دو سو پانچ اپر مال پر پاکستان تحریک انصاف کا منظر گھوم جاتا ہے۔ جہاں عمران خان کے میڈیا سیل میں حسن نثار، مواحد حسین سید، نسیم زہرہ اور ضیا شاہد کے علاوہ بھی کئی اہم اور زرخیز دماغ موجود ہوتے ہیں۔ ان قد آور عملی شخصیات میں سے اس وقت کون کون عمران خان کے ساتھ ہے۔ کوئی ایک بھی نہیں ہے حسن نثار رہ گئے تھے انہوں نے بھی ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔ یہ سب ایسے نام تھے جو صرف عمران خان کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے تھے بلکہ ان سے اختلاف رائے رکھتے تھے ایک ایک کر کے یہ سب لوگ عمران خان کا ساتھ چھوڑ گئے ان کی جگہ کن افراد نے لی اس کا اندازہ آج عمران خان کے دائیں بائیں دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ حمید گل ہوں۔ ہم نے بھی انہی لوگوں کے ساتھ تحریک انصاف کا سفر شروع کیا تھا اور دیکھا کہ ہر قدم پر حفیظ اللہ نیازی کا ساتھ رہا ہے۔ حمید گل بھی تیسری سیاسی قوت کے بہت بڑے حامی تھے۔ ان کے علاوہ بہت سے ایسے لوگ جو عمران خان کی شکل میں تیسری سیاسی قوت دیکھ رہے تھے وہ سب کپتان کی ایمانداری، محنت، جو ش و جذبے، لگن، مضبوط قوت ارادی اور ملک کے عوام کا درد دیکھ کر جمع ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ ابتدائی دنوں میں فاروق اعوان، حاجی محمد ناظم، مردان سے ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر پرویز حسن بھی یاد آتے ہیں۔ یہ سب وہ نام ہیں جنہوں نے بڑی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان سب کا عمران خان کے ساتھ کوئی ذاتی مفاد نہیں تھا جب ان افراد کا ذکر کرتا ہوں تو نواب عاشق قریشی مرحوم بہت یاد آتے ہیں کیا کمال کی شخصیت تھے۔ عمران خان سے کوئی غرض نہیں کوئی مفاد نہیں لیکن ہر لمحہ عمران خان کے ساتھ رہے۔ شوکت خانم کی چندہ مہم سے زندگی کی آخری سانسوں تک وہ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے کاموں میں مصروف تھے۔ نواب عاشق قریشی حقیقی معنوں میں نیک دل انسان تھے وہ عمران خان کے فلاحی کاموں میں ان کا بہت بڑا سہارا تھے اور آخری دم تک وہ ایک مقصد کے لیے عمران خان کے ساتھ جڑے رہے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ یوسف صلاح الدین بھی نمایاں نظر آتے تھے ان کے علاوہ فاروق گولڈی، ذاکر خان اور محمد صدیق تبصرہ بھی ہمیشہ نظر آتے تھے لیکن ان تینوں کا تحریک انصاف کی فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں تھا لیکن یہ کپتان کے ساتھ ساتھ ہی ہوتے تھے۔ اب تو سنا کے صدیق تبصرہ بھی صرف فنڈ ریزنگ کے موقع پر ہی عمران خان سے مل پاتے ہیں البتہ فاروق گولڈی اور ذاکر خان کی ملاقاتیں رہتی ہیں۔ ذاکر خان کرکٹ بورڈ میں ہوتے ہیں وہاں جو حال کرکٹ کا احسان مانی اور ان کی ٹیم نے کر دیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کھیل کے مواقع کم ہونے، ٹیموں کی تعداد کم کرنے اور محکموں کی ٹیمیں ختم کرنے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کرکٹرز کی بڑی تعداد اس فیصلے سے ناخوش اور پریشان ہیں۔ اب ذاکر خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران خان کو بتائیں کہ عوامی سطح پر اس فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے ایسا کرنے کے لیے حسن نثار، مواحد حسین سید، ضیاءشاہد اور نسیم زہرہ جیسی ہمت ضروری ہے۔ حتی کہ سردار ایاز صادق کا شمار بھی عمران خان کے ابتدائی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔
کراچی میں دیکھیں کون لیڈ کر رہا ہے۔ نجیب ہارون کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے فردوس شمیم نقوی بھی مہمان اداکار ہیں اور یاد رکھیں کہ اگر کبھی سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنتی ہے تو فردوس شمیم نقوی کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ عمران خان بائیس سالہ جدوجہد کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان بائیس برسوں میں کون کون ان کے ساتھ کھڑا رہا۔ کون لوگ تھے جو ہر وقت عمران خان کے ساتھ رہے اور اقتدار میں آنے کے بعد وہ سب کہاں ہیں یا اگر اقتدار کی سیاست کرتے کرتے کرتے اگر بانی اراکین اور نظریاتی لوگوں نے ساتھ چھوڑا ہے یا عمران خان نے راستے جدا کیے ہیں تو اس کی کیا وجہ تھی۔ سچ یہ ہے کہ ابتدائی ساتھیوں اور نظریاتی لوگوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا کیونکہ وہ سب لوگ اقتدار کی لالچ میں نہیں بلکہ ملک و قوم کی بہتری کے لیے عمران خان کے ساتھ چلے تھے اور آج وہ سب کہیں پچھلی صفوں میں بھی نظر نہیں آتے۔
اگر عمران خان حکومت میں آنے کے بعد منشور سے ہٹے ہیں، مصلحتوں کا شکار ہوئے ہیں، عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اردگرد سینکڑوں لوگوں میں بانی اراکین اور نظریاتی لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جتنے بھی لوگ ان کے ساتھ یا پاس ہیں وہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھی ہیں۔ اکثریت اقتدار اور عہدے کے لیے ان کے ساتھ ہے جب کہ جن لوگوں کے ساتھ سفر شروع کیا گیا تھا وہ ایک مقصد کے تحت عمران خان کے ساتھ چلے تھے۔ آج وزیراعظم کے حکم پر قوم کو پاکستان ٹیلی ویڑن پر ارطغرل غازی دکھایا جا رہا ہے۔ عمران خان کو وقت ملے تو اس ڈرامے کو دیکھیں اور سمجھیں کہ ارطغرل غازی نے جن دوستوں کے ساتھ سفر شروع کیا تھا وہ لوگ کب تک اس کے ساتھ دکھائے گئے ہیں۔
آج عمران خان کو ایسے ہی مخلص، بے لوث اور باہمت ساتھیوں کی ضرورت ہے۔ ابھی ان کے پاس وقت ہے وہ کم بیک کر سکتے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گذرے گا کم بیک کے امکانات کم ہوتے جائیں گے۔ قوم کو اس تیسری طاقت سے جو امیدیں تھیں وہ عمران خان کی اصل ٹیم کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔ عمران خان کی طرف سے حقیقی دوستوں اور ساتھیوں پر سیاسی دوستوں کو ترجیح دینے سے نوجوان نسل کا نقصان ہوا ہے۔ چلتے چلتے یہ بھی بتاتے چلتے ہیں کہ آئندہ ماہ پنجاب میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے لیے کام کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ تبدیلی بھی ایسی ہو گی کہ سب حیران و پریشان ہو جائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*