شہید کون ہے؟

طیبہ ضیائ
بچپن کے دریچے جب وطن عزیز کے آنگن میں کھلتے ہیں سقوط ڈھاکہ کی تاریک شب کی کچھ دھندلی سی تصویر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے۔ بس یہ یاد ہے ایک جنگ ہوئی تھی گھر کی چھت پر چڑھ کر جنگی طیاروں کی قلابازیاں اور گرتے ہوئے گولے بارود دیکھ کر نعرے لگایا کرتے تھے۔سقوط ڈھاکہ کی خبر کے بعد بزرگوں کو آبدیدہ دیکھا۔ ہماری سہیلی کے ناناکا انتقال بھی اس اداس دن کو ہوا۔انڈیا سے ہجرت کرنے والے اپنی سہیلی کے خاندان کی داستان آج بھی ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں زندہ ہے۔سہیلی کے بقول مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی خبر کی تاب نہ لاتے ہوئے اس کے نانا کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔کم عمری کی وجہ سے پاکستان کے دو لخت ہونے کاپس منظر تو سمجھ نہ آسکا البتہ لاہور گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر اکہتر کی جنگ کی گولہ باری کے مناظر آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔شہر میں بلیک آﺅٹ اور گھر کے تہہ خانے میں بیٹھ کر بھنے ہوئے چنے کھانے کی (حیرانیاں)بھی یاد ہیں۔گھر کی چھت پر جا کر جنگی طیاروں کی گولہ باری دیکھنے کا اشتیاق اور امی کا بچوں کو چھت پر جانے سے روکنا بھی یاد ہے۔
اس زمانے میں ہمارے بڑے بھائی فوج میں میجر تھے ،والدین کا ان کی زندگی کے لیئے دعائیں کرنا بھی نہیں بھول سکتا۔یہ بھی یاد ہے کہ جنگ بند ہو گئی اور یہ بھی یاد ہے کہ پاک فوج کے جوان دشمن ملک کے قیدی بنا لیئے گئے اور جب جوان آزادی کے بعد وطن لوٹ رہے تھے تو ان کے خاندان کے جذباتی مناظر کسی صورت نہیں بھلائے جا سکتے۔ بھائی جان چھٹی پر گھر آتے تو ہم ان کو دیکھ کر ملی نغمے گانا شروع کر دیتے۔ فوجی بھائی کے سامنے ہاتھ لہرا لہرا کر جھوم جھوم کر ترانے گایا کرتی تھی جو آج بھی از بر ہیں۔جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ کے اختتام پر نوّے ہزار پاکستانی فوجی ہتھیار ڈال کر بھارتی قید میں جاچکے تھے۔مشرقی پاکستان دنیا کے نقشے پربنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے نمودار ہوچکا تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت دو حصوّں میں تقسیم ہوگئی۔سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بچپن سے اور وزیراعظم عمران خان کی اسمبلی کی تقریر میں اسامہ بن لادن کبھی مرا اور کبھی شہید کہنے تک ہماری تاریخ کا ہر سانحہ ہر واقعہ کنفیوز اور مشکوک معلوم ہوتا ہے۔بچپن میں ذوالفقار علی بھٹو کا عشق بھی لوگوں میں دیکھا اور ان کی پھانسی پر صف ماتم بھی دماغ کے نہاں خانوں میں پنہاں ہے۔ جنرل ضیا الحق کی ریاست مدینہ کی جھلکیاں بھی بھولنے والی نہیں اور آمریت کا ایک اور طویل شکنجہ بھی دل و دماغ سے محو نہیں ہو سکتا۔بھٹو کی تعزیت کے ووٹ بیٹی نے دوبار کیش کرائے اور اہلیہ کی تعزیت کے ووٹ شوہر نے کیش کرا لئے۔ نواز شریف نے تین بار مسلم لیگ کا نام کیش کرایا اور قاف نے نواز شریف کی جلا وطنی کیش کرائی اور قاف کی وفاداریوں کو مشرف نے کیش کرایا اور ایک مرتبہ پھر طویل آمریت نے پنجے گاڑھ لئے۔جب سب کئی کئی مرتبہ آزمائے گئے عمران خان آدھا ضیا الحق اور آدھا بھٹو بن کر میدان میں اترے۔ دائیں بازو اور بائیں بازو والوں کو یہ مکسچر پسند آیا اور یوں ضیا کی ریاست مدینہ اور بھٹو کے نعرہ غربت نے عمران کو لانے میں مدد کی۔جو بھی آیا نئی تاریخ پڑھانے کی کوشش کی۔
پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی۔ القاعدہ اور کئی قسم کے طالبان کو دہشت گرد تنظیمیں کہا جاتا رہا۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے اسامہ بن لادن کو شہید کہا۔وزیراعظم عمران خان سے سادہ سا سوال ہے کہ اگر آسامہ بِن لادن ” شہید ” ہے تو پھر 6 ہزار فوجی اہلکاراور 70 ہزار پاکستانی عوام کو دہشت گردی کا نوالہ کیوں بنایا گیا؟کنفیوز حاکم وقت اپنی کنفیوز قوم کوبتائیںکہ پاک فوج کے جوان شہید ہیں یا اسامہ شہید ہیں ؟مجاہدین شہید ہیں یا طالبان شہید ہیں ؟وہ جہاد تھا یا دہشت گردی ؟ بچپن سے آج تک پاکستان میں کچھ بھی واضح نہیں ،نسلوں کی نسلیں کنفیوز کر دیں فقط اپنے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر۔۔۔بھٹو بھی شہید کہلائے۔ ضیا الحق بھی شہید کہلاتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو بھی شہید کہلاتی ہیں۔ طالبان بھی شہید ہیں۔ اسامہ بن لادن بھی شہید ہیں۔
تو پھر کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کریں ؟ کنفیوز حکمرانوں نے عوام کو بھی کنفیوز کر رکھا ہے۔ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر حقائق کبھی منظر عام پر نہیں لائے جاتے۔اسامہ بن لادن کے شہید کہنے پر اعتراض نہیں سوال ہمارے جوانوں کی شہادت پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد اور پرعزم ہے۔ فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کو ختم کیا ہے۔
پوری قوم مسلح فورسز اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے۔ بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا ہے اور امن بحال ہے۔
افغانستان میں امریکی آمد کے بعد ہماری سرزمین بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آئی جس سے نہ صرف ہماری معیشت کا بیڑہ غرق ہوا بلکہ جانی و مالی نقصان الگ اٹھانا پڑا۔ پاک فوج نے اس بدترین دہشت گردی سے خلاصی پانے کیلئے سخت اور بلاامتیاز اپریشن شروع کئے جن کے ذریعے دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں کا صفایا کیا گیا۔ ان آپریشنز کے دوران ہمارے پاک فوج کے کئی افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔ آج پوری قوم مسلح فورسز اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے جن کی بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا اور ملک میں امن بحال ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*