کوئی بھی طاقت کشمیریوں کے جذبے کو ختم نہیں کرسکتی،عمران خان

Prime Minister of Pakistan Imran Khan

مظفر آباد(نیوز ایجنسیاں + م ڈ)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقے ترقی نہیں کریں گے اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کرے گا،کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت پر انتہاءمنفی اثر پڑا لیکن ان مشکل حالات کے باوجود ہم نے آزاد جموں و کشمیر کی بجٹ میں سالانہ گرانٹ میں کمی نہیں کی بلکہ اضافہ کیا ہے ۔ اسی طرح وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان، اور بلوچستان کے بجٹ میں بھی نامساعد حالات کے باوجود کمی نہیں کی، آزاد جموں و کشمیر انتظامیہ کی آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے کم کیسز اور وبا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات حوصلہ افزاءہیں وزیر اعظم عمران خان نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز دورہ مظفر آباد کے موقع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا ،وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور، صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے وزرا و سینیئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر نے اجلاس کو آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال، ہسپتالوں میں کورونا وائرس متاثرین کے علاج و دیکھ بھال، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی استعداد کو بڑھانے کے حوالے سے حکومت پاکستان کی طرف سے بھرپور معاونت،وائرس کی روک تھام کے لئے عوام میں ایس او پیز پر عملدرآمد ممکن بنانے کے اقدامات، ہیلتھ کارڈ کی آزاد جموں و کشمیر کے ہر شہری میں تقسیم کو جلد ممکن بنانے، لائن آف کنٹرول کے متاثرین کی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اور مستقبل کے منصوبوں پر عملدرآمد کے حوالے سے روڈمیپ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چیف سیکرٹری نے حکومت پاکستان کی طرف سے وبا کے دوران تکنیکی معاونت اور بروقت سامان کی فراہمی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں آزاد جموں و کشمیر انتظامیہ کو حکومت پاکستان کی طرف سے توقعات سے بڑھ کر مدد ملی جس کے لئے حکومت آزاد جموں و کشمیر حکومت پاکستان کی تہہ دل سے شکر گزار ہے ۔ صدر اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے وزیراعظم عمران خان کی آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی کے لئے دلچسپی اور وفاقی حکومت کی ہر ممکن معاونت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کا شکار ہونے والوں کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کا آزاد جموں و کشمیر کا دورہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم اور بھارتی ریاستی دہشتگردی کے شکار بھائیوں سے اظہار یکجہتی کا عکاس ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال ملک کے دوسرے علاقوں کے لحاظ سے کافی حد تک کنٹرول میں ہے جو حوصلہ افزا ہے۔ وزیراعظم نے کورونا وائرس کی آزاد جموں و کشمیر میں مناسب صورتحال کے باوجود بوڑھے اور بیمار لوگوں کے سمارٹ لاک ڈاون کے ذریعے تحفظ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ خوف اور سنسنی خیزی کی حوصلہ شکنی جبکہ حفاظتی تدابیر اور ایس او پیز پر عملدرآمد ممکن بنانے کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم ناگزیر ہے ۔وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر انتظامیہ کی آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے کم کیسز اور وبا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بڑی عید کے تناظر میں احتیاط برتنے کی اہمیت پر زور دیا۔کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت پر انتہاءمنفی اثر پڑا لیکن ان مشکل حالات کے باوجود ہم نے آزاد جموں و کشمیر کی بجٹ میں سالانہ گرانٹ میں کمی نہیں کی بلکہ اضافہ کیا ہے ۔ اسی طرح وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان، اور بلوچستان کے بجٹ میں بھی نامساعد حالات کے باوجود کمی نہیں کی ۔ ہمیں احساس ہے کہ جب تک پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقے ترقی نہیں کریں گے اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کردی ہے،بھارتی فوجیوں کی ایل او سی کے خلاف بلا امیتاز و اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا ادراک ہے،ہمیں ایل او سی پر رہنے والے شہریوں کی مشکلات کا علم ہے،مودی کی سوچ ہٹلر کی سوچ ہے ،وہ ایک نارمل انسان نہیں ،مقبوضہ کشمیر میں روز کشمیریوں کو شہید کیا جاتا ہے ،کوئی بھی طاقت کشمیریوں کے جذبے کو ختم نہیں کرسکتی،آزاد کشمیر میں 12 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیا جائےگا جس کے تحت 10 لاکھ روپے تک علاج مفت ہوسکے گا۔جمعہ کو یہاں لائن آف کنٹرول کے رہائشیوں کے لئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے مستحقین میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کئے، آزاد جموں و کشمیر کے صدر، وزیراعظم، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر اور وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر بھی تقریب میں موجود تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں لائن آف کنٹرول پر مشکل حالات میں زندگی گزارنے والے شہریوں کی مدد پر خوشی ہے، احساس پروگرام کے تحت ایک لاکھ 38 ہزار خاندانوں کو امداد دی جائے گی جبکہ آزاد کشمیر میں 12 لاکھ خاندانوں کو صحت انصاف کارڈز فراہم کئے جائیں گے اور اس طرح پورے آزاد کشمیر میں تقریباً تمام لوگوں کو یہ سہولت میسر آئے گی جس کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک علاج کرایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت انصاف کارڈز انضمام شدہ اضلاع کے تمام افراد کو دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود آزاد جموں و کشمیر، انضمام شدہ اضلاع، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے لئے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کہاں کس جماعت کی حکومت ہے، ہمارے لئے جتنا بھی ممکن ہو سکا ہم مدد کریں گے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی انتہا پسند حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی ہے، نوجوان لڑکوں کو جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے جبکہ پیلٹ گنز کا استعمال بھی جاری ہے، کشمیریوں پر 8 لاکھ فوج مسلط کر رکھی ہے، مودی حکومت نے منصوبہ بندی کے تحت مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر بھی مسلمان ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں، آر ایس ایس ہٹلر کی نازی سوچ کی پیروکار ہے اور ہندو بالادستی کے نظریئے کے ساتھ مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں، سکھوں اور دیگراقلیتوں کو بھی دوسرے درجے کے شہری بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ سوچ خود بھارت کی تباہی پر مبنی ہے اور اس بارے میں بھارت کے باشعور لوگ بھی فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی تحریک آزادی کو طاقت کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا، کشمیر کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کشمیریوں کا وکیل بن کر پوری دنیا میں ان کا مقدمہ پیش کیا جبکہ دنیا کو ہندوستان پر قابض خطرناک سوچ کے بارے میں بھی آگاہی دی۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہاں آزاد مارچ کے نام پر ہماری اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، ہم نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا، اس سلسلے میں 5 اگست سے قبل اندرون و بیرون ملک بھرپور تیاریاں کی جائیں گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*