طلبا ءو طا لبات کی گر فتا ری

صوبائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں صو بے کے اکثر علا قو ں میں نیٹ ور ک کی سہو لت نہ ہونے کے خلا ف طلبا ءاور طا لبا ت نے احتجا جی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سا منے لگا یا تھا گذشتہ رو ز طلبا ءو طا لبا ت نے ریلی نکا لی جسے ٹیکسی سٹینڈ کے قر یب پو لیس نے نہ صر ف رو ک لیا بلکہ 60 طلبا ءاور 6 طا لبا ت کو گر فتا ر کر کے شہر کے مختلف تھا نو ں میں منتقل کردیا اس وا قعے کیخلا ف بلوچستا ن کی سیا سی جما عتو ں اور دیگر رہنماﺅ ں نے شد ید احتجا ج کر تے ہوئے اسے بلوچستا ن کی قبا ئلی رو ایا ت کے منا فی قرار دیتے ہوئے اس کی شد ید مذمت کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستا ن جا م کما ل خان نے اپنے ایک ٹو ئیٹ میں وا ضح کیا کہ پو لیس کو حکومت کی جا نب سے ایسی کوئی ہد ایا ت نہیں دی گئی تھیں اس طرح انہو ں نے را ت گئے تما م گر فتا ر شد ہ طلبا ءوطا لبا ت کو رہا کرنے کے احکا ما ت دیئے اور اس سلسلے میں ایس پی سٹی عبد اللہ خا ن کو عہد ے سے ہٹا لیا اور واقعے کی تحقیقا ت کرنے کا حکم دیا گیا۔
صوبائی وزیر دا خلہ میر ضیا ءلا نگو نے بھی پو لیس کی جا نب سے طلبا ءپر تشد د کرنے کے واقعے کا نو ٹس لیتے ہوئے یقین دلا یا کہ واقعے میں ملو ث اہلکا رو ں کو سخت سے سخت سز ا دی جائے گی اور متا ثر ہ طا لبا ت کے سا تھ پو ر ا انصا ف کیا جا ئے گا پو لیس کا کام شہر یو ں کے جا ن و ما ل کا تحفظ کر نا ہے انہو ں نے آئی جی پو لیس بلوچستا ن کو وا قعہ کی صا ف شفا ف اور غیر جا نبد ار انکو ا ئر ی کر کے ر پو رٹ پیش کرنے کی بھی ہد ایت کی۔
صو بائی دا ر الحکومت کوئٹہ میں پیش آنے والا مذکو رہ وا قعہ افسو سنا ک ہے جس میں نہتے طلبا ءو طا لبا ت کو محض ایک جا ئز مطا لبے کے حق میں نکا لی گئی ریلی کے دوران گر فتا ر کر کے ان پر تشد د کیا جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا تا ہے کہ پو لیس نے اپنے فر ائض سے غفلت بر تی ہے اس کا کا م شہر یو ں کے جا ن و ما ل کا تحفظ کر نا ہے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا وا قعے میں طا لبا ت کو گر فتا ر کرنا قا بل مذمت اقد ام ہے کیو نکہ یہ اسلامی اخلا قی اور قبا ئلی رو ا یا ت کے بر عکس اقد ام ہے انہو ں نے ریلی نکا ل کر اتنا بڑ اجر م نہیں کیا تھا جس پر ان کو گر فتا ر کیا گیا جیسا کہ او پر در ج کیاگیا ہے کہ مذکو رہ طلبا ءو طا لبا ت نے صو بے کے مختلف علا قو ں میں انٹر نیٹ کی سہو لت نہ ہونے کے خلا ف احتجا ج کیا آج کل کو رونا وا ئر س کے باعث تعلیمی ادا روں نے ادا رے بند ہونے کے باعث آن لائن کلا سز شر وع کی ہوئی ہیں اب آن لا ئن کلا سز تو اس وقت فا ئد ہ مند ہو ں گی جب انٹر نیٹ کی سہو لت مو جو د ہو گی اس طرح طلبا ءو طالبا ت کو ایک جا ئز مطا لبے کے خلا ف احتجا ج کرنے کی پا دا ش میں گر فتا ر کیا گیا۔
اس لیے یہا ں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو پو لیس اور دیگر ادا رو ں کو ایسے اقد اما ت کرنے سے روکنا چا ہیئے ان کو اپنا قا نو ن بنا نے کی اجا ز ت نہیں دینی چا ہیئے کیو نکہ ہما رے ہا ں یہ بد قسمتی ہے کہ پو لیس والے اپنے سو ا دیگر شہر یو ں کو مجر م سمجھتے ہیں اگر وہ کوئی چھو ٹی سی غلطی کر بیٹھیں ان کو اپنی عد الت لگا کر بد تر ین تشدد کا نشا نہ بنایاجا تا ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ صو بے میں امن و اما ن کے قیا م میں پو لیس کی بڑی قر با نیا ں ہیں ان کے جو انوں نے جانوں کی قر با نیا ں بھی دی ہیں حکومت اور متعلقہ حکام کو محکمے میں اس سلسلے میں اصلا حا ت لانے کے لیے اقد اما ت کر نے چاہئیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*